19جولائی، یوم الحاق ِ پاکستان

459

سبھی جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ہے، اسی پس منظر میں ۱۹ جولائی کو ہرسال دُنیا بھر کے کشمیری اور تمام انسان دوست حلقے ”یوم الحاقِ پاکستان” کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ 1947میں اسی روز کشمیر کے سبھی طبقات کی بھاری اکثریت نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دہلی سرکار نے گذشتہ 73 برسوں سے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی انسانی حق یعنی اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ اب تو جبری کرفیو، نانا کی لاش پر بیٹھا معصوم بچہ بھی انسانیت کو شرما رہا ہے۔

73 برس قبل 19 جولائی1947کو جموں کشمیر کی عوامی قیادت نے تاریخی فیصلے کا اعلان کیا تھا کہ کشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو گا، اِسی اعتبار سے 19 جولائی کا دن آزادی ٗ کشمیر کی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے، 1947ء میں اس دن کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی، یہ تاریخی قرارداد جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کی امنگوں اور خواہشوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان سے الحاق کی تحریک کو جاری وساری رکھنے کے لئے ہر کشمیری عہد کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل کشمیر کی آزادی اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونے تک اپنی سعی و جدوجہد جاری رکھنے کے عزمِ صمیم سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، بھارتی مظالم کے حقائق سے کئی عالمی تنظیمیں پردہ چاک کر چکیں، جس میں ممتاز مغربی محقق اور تاریخ دان ‘مفکر دانشور مسٹر ولیم بیکر نے ’کشمیر وادیِ مسرت، وادیِ موت‘ نامی اپنی یادداشتوں میں انتہائی غیر جانبداری سے اُن تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھایا، انسانیت نواز تاریخ دانوں میں مسٹر ولیم بیکر کا نام ہمیشہ سنہری لفظوں سے یاد رکھا جائے گا۔

فلسطین سے کشمیر تک اُنہوں نے ہر ظالم و سفاک عالمی سامراج کی سازشوں کو بے نقاب کیا جو کہیں فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کی صورت میں نظر آئیں جو اُنہوں نے تاریخ کے صفحات میں محفوظ کردیا۔ مسٹر ولیم بیکر نے جون 1947 کے ’لندن پلان‘ میں ’انگریز ہندو گٹھ جوڑ‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے لندن پلان کے تحت غیر منقسم ہند کی مسلم اکثریتی علاقوں کی ریاستوں کے مسلم باشندوں کی مرضی ومنشاء کے خلاف اُن ریاستوں کے ہندو مہاراجوں نے زبردستی غیر منصفانہ اقدامات کاسہارا لے اِن ریاستوں کو بھارت میں شامل کیا جومسلمان اکثریتی آبادی کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف کل بھی تھا آج بھی ہے۔

مسٹر ولیم بیکر لکھتے ہیں ’ 1989 سے عالمی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے ہمراہ اُنہوں نے مقبوضہ وادی کا کئی بار دورہ کیا، ہر بار پہلے سے زیادہ بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں حالات کو ابتر پایا، یہی نہیں بلکہ اُس وقت بقول مسٹر بیکر کے انہوں نے خود معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں اُس صحافی کو ‘ دانشور ‘ یا انسانی حقوق کے کارکن کو جو زمینی حالات کی ممکنہ ’ سچائی ‘ کو وادی سے باہر نکل کر بیان کرنے پر اصرار کرتا پایا جاتا تھا تو اُسے کشمیر میں تعینات بھارتی سیکورٹی فورسنز فوراً غائب کرا دیتی تھیں۔

انہوں نے اپنی یاداشت میں لکھا کہ میرے کئی دوست غائب ہوئے اور میں اُن کے لئے کچھ نہ کرسکا، چاہے مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ ہو یا فلسطینی مسئلہ، دونوں میں کئی باتیں مثلا ریاستی سطح پر کی جانے والی ظلم وستم کی مشترک پائی گئی ہیں۔ کشمیر اور فلسطین، غیر ملکی اور غیر قومی استبدادی پنجے میں اپنی ملی وثقافتی آزادی لینے کے لئے جیسا آج مچل رہے ہیں، نجانے کب تک اُن کے لئے یہ غیر انسانی اندوہناک حالات یونہی وارد رہیں گے؟ نجانے فلسطینی عوام اپنی سرزمین کب حاصل کر پائیں گے، نجانے کب صبحِ آزادی کا وہ چمکتا ہوا سورج کشمیری مسلمان بھی دیکھ پائیں۔ عالمی قوانین کے مطابق ہر انسان کی شخصی آزادی اُس کا پیدائشی حق ہے۔

آج 73 برس بعد دُنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ مسٹر ولیم بیکر نے جیسا کچھ بیان کیا تاریخِ انسانیت کی سچائی کا اُن کا کہا ہوا ہر ایک لفظ ایسی سچائی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی قابض فوج کے ریاستی ظلم و ستم کا اختتام نجانے کب ہوگا، اب وقت آگیا ہے دنیائےِ اسلام کے ممالک مثلاً شام‘ عراق ‘ لیبیا ‘ افغانستان کے عوام بھی فلسطینی اور کشمیری عوام کی طرح عالمی بہیمانہ عزائم کی حامل استبدادی ذہنیت رکھنے والی قوتوں سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بھرپور پنجہ آزمائی کریں۔ کشمیر میں انسانی لہو کی بارش، انتشار اور تصادم کی ہولناک تباہیاں، انسانی قدروں کی وحشیانہ بے قدریاں، جگہ جگہ مغربی، اسرائیلی، امریکی اور بھارتی سامراج کی معاشی وسماجی مفادات کی سازشیں اور محکوم مسلمانوں کے خون کی ارزانی کا سلسلہ کبھی نہ کبھی تو روکے گا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اکتوبر1948 میں بھارتی درخواست پر پہلے کشمیر میں جاری پاک بھارت جنگ رکوائی، سیز فائر ہوا دو قراردادیں منظور ہوئیں جن کا متن یہی تھا کہ کشمیر میں جنگی حالات کا ماحول بہتر ہوتے ہی وہاں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو حق استصوابِ رائے دیدیا جائے گا۔ اِس سے قبل جموں و کشمیر سے بھارتی فوج نکل جائے گی، بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو نے کئی بار عالمی فورموں پر وعدہ کیا تھا کہ ’’ کشمیر کا تنازعہ کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہو گا جو چاہیں گے ویسا ہی ہوگا وہ پاکستان سے جا ملیں بھارت کو اعتراض نہ ہوگا، چونکہ ا قوام متحدہ کی سلامتی نے بھی ایک رائے شماری کے ذریعے اُنہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے‘‘۔ نہرو کے یہ اہم وعدے عالمی ریکارڈ کا حصہ ہیں، بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے خون سے بھارتی فوج کو کب تک یونہی ہولیاں کھیلنے کی اجازت دی جائے۔

یہ سوال جو ہر کشمیری پوچھ رہا ہے ۔ شہدا ء کی جلائی ہوئی آزادی کی مشعلوں میں اپنا تازہ لہو اُسی سرعت سے اپنی زمین کے حصول کے لئے نذر کررہے ہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردوں، قوانین کی دھجیاں اُڑتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دِی۔ ساتھ ہی غیر قانونی ڈومیسائل جاری کر دیئے، مگر بے حس عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے انسانی مسئلہ نے فکرِ انسانی کو ہر عہد میں اپنے احاطہ دامنِ خیال سے کبھی علیحدہ نہیں ہونے دیا، ممتاز عالمی شہرتِ یافتہ جرمنی مفکر مسٹررسل نے کہا تھا ’’ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر ہندوستانی حکومت کا بین الاقوامی معاملات میں بلند بانگ آئیڈیلزم دم توڑ دیتا ہے، تو ہم جیسوں کے لئے مایوسی کے احساسات سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے‘‘۔

بھارت میں یقیناً آج عالمی شہرتِ یافتہ دانشور برٹرینڈرسل کے کہے گئے یہ تاریخی شائستہ الفاظ کسی غیر جانبدار، غیر متعصب، انصاف پسند اور اعتدال پسند روشن خیال بھارتی دانشوروں کے ذہنوں سے اگر محو ہوگئے ہوں یا متشدد تنظیم آر ایس ایس کے جنونیوں کے بلوؤں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ اعلانیہ یہ سب نہ کہنا چاہتے ہوں تو رابن رافیل کو تو ہر کوئی ممتاز بھارتی صحافی جانتا ہو گا جو 1993 میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ رہے ہیں۔ اُنہوں نے ایک موقع پر کہا تھا ’ مجھے قطعی طور پر یہ کہہ کر واضح کرنے دیجئے کہ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعہ میں کسی بھی قسم کی حتمی معاملہ بندی میں ہر صورت کشمیر کے لوگوں ہی سے سب کو رجوع کر ناچاہیئے۔ ہمارا یقین ہے کہ اِس موقع پر اُس وقت تک کوئی قدم پائیدار اور پختہ تصور نہیں کہلایا جاسکتا جب تک کشمیر کے عوام راضی نہیں ہوتے۔

کشمیرکا پاکستان کے ساتھ ’یومِ الحاق ‘ کا یہ جاری سلسلہ ہر سال 19 ؍جولائی کو منانے کی اصولی روایت اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے کسی بھی صورت انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا یہ اُصولی مؤقف ہے کہ مسئلۂ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ قراردادیں، کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیتی ہیں۔ پھر یہ کہ بھارت خود عالمی اور عوامی فورمز پر کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی حمایت کرتا رہا ہے، سو اب وقت آگیا ہے کہ اُنھیں اُن کا قانونی حق دیا جائے۔ ہمیں بہ حیثیت مُلک اور بہ حیثیت عوام اس تنازعے کے اُسی حل کی حمایت کرنی چاہیے، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔ ورنہ خطہ کا امن قائم رہے ممکن نہیں ، کیونکہ ظلم رہے اور امن بھی ہو۔ کیا یہ ممکن ہے تم ہی کہو۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.