قومیں عظیم کیسے بنتی ہیں…

357

کسی بھی چیزکے دو رخ ہوا کرتے ہیں، مبثت اور منفی، انسان چاہے تو اس سے گوہر نایاب حاصل کرے یا تو اس کے استعمال سے انجامِ ابلیس تک پہنچ جائے۔ کورونا نے دُنیا کو ڈیجیٹل کر دیا، نظام تعلیم اب آن لائن کی طرف آ رہا، منوں بھاری بستوں کی جگہ سوشل میڈیا لے رہا ہے۔ جدید ٹکینالوجی نے زندگی سہل کر دی، شومئی قسمت ہم اس کے منفی استعمال سے معاشرہ کو بگاڑ رہے ہیں۔ دوسروں اور اپنی زندگی، اخلاقیاب، تہذیب و تمدن، برداشت، تحقیقی مواد، شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا ہمارا وطیرہ بنتا جا رہا ہے، آزادی رائے کی آڑ میں انسانیت کی تذلیل ہونے لگی جس سے سوشل میڈیا داغ دار ہونے لگا ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی و فروغ اور سوشل میڈیا بھی خوب ہے، اس نے دنیا کو گلوبل ویلج بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس نے رابطوں میں باہم معلومات کے تبادلوں کی نئی راہیں کھولیں اور ان سے مستفید ہونا آسان بنایا، اب عوام کی اکثریت مختلف کتابیں اور اخبار اکثر آن لائن ہی پڑھ لیتے ہیں اور قیمتی علمی خزانوں کو مختلف سائٹس سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی کرلیتے ہیں، چھوٹے سے چھوٹے میموری کارڈ یا یو ایس بی میں قدیم زمانے کی ایک معقول لائبریری سما سکتی ہے۔ جسے آپ ہمہ وقت بآسانی اپنے ہمراہ لیے گھوم سکتے ہیں۔

یہ ایجادات انسانی کمالات کی انتھک محنت کا نتیجہ ہیں، شعورکی آنکھ کھولنے کے بعد سائنسی انکشاف سے بھرپور انسان کی ایک پوری قابل شک تاریخ ہے۔ یہ انسان کی ہمت، عزم، حوصلے اور ارادے کی عظیم داستان ہے، اس داستان کے اصل ہیرو وہ جوہر قابل ہیں جنھوں نے تحقیق و انکشافات کے میدان میں اپنی زندگیاں کھپا دیں۔ غوروفکر کے میدان میں دن رات ایک کر دیئے، وقت کی قدر کی اور قیمتی وقت کا خیال اور فضول کاموں کو گناہ سمجھا، دُنیاکوگل وگلزار بنایا اور خود گوہر نایاب قرار پائے، سائنس دانوں، دانشوروں اور مفکرین کی ایک طویل فہرست ہے۔

جس نے کائنات کو مسخرکرنے کی جُہد مسلسل کی اور اپنی ایجادات کے ثمرات سے دنیا کو مستفید ہونے کا شرف بخشا، ان عظیم انسانوں کی زندگیاں ہمیشہ عام انسانوں سے مختلف رہیں، ان کی سوچیں دنیا کی سوچوں سے قطعی ہٹ کر تھیں، ان کے انداز غوروفکر کا میدان اور ذہن رفتارِ زماں و مکاں کی قید سے آزاد تھا، ان کی عادتیں اور ارادے بھی دوسرے عام انسانوں کی نسبت الگ منفرد وممتاز تھے۔

تعلیم و تبادلۂ معلومات، افکار ونظریات کی تبلیغ و تشہیر اور پوری دُنیا کے حالات و واقعات سے آگہی کی مسافتوں کو بھی سمیٹ دیا ہے، اس کا استعمال اب خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک چیلنج اور امتحان بن گیا ہے جہاں نفسِ امارہ کے ہوتے ہوئے اور خوفِ خدا اور خوفِ آخرت کے نہ ہوتے ہوئے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں کی نوجوانیاں بے راہ روی اور شیطانی چالوں کا شکار ہوجاتی ہیں اور اگر عزمِ مصمم کے ساتھ انتہائی درجہ کی احتیاط وتدابیر نہ اختیار کی گئیں تو اس کا استعمال کنارہ جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔

انسان کی خوبی یہ ہے کہ وہ لغو باتوں اور بے کار کاموں سے خود کو حتی الامکان و حتی المقدور بچائے اور محفوظ کرے، مائیکرو سافٹ کے بانی اور دُنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں سب سے قابل ذکر شخصیت بل گیٹس کا ایک اہم بیان تھا جس میں بل گیٹس نے اپنے بیسٹ کیریئر کا راز بتاتے ہوئے ایڈوائس کیا کہ

“مجھے اپنا کام اس لئے پسند ہے کیونکہ اس سے مزید علم سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور اردگرد ایسے ذہین و فطین لوگ موجود رہتے ہیں جو کچھ نیا سوچتے اور نئی چیزیں متعارف کرواتے ہیں۔ یہ حقیقت مجھے مسحور رکھتی ہے کہ یہ لوگ ایسی چیزیں ایجاد کرنے کی لگن رکھتے ہیں جو حیات انسانی میں انقلابی تبدیلی لاتی ہیں۔ اگر کچھ نیا نہ ہو رہا ہو تو وہ وقت کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ “

یہ سوچ مسلسل ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ جو کام مسلمانوں کو کرنے کا حکم تھا وہ غیر مسلم کررہے ہیں اور ہمارے اہل علم ، دانشوروں اور مفکرین کی اکثریت بے کار اور فضول باتوں اور کاموں میں الجھی ہوئی ہے، ایسی لغو باتیں اور بے ہودہ وغیر مفید کام جس سے انسانیت کا کوئی فائدہ متوقع نہیں، ہماری زیادہ تر توانائیاں منفی سرگرمیوں میں جھونکی جارہی ہیں، باہمی اختلافات اور فرقہ بندیوں نے ہمیں باہم دست وگریباں کر رکھا ہے، نادانی کی انتہا کا عالم دیکھیے کہ دشمن سے زیادہ ہم خود ایک دوسرے کو غیر محسوس انداز میں نقصان پہنچا رہے ہیں، ہماری اکثریت بے مقصد و بے فیض زندگی بسر کر رہی ہے جب کہ ہماری نسبت دُنیا کی دیگر ترقی یافتہ اور مہذب اقوام ایک با مقصد زندگی پر کاربند معلوم ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ترقی و سہولیات میں مسلمانوں سے کہیں آگے ہیں اور ہم درحقیقت آج ان ہی کی ایجاد کردہ اور فراہم کردہ سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کی برکات سے بہرہ مند اور فیضیاب ہو رہے ہیں حالانکہ یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم اس امت کے قائد ہونے کا فرض ادا کرتے جسے دُنیا والوں کو نفع پہنچانے کے لیے میدان میں لایا گیا تھا اور نیکی و احسان کرنے کے لیے ہدایات کی گئی تھیں۔ ہماری تمام تر توانائیاں درست سمت میں استعمال ہونے کی بجائے غلط رخ پر ضائع ہورہی ہیں۔

دُنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی بلند مقصد ہو اور وہ اس کو پانے کے لیے جانیں تک کھپا دیں، ایسے ہی عظیم افراد سے قوموں کو نئی زندگی ملتی اور ملکوں کی تاریخ بنتی ہے، قوموں کی زندگی کے چراغ روشن رہتے اور آنے والی نسلیں ان پر فخر کرتی ہیں، دُنیا میں جو لوگ عزت و شہرت حاصل کرتے ہیں ان کی زندگی شروع ہی سے عام آدمیوں سے مختلف ہوتی ہے، کچھ حاصل کرنے کے لیے اپنی صحت داؤپر لگانا پڑتی ہے۔

لوگ بڑے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اپنی محنت، جد وجہد اور بے پناہ ایثار و قربانی کے بعد آخرکار دُنیا سے اپنی شخصیت کا لوہا منوالیتے ہیں ایسے لوگوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی، ہمت بلند ہو اور یقین کامل کہ جس مقصد کو لے اٹھے ہیں وہ ہر لحاظ سے درست ہے تو معمولی سامان سے بھی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انسان کو اس کی کوشش کیمطابق ہی ملتا ہے، صحبت ہمیشہ انسان کو متاثر کرتی ہے کامیاب انسان بننے کے لیے کامیاب لوگوں کی صحبت اختیارکرنا لازمی ہے، اچھی عادتیں انسان کو اچھا اور بُری عادتیں انسان کو بُرا بنادیتی ہیں۔

جاہل اگر دانش وروں کی صحبت میں بیٹھیں تو رفتہ رفتہ ان میں علمی خصوصیات پیدا ہونے لگتی ہیں، غیر صحت مندانہ عادات کی اقوام صحت مندانہ صلاحیتیں رکھنے والی اقوام سے میل ملاپ اور تعلقات و قربت کی بدولت صحت مندانہ عادات کی مالک ہوجاتی ہے، جو قومیں خود اپنی زندگی کا محاسبہ کرتی اور ان کے افراد خود اپنا احتساب کرتے ہیں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتیں بلکہ کامیابی کی ایسی عظیم منازل طے کرتی ہیں کہ تمام دُنیا والوں کے لیے مشعل راہ و مینارۂ نور کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں، فرد سے افراد، افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے اقوام تشکیل پاتی ہیں۔اس لیے اسلام نے اپنا محاسبہ کرنے کی تلقین کی۔ دوسروں کی عیب جوئی اور عزتیں اچھالنے سے بہتر ہے ، خود کو بہتر کریں، معاشرہ بہتر ہو جائے گا۔

یوں ہر قوم ہی زندگی گزارتی ہے لیکن زندہ رہنے اور جینے میں بڑا فرق ہے اور پھر کامیابی کے ساتھ جینے میں تو بہت ہی فرق ہے، ایک کامیاب قوم کے اوصاف میں وقت کا بہتر استعمال، کاہلی سے بچنا، بہتر منصوبہ بندی، شخصیت سازی، حق گفتگو، افراد کار سے تعلقات، ٹیم ورک، تفویض امور اور کئی انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں کے معاملات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، خود احتسابی کسی بھی قوم کے لیے اﷲ کا سب سے بڑا تحفہ ہے جو اس میں صبح بیداری سے رات سونے تک کا ذمے دارانہ لائحہ عمل سکھاتی ہے کہ دن بھر جو وقت گزارا کیا اس کا صحیح مصرف ہوا۔

کہیں وہ بے کار تو نہیں گیا؟ کیریئر پلاننگ، اجتماعی، دفتری زندگی، عملی میدان اور انفرادی صلاحیتوں کی نشوونما اور ٹائم مینجمنٹ ایک فن ہے اور اس فن پر عبور کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ ایسی کنجی ہے جس قوم کے پاس ہو اس میں بل گیٹس جیسے کامیاب لوگ جنم لیتے ہیں، یہ وہ گر ہیں جن پر عمل زندگی کی کایا ہی پلٹ دیتا ہے۔

زندگی میں کامیابی کے لیے زندگی گزارنے کے عظیم اصولوں کے صحیح ترین استعمال کا زریں لائحہ عمل اختیار کرنا نہایت ضروری ہے جن کی مثال ہمیں کامیاب شخصیات کی زندگی میں بخوبی اور بدرجہ اتم نظر آتی ہے اور منظم متوازن، موثر، مستعد اور بامقصد زندگی کے حامل شخصیات کو کامیابی خود تلاش کرتی ہے، یہی کامیابی آپ کی منتظر بھی ہوسکتی ہے۔ عظیم انسان ہی مہذب اقوام کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جن کے پاس راہبر برحق ہیں ، ہمیں اصول زیست بھی دیے گئے ، ہم شترِ بے مہار نہیں ہیں ، آج نہیں تو کل حساب دینا ہو گا۔ احتیاط کیجیے ! سوشیل میڈیا دو دھاری تلوار ہے ، درست استعمال کر کے زیست سہل بنائیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.