عیدِ قرباں پر ضمیر کی قربانی

615

پرسوں عید قرباں ہے، بازاروں میں جانوروں کی خریداری کے لئے رش کا سماں ہے لیکن ہم نے ابھی تک بکرا نہیں خریدا ( بات جعمرات کی شام سے قبل کی ہے ، اب بکرا خرید کر ہی یہ مضمون لکھ رہے ہیں) ۔ بھئی کیا کریں ہم تو اس انتظار میں تھے کہ کوئی چھوٹا موٹا بکرا 20 ہزار تک تو مل ہی جائے گا کیوں کہ ایک توہم ٹھہرے شوہر اور اس پر تنخواہ دار ملازم۔ نہیں آپ بالکل غلط سمجھے تنخواہ دار ملازم ہم حکومت پاکستان کے ہیں۔

خیر تنخواہ آگئی لیکن اب یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ نہ تو انکریمنٹ لگا نہ ہی ملا بونس بلکہ الٹا دھمکی ملی کہ 55 سال کی عمر تک ریٹائر کر دیں گے۔ پریشانی کی بات نہیں ابھی ہماری عمر 50 کے لگ بھگ ہے لیکن آخر ہم نے بھی دفتر کی ٹینشن کہیں نکالنی ہے، بیگم کو جھاڑ پلانی اور بچوں کو آنکھیں بھی دکھانا ہیں کیونکہ یہ کام بھی ضروری ہے۔

قصہ مختصر اپنے تین عدد بچوں کے ہمراہ مویشی منڈی میں ایک ہزار کا پٹرول پھونک کر جو پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں تو کوئی بکرا 40 ہزار سے کم کا نہیں۔ بہت ترلے منتیں کیں تو بکری نما بکرے کا سودا 35 ہزار میں ہوا لیکن اب کوئی نئی مصیبت ہماری راہ نہ دیکھے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا ۔

ہمارے بڑے بیٹے کا موڈ آف، ’’ابو اتنا ویک اینیمل، یہ ہم نے نہیں لینا۔ کوئی اور نہ دیکھ لیں۔‘‘( بھئی آج کل کے بچے انگریزی دان ہیں ) اب ہم اپنے صاحب زادے کو کیا بتاتے کہ یہ مویشی منڈی ہے، لان کے کپڑے خریدنے کے لئے سیل نہیں لگی ہوئی کہ ایک پرنٹ پسند نہ آئے تو دوسرا نکلوا لو۔ ’’ابو ابو رہنے دیں ہم مرغی لے لیتے ہیں، مجھے مٹن نہیں پسند۔‘‘ اب بولے محب صاحب۔ مشکل سے اسے یہ سمجھایا کہ بیٹا مرغی کی قربانی نہیں ہوتی، صرف بیل، اونٹ، بکرے اور بھیٹر۔’’ ابو رہنے دیں اسے کیا پتہ، یہ تو صرف چکن ہی کھا سکتا ہے اور تو اور محب تمھیں پتہ ہے کہ اس دن ماما نے تمھیں مٹن، چکن کہہ کر کھلا دیا تھا۔‘‘

مدثر نے قہقہ لگایا، بس اب لڑنے کی باریاں شروع ہو گئیں، کبھی ایک دوسرے کو کچھ کہہ رہا، کبھی پہلا تیسرے کو گھونسے مار رہا۔ ’’ چپ کرو خدا کا واسطہ ایک منڈی سے نکلے ہیں اور تم لوگوں نے اپنی منڈی بنا لی ہے، خبردار جو میں نے اب کسی کی آواز سنی تو۔ ‘‘

پھر جب سب خاموش ہوئے تو گاڑی میں پیچھے بکرے کو بٹھانے کی کوشش کی گئی اور شکر کا کلمہ پڑھا گیا۔ لیکن قدرت کو ہمارا امتحان مقصود تھا ۔ تیسرے بیٹے نے فریاد کی ’’ابو بکرا میرے پاس پاس آرہا ہے، آپ مدثربھائی کو پیچھے بھیجیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ اسکو گاڑی کے اندر سے ہی اگلی سیٹ پر گھسیٹ کر کام آسان کیا۔ لیکن تینوں بچے گاڑی میں ساتھ لا کر کچھ ہی دیر میں ہمیں احساس ہو گیا کہ کاش ہم بھی وزارت بہبود آبادی کے مشوروں پر عمل کر لیتے اور اپنی آبادی کو ہی محدود کر لیتے تو آج بکرے سمیت ہمارے صرف تین بچے ہوتے کیوں کہ سب کے سب ایک جیسی بے بے کر رہے تھے۔

اللہ اللہ کر کے جو مویشی منڈی سے نکلے تو مدبر نے شور مچا دیا ’’ میں نے سنکجبین پینی ہے سب لوگ ادھر پی رہے ہیں۔‘‘
’’ بیٹا ضروری نہیں کہ جو کام سبھی کر رہے ہیں وہ آپ بھی کریں ۔ دیکھو تو سہی کتنا رش ہے وہاں اور کتنی مکھیاں بھی۔ گندے شربت نہیں پیتے۔ گنے کی مشین بالکل صاف نہیں ہے، آپ دیکھو تو۔۔۔ چلو گھر چلیں۔‘‘ میں نے کہا ۔

گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ دروازے پر ملیں۔ ’’ہائے مل گیا بکرا، یہ تو بہت چھوٹا سا ہے، اچھا شاید آپ مذاق کر رہے ہیں، ذرا ہٹیں تو شاید اسی طرح کا ایک اور بھی لائے ہیں، مجھے سرپرائز دینے کے لئے۔ ‘‘

’’ جی نہیں ماما ، یہ ایک ہی بکرا ہے جو اتنا مہنگا آیا ہے۔‘‘ مدثر نے کہا۔ اب رہ گئی تھی بیگم کی باری سو وہ بولنے لگیں ’’آپ کو کہا بھی تھا کہ اچھا بکرا لے کر آئیں کہ میرے میکے والوں کی عید کے دن دعوت ہے، لیکن مجال ہے جو میری عزت کا خیال ہو، اب انھیں میں گردے کپورے کھلانے سے تو رہی۔ اپنی ماں بہنیں ہوتیں تو آپ نے تو باربی کیو کر لانا تھا۔ لیکن آپ بھی یہ سن لیں کہ میں آدھے بکرے کا قیمہ کروائوں گی ، لیگ روسٹ بھی ہو گی، سری پائے بھی بنیں گے اور چانپیں بھی ۔‘‘

اتنی لمبی تقریر کے دوران مجھے یہی مناسب لگ رہا تھا کہ میں خاموشی سے ہینڈ فری کانوں میں لگا لوں۔ اب بیگم کی آواز تو مجھے نہیں آ رہی تھی لیکن میرے ضمیر کی آواز مجھے جھنجھوڑ رہی تھی کہ بیگم نے سب بکرا گھر پر ہی کھانے کا پلان بنا لیا ہے، غربیوں کے حصے کی کیا کوئی بات نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا کیونکہ بلا کا گوشت خور تو میں بھی ہوں اس لئے تمام گھر والوں کیساتھ میں نے بھی اپنا ضمیر سلانے میں عافیت جانی، آپ بُرا مت مانئے گا یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.