احتسا ب ہی کر لیتے..!

544

انتخابی نعرے، دعوے، وعدے اور بہت ساری توقعات مگر ان سب کے بعد ہوا کیا ؟ پاکستانی عوام کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا مگر کیوں، عمران خان اور ان کی پارٹی بھی ماضی کی دیگر سیاسی جماعتوں کیطرح میدان میں اترے تو عوام نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اقتدار میں آنے کا موقع فراہم کیا۔ مگر بد قسمتی سے اس بار بھی نتیجہ پہلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں نکلا۔ عمران خان سے لوگوں نے توقعات اس لیے وابستہ کی تھیں کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ عمران خان ایک روایتی سیاستدان نہیں ہیں اور وہ موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے ۔ لوگ عمران خان کو ایک مسیحا سمجھ رہے تھے اور وہ سب اپنی دانست میں صحیح خیال کر رہے تھے۔ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے سیاسی نظام میں تبدیلی کی بات تو کرتے ہی تھی لیکن سب سے بڑا دعو’ی احتساب کا تھا۔

وہ اقتدر میں بیٹھے لوگوں کے ذاتی کاروبار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے اور اس عمل کو مفادات کا ٹکراؤ کہا کرتے تھے ۔ ہوا یوں کہ عمران خان ایک طویل عرصے تک ایک بیانیہ تو عوام کے سامنے پیش کرتے رہے لیکن جب اس بیانیے پر عملدرآمد کا وقت آیا تو یہ موقف سامنے آیا کہ سیاسی نظام پہلے سے کچھ اسطرح کا تھا کہ آپ چاہے کتنے ہی ایماندار کیوں نہ ہوں، آپ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں اور یہاں تک کہ آپ کتنے ہی بااصول کیوں نہ ہوں، کسی بھی صورت آپ ان وڈیروں، سرمایہ کاروں، جاگیر داروں اور صنعت کاروں کو اپنے ساتھ ملائے بغیر کسی بھی طرح طاقت کے ایوانوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ عمران خان ماضی میں اگرچہ ان سب لوگوں کے سخت خلاف تھے لیکن اقتدار میں آنے کے لئے ان کو اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔ ایسا کرنا اُن کی مجبوری تھی کیونکہ وہ سیاسی نظام میں تبدیلی کے خواہاں تھے اور اقتدار میں آئے بغیر یہ تبدیلی ناممکن تھی۔

اس بات سے عوام و خواص بھی واقف ہو چکے کہ ایک خاص طبقہ ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اقتدار میں آتا رہا ہے۔ شروع شروع میں جب نوازشریف، آصف علی زردا ی اور دیگر پر کرپشن کے مقدما ت بنائے جا رہے تھے یا ان میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا جا ہا تھا تو پاکستان تحریک انصاف کے حامی اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے دکھائی دیتے رہے۔ اگرچہ باقی سارے ملک میں کوئی بھی اہم ڈویلپمنٹ نہیں ہو پا رہی تھی مگر تحریک انصاف کے حامیوں نے محض اسی بات پر اکتفا کیا کہ عمران خان ایک ایمان دار آدمی ہے اور وہ ان کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑے گا۔

 محض ان وجوہات کی بنا پر وہ ایک سیاسی جماعت جس کے ساتھ ان لوگوں کی سیاسی وابستگی تھی اسکا دفاع بھی کرتے رہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بھی اپنے احتساب کے بیانیے کو بار بار عوام کے سامنے پیش کرتی اور اس کا کریڈٹ بھی خود لینے کی کوشش کرتی رہی ۔ لیکن جب اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے حکومت پر سیاسی انتقام لینے کا الزام لگایا جاتا تو تحریک انصاف ان تمام کیسوں کو ماضی کے کیسسز قرار دے کر خود بری الذمہ و جانے کی کوشش کرتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ تمام لوگ جو کرپشن کے مقدمات کی وجہ سے جیلوں میں تھے وہ سب لوگ ایک ایک کر کے ضمانتوں پر باہر آ گئے۔

ایسے میں حکومت کی جانب سے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی گئی کہ ہم تو احتساب کے معاملے میں سنجیدہ ہیں لیکن جن لوگوں کو کرپشن کیسسز میں نیب کورٹ کی طرف سے سزا ہوئی ہے وہ جا کر عدالتوں سے ریلیف لے لیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ نیب کے کیسسز بہت کمزور تھے جن کی بنیاد پر ملزم ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یوں یہاں بھی حکومت کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

بعدازاں عمران ان کی کابینہ میں شامل لوگوں کے میڈیا پر سکینڈلز آنا شروع ہوئے۔ یہ آٹے اورچینی بحران کے سکینڈلز تھے اور کہا جاتا رہا کہ اقتدار میں بیٹھے چند طاقتور لوگوں نے ملک میں آٹے اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اس بحران کا مالی فائدہ حاصل کیا جبکہ اس سے قبل ادویات کا ایک سکینڈل بھی سامنے آ چکا تھا۔ اس سارے معاملے پر ایک رسمی کا رروائی بھی حکومت کی جانب سے کی گئی۔ محض چند لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا لیکن سب میں سے نہ کسی پر مقدمہ لایا گیا نہ ملزم کو مجرم ثا بت کیا گیا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی کوئی ریکوری کی گئی۔ ان بحرانوں کے محض تھوڑے عرصے بعد پیٹرول کا بحران پیدا ہوا۔ انکوائری ہوئی اور چند ذمہ دارو ں کے نام بھی سا منے آئے لیکن اس مرتبہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیا جو پتہ نہیں قومی خزانے میں جمع ہو سکا یا نہیں لیکن محض چند دنوں بعد ہی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں منافع ان کمپنیوں کی جیبوں میں ضرور ڈال دیا۔

وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے اقتدار میں وہ لوگ آتے رہے ہیں جن لوگوں نے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دی جس کا خمیازہ عام لوگوں کو ہی بھگتنا پڑا۔ عمران خان نے جن لوگوں کو سیاسی مجبوری کی بنا پر اپنے ساتھ ملایا وہ اقتدار میں آ کر وہی کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں جو ماضی میں مختلف حکومتوں میں رہ کر سر انجام دے رہے تھے کیونکہ ماضی میں یہی لوگ مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں ۔

عمران خان اگر اقتدار میں آ کر اور کچھ بھی نہ کرتے او صرف حقیقی احتساب ہی کر لیتے تو عوام اور پاکستان کا بھلا ہو جاتا ۔ اگر عمران خان نیب اور انٹی کرپشن کو مضبوط کرتے، اگر نیب سے انتقامی کارروائی کی بُو نہ آتی، اگر نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ نہ کہلاتا اور اگر کرپش کے الزامات ثابت کر کے کرپٹ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا، انہیں جیلوں میں ڈالا جاتا اور سب سے اہم بات لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں جمع کرایا جاتا اور برآمد کی گئی  دولت کو تعلیم، صحت کا نظام بہتر کرنے اور عام عوام کو ضروریات زندگی، روزگار کی فراہمی اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر خرچ کیا جاتا تو آج پاکستان کے عوام مایوسی کی اس دلدل میں گِھرے ہوئے نہ ہوتے۔ کاش ایسا ہو جاتا تو عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی برقرار رہتا۔ ابھی بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا، عمران خان کے پاس کافی وقت ہے، ابھی بھی ان معاملات کو سیاسی بصیرت اور جامع فیصلہ سازی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے تو ملکی نظام صحیح سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد کامران پاکستانی سیاسی نظام میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں جس کیلئے قلم آزمائی کا شعار اپنایا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.