بے حسی کا شیش ناگ پھن پھیلا رہا ہے..

194

ماں باپ، بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم وتربیت اور معاشرے میں باوقار منزل کے قابل بننے تک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کی قدم قدم پر رہنمائی کرتے ہیں، اسے زمانے کے ہر سرد و گرم سے بچاتے ہیں، بولنا، دوڑنا اور سنبھلنا سکھاتے ہیں۔ بچے کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور اس کی بیماری میں ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ بچے کے سائبان بننے کی خاطر خود سارا سارا دن کڑی دھوپ میں جلتے ہیں، مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ گویا اس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیتے ہیں، لیکن صد افسوس کہ جب وہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ اس وقت ان کو اولاد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس وقت وہ خدمت اور سکون کے محتاج ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کی بے حسی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک بار ہمارے ملک کی عظیم ہستی عبدالستار ایدھی (مرحوم) سے پوچھا گیا، آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفن کی ہیں، کیا کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد دیکھ کر رونا آیا تو انہوں نے آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے منفرد انکشاف کیا کہ ” تشدد یا لاش کی بگڑی حالت تو نہیں، ہاں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کرآئے جوتازہ انتقال کئے بوڑھے شخص مگر کسی پڑھے لکھے اورکھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی۔ اس کے سفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا اورسلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی۔ دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقارلگ رہی تھی مگرتھی وہ اب صرف ایک لاش۔

ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے، ہمارے پاس روزانہ سینکڑوں لاشیں بھی لائی جاتیں، مگرایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑجائے کم ہی آتی ہیں۔ اس لاش کو میں غورسے دیکھ رہا تھا کہ میرے رضاکار نے جیسے بم پھوڑ دیا، اس نے کراچی کے ایک پوش ایریا کا نام لے کر کہا کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے توایک ٹیکسی میں سوارفیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجوان برآمد ہوا اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولایہ تدفین کے اخراجات ہیں۔ پھروہ خود ہی بڑبڑایا یہ میرے والد ہیں، ان کا خیال رکھنا، اچھی طرح غسل دے کر تدفین کر دینا۔ اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی تمہاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی۔ جانو پلیز۔۔۔! یہ سنتے ہی نوجواں پلٹا اور مزید کوئی بات کئے، ٹیکسی میں سوار ہو گیا اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔

ایدھی صاحب بولے اس لاش کے متعلق جان کرمجھے بہت دکھ ہوا اور میں ایک بار پھر اس بدقسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو واکئے مجھ سے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں۔ میں نے فورن فیصلہ کیا کہ اس لاش کوغسل بھی میں خود دوں گا اور تدفین بھی خود کروں گا۔

پھرجونہی غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کو دیکھ کرمیں سوچ میں پڑ گیا، جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہو گا کہ اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا کیا نازونعم نہ اٹھائے ہونگے مگر بیٹے کے پاس تدفین کا وقت بھی نہ تھا۔ اسے باپ کو قبر میں اتارنے سے زیادہ فلائٹ نکل جانے کی فکر تھی۔ اور یوں اس لاش کوغسل دیتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے۔ پھر وہ اپنے کندھے پر رکھے کپڑے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولے، اس دن ایدھی انسانیت کی ڈوبتی اقدار پر اور بڑھتی معاشرتی بے حسی پر روپڑا تھا۔

آج کے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سی جگہوں پر اولاد والدین کے معاملہ میں بڑا سخت رویہ رکھتی ہے، ماں باپ اگر نصیحت کریں تو قطعاً نہیں مانا جاتا۔ ایسے نافرمانوں کو اپنی پیدائش کے مراحل کو یاد کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ والدین نے کس طرح اسے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا، اس کی پرورش کی اور والدین کی عظیم خدمات کی بدولت آج اسے یہ مقام و مرتبہ ملا ہے۔

انسان کے لیے سب زیادہ مخلص اس کے والدین ہوتے ہیں جو کہ خود سارے دکھ اور پریشانیاں جھیلتے ہوئے نہ صرف اولاد کی پرورش کرتے ہیں بلکہ اسے ترقی کی اعلیٰ منازل پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج ہمیں اپنی ٹھاٹھ کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت اور انجام کو بھی یاد رکھنا چاہیے، بلاشبہ آج جو ہم بوئیں گے کل وہی کاٹنا ہے، وہ نفرتیں ہوں یا محبتیں، احساس ہو یا بے حسی ….!

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.