چلو اس عید، چُرا لیں آنسو کسی کی آنکھوں سے!

490

چلو اس عید۔ ۔ ۔
!چُرا لیں آنسو کسی کی آنکھوں سے

،عیدالضٰحی آئی ہے کیسی دھوم دھام سے
مناتے ہیں مسلمان اسے بڑی شان سے
،کہیں بنتی ہے کلیجی
تو کہیں سرِی پائے
،مزے، مزے کے پکوان
یہ عید دستر خوان پر لائے

ہلکے، پھلکے رنگوں کی
،پوشاک ہے پہنی جاتی
بچوں کے ہاتھ مویشیوں پر
مہندی لگائی جاتی

ہنسنا، ہنسانا
ملنا، ملانا
پر دیکھو یہ نہ بھول جانا
،رکھنا خیال اُنکا
جو ہیں نادار
،بے بس و مجبور
!اور لاچار

دے دینا دسترخوان پر
تھوڑی سی جگہ اُنکو
دینا گوشت کے کچھ حصّے
ہو ضرورتِ خوراک جنکو

اور جو گر کر نہ سکو کچھ
تو گلے بڑھ کے ملِ لینا
،دستِ شفقت یتیموں
کے سر پر رکھ دینا
،بُھلا کر ساری ناراضگیاں
پہل کرکے ملِ لینا
،جو چاہو خود کی معافی
!تو سیکھو معاف کرنا

آیا دل میں خیال
،دیکھا جو عید کا ہلال
مٹ جائے ہر دکھ زمانے سے
،جو کر لیں سب
سب کا خیال

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.