الجھی الجھی سی، پریشانیوں میں‌ گِھری زندگی

286

جب کبھی مجھے میری محرومیاں یہ احساس دلاتی ہیں کہ تم کتنے ناکام آدمی ہو، وقت سے کتنا پیچھے ہو…… تمہارا تو کوئی مستقبل ہی نہیں….. تم انہی حالات میں….. ایسے ہی روتے ہوئے مر جاؤ گے…. روز کوئی ناکامی تمہارے دروازے پر دستک دیتی ہے……. تو میں ماضی میں چلا جاتا ہوں…….. بہت پیچھے بہت پہلے…… جب میری سوچ ایک گاوں کے کچے گھر تک محدود تھی….. مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس سے باہر بھی کوئی دنیا ہے تب بھی مجھے یہی لگتا تھا وقت نہیں بدلے گا…… میں یہیں رُلتا رُلتا مر جاوں گا…. کہیں دل میں بس ایک امید ہوتی جو ساتھ چلتی رہتی۔

مگر وقت بدلا، حالات بدلے…. پھر میں شہر منتقل ہوا…. اب میری سوچ کا زاویہ بڑھا……سب نیا نیا تھا.. کچھ عرصہ یہ سب مجھے بہت اچھا لگا….. کیونکہ میں نے ترقی کی تھی…. مگر پھر جب میں اردگرد دنیا کی برق رفتار زندگی دیکھتا تو …….. اندر اندر کڑھتا کہ میں تو بہت پیچھے ہوں…. میں تو آگے نہیں بڑھ سکتا…. میرے پاس تو کچھ ہے بھی نہیں …..پھر مجھے لگتا اب یہی سب میرا مستقبل ہے….. میرا کچھ نہیں ہونے والا…..مگر وقت پھر بدلا….اور میری سوچ بھی بدلی……. اب میں اور بڑا سوچنے لگا…. شہر سے نکل کر ملک کی بات کرنے لگا۔

پھر میں بڑے لوگوں میں بیٹھنے لگا…. بڑے خواب دیکھنے لگا ……. مگر وہاں مجھے لگتا میں تو اب بھی بہت پیچھے ہوں…… بلکہ کہیں بھی نہیں ہوں….. میرا کچھ نہیں بنے گا ……. مگر اس سب عرصے میں میرا دل میری راہنمائی کرتا رہا، مجھے یاد دلاتا رہا…. یار ذرا سوچو تو سہی…. تھوڑا غور تو کرو….. تم کیا تھے…. سوچو کہاں سے تم نے سفر شروع کیا اور آج کہاں ہو…… کیا تمہیں کہیں کوئی تبدلی نظر نہیں آتی ……. اگر آتی ہے تو پھر سوچو یہ سب کیسے ہوا….. کس نے کیا…….. تمہاری اپنی تو اتنی اوقات نہ تھی…..تمہیں تو کچھ پتا ہی نہیں تھا۔

بے اختیار میری آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ جاتیں اور دل سجدے میں گر جاتا…… اور پھر میں فکر کے اس غبار کو پرے دھکیل ہوئے سوچتا، جو ذات میری پیدائش سے لے کر اب تک مجھے سنبھالتی آئی ہے……. کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ میرا اگلا آنے والا مستقبل بھی سنبھال لے۔

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.