رنگ پرستی کے بت اور اسکے پجاری

346

نسل پرستی وہ بانگ ہے جس کی پکار ہمیشہ زور و شور کے ساتھ سنائی دیتی رہی ہے اور شاید ہمیشہ سمع خراشی کرتی رہے گی۔ نسل پرستی، رنگ پرستی، اونچ نیچ ذات پات کے مجسمے جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنا لیے ہیں جنہیں توڑنے کی بجائے ہم ان کی مسلسل پرستش میں مصروف ہیں اور اس عبادت کے نشے میں اتنا کھو چکے ہیں کہ یہ سوچنا بھی بھول گئے ہیں کہ جن بتوں کو ہم پوج رہے ہیں وہ توڑنے کے بعد ہی تو انسان، انسانیت کے لغوی معنی سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔

جارج فلائیڈ کے مجرمانہ قتل پر اس وقت دنیا بھر میں بلیک لائیوز میٹر بینرز کے ساتھ احتجاج جاری ہیں۔ دنیا کو ایک بار پھر باور کرایا گیا ہے کہ مذہب، جنس، رنگ ونسب اور فرقہ واریت کے پنجے کتنے مضبوط ہیں اور ان پنجوں کی گرفت سے کتنی زندگیاں ختم ہو چکی ہیں اور کتنی زندگیاں مسلسل مفلوج ہو رہی ہیں۔

تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں طاقت، دولت، شجرہ نسب، خوبصورتی جیسی کھوکھلی اینٹوں پر عالی شان گھر تعمیر کرنے سے گریز نہیں کیا گیا پھر چاہے یہ گھر جھونپڑیاں جلا کر ہی بنانے پڑے۔ افسوس ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے اور سلسلہ زندگی کا حصہ ہیں جہاں انسان کی اصل اور اہم خوبیوں کو پس پشت ڈالنا اور اپنے بنائے ہوئے نا زیبا معیار پر پورا اتارنے کی کسوٹی پر کھڑا کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔

رنگ پرستی کی بات کی جائے تو سانولا یا کالا رنگ دنیا کے ہر کوچے میں ناقابل قبول ہے۔ خواہ وہ امریکہ جیسا سپرپاور ہو یا یورپ جو ہمیشہ خوبصورتی کا ترجمان رہا ہے۔ سیاہ فام انسانوں کا قتل عام اور نسل کشی کی دردناک کہانیاں اس کا منہ بولتا ثبوت رہی ہیں۔ یہ ان ممالک کی بات ہے جو ترقی کی طرف گامزن ہیں اور دنیا کے سامنے اپنا کامل چہرہ پیش کرنے میں لگے ہیں۔ اب بات کر لیتے ہیں ہم اپنے ملک کی جو بہتر سال بعد بھی ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے۔

ہمارے ملک میں رنگ پرستی اور ہمسایہ ملک بدعتیں اس قدر عام ہیں کہ ہم اس سے تو عیاں ہیں کہ ہم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں لیکن آج تک ہم اس مٹی کے رنگ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اکیسویں صدی کا انسان چاہے بڑے سے بڑا ایٹم بم بنا لے لیکن وہ اس رنگ پرستی کی سوچ کو معاشرے سے کیسے ختم کرے جو ہمارے گھر، ہمارے وجود اور ہمارے روح کا حصہ بن گئی ہے۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بچہ پیدا ہونے پر ایک خوشی کا عنصر یہ ہوتا ہے کہ بچہ صحیح سلامت ہے وہیں ایک تسکین کا عالم یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بچے کا رنگ سفید ہے۔ نہ جانے یہ بات سچ ہے یا دل کو تسلی دینے کے لئے بنی ہے “کالے اللہ کے پیارے” لیکن حقیقت میں دنیا کا رویہ تو یہ کھل کر بیان کرتا ہے کہ کالے دنیا کے پیارے نہیں ہوتے۔

یہی وجہ ہے کہ بچپن سے ہی سانولی رنگت کے لوگوں کو احساس دلانا شروع کردیا جاتا ہے کہ کچھ تو کمی ہے اور اس کمی کو مکمل کرنے کے لئے کچھ تو کرنا ہے۔ لباس میں کون سا رنگ پہننا ہے کون سا نہیں یہ رنگت کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ رنگ گورا نظر آنے کے لیے میک اپ لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ دھوپ میں مت جاؤ رنگ اور خراب ہو جائے گا۔ فلاں چیز کھانے یا پینے سے رنگ صاف ہوتا ہے۔ جیسے سانولا رنگ گندگی کی علامت ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہماری معتبر درس گاہیں جو انسان کے اندر خود اعتمادی کی مضبوط جڑ اگا سکتی ہیں وہ بھی نہ چاہتے ہوئے اس رنگ و نسب کے کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ خوبصورت یا یہ کہا جائے سفید رنگ کے مالک اسٹوڈنٹیس کو ہر اہم دن (فینسی ڈریس شو، ڈرامہ، سپورٹس ڈے، اینول فنکشن) پر آگے آگے رکھا جاتا ہے۔

ہمیں بچپن سے ہی یہ بتایا یا دکھایا جاتا رہا ہے کہ سنڈریلا دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ ریپنزل اپنے خوبصورت بالوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ باربی کی دلکشی کا کوئی ثانی نہیں۔ سنو وائٹ سنو کی طرح وائٹ تھی۔ یہاں تک کہ ہر ڈرامے فلم کے مثبت کردار (ہیرو، ہیروئن) خوبصورتی سے لبریز ہی نظر آتے ہیں۔

اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ اس معاشرے میں لڑکی کا سانولا ہونا کسی گناہ سے کم نہیں۔ ہم باتیں تو اسلام، قرآن اور احادیث کی کرتے ہیں لیکن ہمارے رویئے اسلام سے کوسوں دور ہیں۔ وہ اسلام جس نے رسول پاک صلی علیہ والہ وسلم کی مبارک زندگی کے تحت واضح پیغام دیا ” کسی گورے کو کسی کالے پر کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں تم میں سے بہتر وہ ہے جو تقویٰ کی بنیاد پر بہتر ہے”۔

لیکن ہم تو اسلام کی آڑ میں ہی دوسروں کو یہ بتاتے ہیں کہ تم کمتر ہو تم رنگت کے اس معیار سے بالاتر ہو جو خوبصورتی کی علامت ہے۔ آج بھی ایک لڑکی جتنا مرضی پڑھ لے۔ شعور وعقل کو اپنے اندر سمو لے۔ اخلاقیات کی مکمل تصویر ہو۔ پھر بھی اس مکمل تصویر میں یہ ہی دیکھا جاتا ہے کہ رنگ گورا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو یہ تصویر جتنی مرضی خوبصورت ہو دیکھنے والوں کو دھندلی سی لگتی ہے۔

مثال کے طور پر جی ہمیں اپنے بیٹے کے لیے بس ایسی لڑکی چاہیے جو صوم و صلاۃ کی پابند ہو، سلیقہ شعار ہو، گھر گرہستی جانتی ہو اور ہاں ایک بات بتانا تو رہ گیا کہ لڑکی کا رنگ سفید ہو۔ یہ آخری جملہ یہ آخری فرمائش باقی تمام فرمائشوں پر اتنی بھاری ہوتی ہے کہ چاہ کر بھی اسے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ بھلا جو تحفہ قدرت کی طرف سے انسان کو ملا ہو اسے کیسے بدلا جا سکتا ہے۔

یہ قدرت کے فیصلے ہیں جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ممکن ہے خدا اس بنیاد پر بھی دنیا کے رویوں کو پرکھنا چاہتا ہو۔ کیونکہ یہ تو ایک تسلی بخش فرمان ہے کہ اگر ایک شخص کسی دوسرے کا بلا وجہ دل دکھاتا ہے تو وہ شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو پائے گا جب تک اسے دوسرا معاف نہ کر دے۔

ہم کتنی آسانی سے کسی کو بھی اس بات کی سزا دینے کے لیے تیار ہیں جس میں اس کا قصور ہی نہیں۔ یہ کتنا کالا ہے، یہ کتنا لمبا ہے، یہ کتنا چھوٹا ہے، یہ کتنا موٹا، یہ کتنا دبلا ہے۔ یہ اور اس جیسے بے شمار ترش جملے جن کی ادائیگی مشکل نہیں۔ لیکن شاید کسی کو اس بات کا اندازہ بھی نہ ہو یہ جملے اگلے کی زندگی میں کس طرح دھیمے دھیمےاپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور انسان کو اپنے آپ سے نفرت پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کچے ذہن پر ان تلخ جملوں کے داغ اتنے پختہ ہو جاتے ہیں کہ مٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔

پھر اس موقع پر شروع ہوتا ہے بازاری اور نا پائیدار کھیل جو ان داغوں کو مٹانے کا فریبی سدباب لے کر آتا ہے۔ مختلف ٹوٹکے، رنگ گورا کرنے والی کریمیں، وائٹنگ ادویات یہاں تک کہ وائٹنگ انجیکشنز جیسے عارضی عمل سے قدرت کے قدرتی عمل میں بلا جواز مداخلت کی کوشش کی جاتی ہے۔ فیرنسائیڈز سے لڑکا ہو یا لڑکی غرض ہر سانولی رنگت رکھنے والے کے اندر احساس کمتری کا جذبہ خوب فروغ دیا جاتا ہے کہ رنگ گورا ہے تو سب ٹھیک ہے۔ نوکری، شادی، اعتماد، دوستی خواہ ہر کامیابی کا تعلق کھال کی چمڑی سفید ہونے سے ہے۔

جارج فلائیڈ کی موت اس کیفیت کو اور بے حسی کی طرف لے جاتی ہے کہ اب شاید رنگ و نسب کی بنیاد پر جینا مرنا بھی طے کیا جائے گا۔ سانس لینے کی اجازت رنگ پرستی کی بھینٹ چڑھے گی اور اسی طرح کوئی نہ کوئی جارج فلائیڈ پکارتا رہے گا مجھے سانس نہیں آ رہا…. مجھے سانس نہیں آ رہا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.