مہنگائی اور بیڈ گورننس…

274

کورونا وائرس سے جہاں ایک جانب مزدور، تاجر، صنعت کار، سرمایہ کارغرض ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد معاشی بدحالی اور شدید بے چینی کا شکار ہیں، وہیں دوسری جانب ملک میں روز بروز بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے ہر شخص کو پریشان کررکھا ہے۔ دوسال کا عرصہ گزرنے کے باوجود موجودہ حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور محض اعلانات، دعوؤں اور مفروضوں پر مبنی ہے جبکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پچھلی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو اُس وقت ملک کا ہر طبقہ آج کی نسبت بہت خوشحال تھا ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن تھا۔ توانائی بحران کا خاتمہ کردیا گیا تھا ،سی پیک پر تیزی کے ساتھ کام جاری تھا ،پانچ سال میں 1700کلومیٹر موٹرویز بنائی گئیں۔ تقریباً 10ہزار میگا واٹ بجلی قومی سسٹم میں شامل کی گئی۔ زر مبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تھے، پاکستان کے سٹاک ایکسچینج کا شمار جنوبی ایشیا کے نمبرون سٹاک ایکسچینج میں ہوتا تھا مگر موجودہ حکومت کی مایوس کن پالیسیوں نے دو سال میں ملکی معیشت کو اس حال تک پہنچایا دیا کہ آئندہ پانچ سال میں بھی اس کے بہتر ہونے کی اُمید نہیں رکھی جا سکتی۔

عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق 2024ء تک بھی پاکستان کی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یکدم بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر تک کر دی گئی ہیں۔ عالمی منڈی کے حساب سے تیل کی قیمت فی لیٹر تقریباً 40 روپے بنتی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت فی لیٹر پر مختلف ٹیکسز کی مد میں 60 روپے تک وصول کر رہی ہے۔

بجلی کی قیمتیں بھی جنوبی ایشیاء میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں سات سے دس فیصد اضافہ سستے علاج کی امید لگائے افلاس زدہ طبقات کے لیے مایوسی کا موجب بنا ہے۔

ملک بھر میں کورونا کی وبا نے ہر خاندان پر پہلے ہی ٹیسٹوں، ادویات اور اضافی غذا کا بوجھ بڑھا رکھا ہے۔ کاروبار اور روزگار کی سہولیات کم ہو چکی ہیں۔ ان حالات میں یہ فیصلہ کسی طور پر درست قرار دیا جا سکتا نہ اسے عوام دوست کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھی مختلف ادویات کے نرخوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا۔ اس سال پھر اضافہ کردیا گیا حالانکہ خام مال کی کمی، افرادی قوت کے معاوضے میں اضافے یا حکومتی ٹیکسوں کی شرح میں کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔

پاکستان میں حکومتوں نے ادویات کے نرخ کم کرنے پر توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ ادویہ ساز اداروں کی من مانی کی صورت نکلا۔ امر قابل توجہ ہے کہ 2018ء میں حکومت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے جن ادویات کی قیمتوں میں 15 سے 24 فیصد اضافے کی اجازت دی تھی بدانتظامی اور کمزور حکومتی گرفت کی وجہ سے فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے ان کے نرخوں میں 24 سے 500 فیصد اضافہ کر لیا۔ اس غیرقانونی اضافے کو روکنے کے لیے حکومت کچھ نہ کرسکی۔

ہمارے ملک میں آئے دن یہ خبریں تو سننے کو ملتی ہیں کہ حکومت نے مہنگائی کا سخت نو ٹس لے لیا اور حکومت نے مہنگائی کے ذمہ دار مافیا کو قرار وا قعی سزا دینے کا تہیہ کر لیا ہے مگر اہل اقتدار اپنے ہی اعلانات پر عمل درآمد نہیں کرواسکے۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحی کی آمد سے قبل ہی ٹماٹر ، ادرک ، لہسن اور دیگر سبزی کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ یہ غریب شہری کی پہنچ سے بھی دور ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان چند نا اہل لوگوں کی سزا عوام کو دی جا رہی ہے۔ زرعی ملک میں عین فصل کاٹنے کے ساتھ ہی گندم کا بحران سر پر آ گیا ہے اور ابھی سے گندم اور آٹے کی قیمت تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے اور 20 کلو آٹا تھیلے کی سرکاری قیمت 860 روپے کے اعلان کے باوجود دکانوں پر 1150 میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ شوگر ملز کی طرف سے ہائیکورٹ میں یقین دہانی کروانے کے باوجود چینی کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔

حکومتی وزراء کی کارکردگی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر ہوا بازی موصوف نے یہ کہہ کر کہ 262 پاکستانی پائیلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، پاکستانی قوم کے چہرے پر بدنما داغ لگا دیا ہے جس سے آئندہ چھ ماہ کے لیے قومی ائرلائن کم و بیش پاکستان تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ یورپ، امریکہ، برطانیہ، ملائشیا اور بعض دیگر ممالک کے مطابق پی آئی اے ایسے پائلٹس کے ساتھ ان کے سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اس طرح ایک طرف تو ڈنکے کی چوٹ پر یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو جنت نظیر بنا دیں گے جہاں پاکستان کے عوام ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر خوشحالی کی زندگی گزار سکیں گے۔ وطن عزیز میں سرمایہ کاری کے لیے غیرملکیوں کی لائن لگی ہوگی نیز یہ کہ پاکستان سیاحت کا بھی گڑھ بن جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب گڈ گورننس کی بجائے اپنی ضد اور انا کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

کاروبار بے شک تباہ و برباد ہوں جائیں، معیشت ختم ہوجائے، غربت بڑھتی ہے تو بڑھے، نوکریاں کم ہو رہی ہیں تو ہوتی رہیں، بیوروکریسی کام کرے نہ کرے، کوئی فکر نہیں۔ پنجاب کا ستیاناس ہی کیوں نہ ہو جائے عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ رہیں گے ۔ گڈ گورننس کی بجائے حکومت ایسے ہی چلے گی، طرز حکمرانی نہیں بدلا جائے گا۔ مہنگائی سے ستائی عوام سسکتی رہے، حکمرانوں کو دعائیں دے یا بددعائیں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.