دستانے

571

’’ دستانے شروع سے ہی میرے پسندیدہ رہے ہیں، یہ نہ صرف ہاتھوں کو گندگی سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ اور بھی بہت سی باتوں کا راز سنبھالے رکھتے ہیں۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے سیٹھ صاحب نے سگار کا دھواں اپنے مزارعے شرافت کے منہ پر چھوڑ دیا۔ پھر وہ مسکرائے اور کہا ’’ اب یہاں بیٹھے مت رہو، کوئی کام کہے بغیر بھی کر لیا کرو، آخر تمھیں کل کیا سمجھایا تھا ‘‘۔

شرافت نے سیٹھ صاحب کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا، ’’ جی صاب، ابھی حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔‘‘ اور اسی شام گائوں کی نوجوان لڑکی اسما کو اغوا کر کے ان کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔

منظر بدلتا گیا اور کہانی سیٹھ صاحب سے ہوتی ہوئی شہر اقتدار تک پہنچ گئی جہاں ملک کے وزیراعظم نوجوانوں کو روزگار دینے کے منصوبے سے متعلق تمام تر تفصیلات طے کر رہے تھے۔ اسی حوالے سے انہیں شام کو ایک تقریب میں شرکت اور میڈیا بریفنگ بھی دینا تھی۔

لیکن انہیں بتایا گیا کہ تقریب منسوخ کرنا پڑے گی کیونکہ ان کی تقریب بھی چونکہ نوجوانوں سے متعلق ہی تھی، سہ پہر کو شہر میں ایک طلبا تنظیم کا صدر قتل کر دیا گیا تھا اور طلبا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ انہوں نے حملے کر کے حریف طلبا تنظیم کے کئی ایک ممبرز کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جلاو گھیراو اور مظاہروں کے سبب شہر کی فضا بوجھل تھی۔ احتجاج اس لئے کہ اب ایک جانب حکومت قتل کی مذمت کر رہی تھی تو دوسری طرف یہ خبر بھی منظر عام پر آرہی تھی کہ مقتول نے اپنی تنظیم چھوڑ کر حکومتی جماعت کی طلبا تنظیم میں شمولیت سے انکار کیا تھا جس پر اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔

ایک جانب شہر میں سراسیمگی کا عالم تھا، اُدھر حکومتی بغل والے کمرے میں بجنے والی فون کی گھنٹی ٹارگٹ کلر کو جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی کروانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ پھر سکون کا سانس لیتے ہی قاتل نے خون آلود دستانے سامنے پڑی میز پر رکھ دئیے تھے۔

طالبعلم رہنما کے قتل کے بعد شہر میں دہشت کا سا ماحول تھا۔ طلبا تنظیمیں اتنی آسانی سے مان نہیں رہی تھیں، اسی صورتحال کا فائدہ مقامی دکانداروں نے بھی اٹھایا تھا ۔ دس روپے کی چیز 100 روپے میں فروخت ہو رہی تھی۔ محلے کی خاتون سلمی خالہ نے دکان دار نیاز سے پتی کا ڈبہ مانگا ۔ 35 کا ڈبہ 70 میں بیچنے کے بعد دکان دار نے دستانے اتارتے ہوئے کہا’’ اف کتنی گرمی ہے اور دستانے پہننے کی وجہ سے تجوری کے نوٹ بھی نہیں گنے جا رہے َ‘‘۔

دوسری طرف بہت دن کی ہنگامہ خیزیوں کے بعد آج شہر میں سکون تھا۔ حالانکہ پولیس مقتول طالبعلم کے قاتلوں کے لئے نامعلوم افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھی اور حکومت نے بھی طلبا کے تمام تر تحفظات ختم کرنے کا یقین دلایا تھا۔ اسی یقین دہانی کے بعد طلبا تنظیم نے ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبعلم رہنما کے قتل کا معاملہ کیسے دبا؟ یہ میں بتانا نہیں بھولا۔ آپ مجھے نہیں جانتے میں متاثرہ طلبا تنظیم کا فنانس سیکرٹری ہوں، میں نے مقتول کے گھر جا کر اسکی تعزیت کی، اسکی بیوہ اور بچوں کو امداد دلانے کا وعدہ بھی کیا۔ اور اسی شام ایک اعلی سرکاری عہدیدار سے ملا اور ان کی پارٹی میں شمولیت اور نئے عہدے کی پیشکش قبول کرنے میں مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی ۔ اس لئے کہ اگر گائوں کے سیٹھ سے لے کر دکان دار تک اور دکان دار سے لیکر حکومتی اعلی عہدے داروں نے بےضمیری، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی اور ہر طرح کے جرائم کے دستانے پہن رکھے ہیں تو میں بھی تو اسی سسٹم کا حصہ ہوں۔

آخر آپ لفافہ صحافی کو قبول کیوں نہیں کر لیتے ؟ جبکہ آُ پ سبھی ایک ذخیرہ اندوز تاجر ، ایک چوہدری کی چودہراہٹ اور مزراعوں پر ظلم کو تسلیم کرتے ہیں، بچوں اور خواتین پر کی جانے والی زیادتیوں پر خاموش رہتے ہیں، ان کے جرائم کے دستانوں پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تو پھر رکئے، مجھے بھی اپنی بے ضمیری کا دستانہ اتار کر اپنے بچوں کے لئے اچھے مستقبل کا انتظام کرنے دیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.