کورونا: لمحوں نے خطاء کی، صدیوں نے سزا پائی

681

قدرتی آفات ایک عالمگیر حقیقت ہیں، زمانہ ازل سے انسان کو غیرمعمولی قدرتی حادثات اور آفات کا سامنا رہا ہے۔ آج کے دور میں قدرتی آفات بڑے پیمانے پر انسانی زندگی کے ضیاع اور املاک کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں اور پھر کورونا نے تو ایک مدت مشرق و مغرب سنسان کئے رکھے جو تاحال مکمل بحال نہ ہونے کے سبب ویران ہیں۔ واشنگٹن، نیویارک پریشان ہیں۔ عالمی قیادتیں حیران ہیں۔ بحر و بر تسخیر کرنے والا انسان ایک چھوٹے سے جرثومے کے آگے بے بس اور سمجھیں ہتھیار ڈال چکا ہے۔

زلزلے ہوں یا وبائی امراض، روئے زمین ہو یا انسان اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام رکھا ہے کہ وہ برے وقت کے حوالے سے انفارمیشن دیتے رہتے ہیں اور انسان ہے کہ ایسے آثار، حالات کو یکسر نظر انداز کرتا ہے اور پھر جانی مالی نقصان اٹھاتا ہے۔ زلزلہ کے حوالہ سے سائنسدان مسلسل متنبہ کرتے رہے لیکن لاپرواہی سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے، ایسے ہی کورونا کے حوالہ سے بھی آگاہی دی جاتی رہی لیکن حسب معمول نظر انداز کرنے پر دُنیا ہی منجمد ہو کر رہ گی اور اپنی ہی غفلت کے ہاتھوں انسانوں نے معاشی، علمی نقصان کے علاوہ کچھ یوں سزا پائی.

دُنیا بھر میں کل متاثرین، دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ایک کروڑ 21 لاکھ سے زائد مریض ہیں جن میں سے فعال کیسز 4,548,272 اور صحت یاب 7,070,188 ہیں جبکہ اموات کی تعداد 5 لاکھ 52 ہزار سے زائد ہے۔ہمیں ان حالات سے پہلے ہی مناسب اقدامات اٹھانے چاہیے تھے تاکہ نقصان کم سے کم ہو، کورونا کی بروقت روک تھام کی جاتی تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا۔ تیاری نہ ہونے کے باعث حکمرانوں کو سمجھ نہ آئی کہ اس مرحلے پر کیا قدم اٹھانا چاہیے۔

چین نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان علاقوں سے ہی دوسرے علاقوں کا رابطہ توڑ دیا جہاں وائرس اپنا اثر پھیلا چکا تھا، وہاں عوام تو ضرور تنگ ہوئے لیکن ان کو کورونا سے بچانے کیلئے لاک ڈاون کا اقدام نا گزیر تھا اور اس کا مثبت نتیجہ یہ ہے کہ چین میں اموات اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یورپ و امریکہ جیسی ترقی یافتہ قوموں کے حکمرانوں کو بھی فوری طور پر سمجھ نہ آئی، کورونا کی افتاد نے ان کی دانش اور حکمت عملی کو تہ و بالا کر دیا۔ امریکی صدر کو ان کے اپنے ملک میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے کورونا سے متعلق نہ تو ماہرین کی آرا کو قبول کیا اور نہ خود درست اقدامات اٹھائے جس کے سبب امریکہ میں دنیا بھر سے زیادہ اموات ہوئیں۔

یورپ کو کچھ نہ سوجھی تو حکمرانوں کو سینکڑوں لوگوں کے مرنے کے بعد لاک ڈاون کی پالیسی ہی اپنانی پڑی لیکن اس وقت تک اموات اتنی ہو چکی تھیں اور وائرس اتنا پھیل چکا تھا کہ ہزاروں، لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے تھے۔ اسلام نے چھوت والی بیماریوں کا علاج 14 سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جہاں بیماری ہو وہاں سے دوسرے علاقوں میں لوگ نہ جائیں اور نہ دوسرے علاقوں کے لوگ متاثرہ علاقوں کا رخ کریں۔ بعض حکما کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ کورونا کا طب نبوی سے علاج ممکن ہے جس پر بحثیت مسلمان ہمارا یوں بھی ایمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔

ترقی یافتہ ممالک کچھ بھی کہتے رہیں، ان کا دم تو ایک بیماری نے ہی نکال دیا۔ لہذا نجات اسلام کو ماننے میں ہی ہے، اسلامی تعلیمات پر عمل کر لیا جاتا تو آج کورونا عفریت کا روپ نہ دھارتی اور نہ عالمی وبا بنتی۔ مسلم حکمرانوں کی اسلام سے دوری اور غیر مسلم حکرانوں کی نا سمجھی کے سبب اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں، یہ عالمگیر وبا کا روپ دھار چکی ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا سیکھنا ہو گا یعنی یہ اب صدیوں انسان کے ساتھ چل سکتا ہے۔ نا اہل حکمرانوں کی لمحوں کی غلطی بنی نوع انسان اب صدیوں تک بھگتتا رہے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. سید وقار افضل کہتے ہیں

    باکمال سائیٹ کیا اس میں اپنی تحریر ارسال کی جاسکتی ہے ۔ اگر ممکن ہے تو کس ایڈریس پر آگاہ کیجیے

  2. Shafiullah کہتے ہیں

    قدرت افراد سےاغماض برت لیتی ہے۔۔کبھی کرتی نہیں قوموں کی گناہوں کو معاف (شعر میں ممکنہ املا یا کسی ور غلطی کےلئے معزرت خواہ ہوں) ۔۔آپ نے مضمون کے آخر میں حکمرانوں کو لگتا ہے، موردالزام ٹھہرایا ہے جو درست نہیں ۔ میں اتفاقاً خود ایک نہایت ترقی یافتہ مغربی ملک میں رہائش پزیر ہوں۔یہاں جس انداز سے پڑھی لکھی عوام نے حکومت کی تنزیرات و احکامات کا مزاق اڑایا وہ ہر لحاظ سے ناقابل قبول تھا ۔اب جب خاصی دیر ہو چکی تولوگ احتیا ط برتنے لگے۔۔یہاں ذکر کرتا چلوں کہ کچھ ہی عرصہ پہلے مغرب بالخصوص فرانس میں مسلم خواتین کی حجاب پر بابندیتک لگا لی اور اب حالت یہ ہے کہ خواتین ایکطرف رد حضرات کو بھی اپنے نصف چہرے پر نقاب لگانا پڑا۔۔۔ہے نہ قدرت کا عجیب و غریب انتقام یا سبق؟

تبصرے بند ہیں.