ایک لا کھ ٹن چاولوں تلے دبی پاک۔ملائیشیا دوستی

583

پاکستان اقوام عالم میں تنہائی کا شکار ہے، ہر آنے والا نیا دن اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا نظر آتا ہے۔ ‘کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی’ کے مصداق کچھ تو اغیار کی ریشہ دوانیاں ہیں، کچھ ہمارے اپنے ہاتھ بھی اتنے مضبوط نہیں۔ ہماری غلط پالیسیوں نے اور اس سے بڑھ کر دوستوں کی مشکل کو صرف نظر کرنے کی عادت نے ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے جن معاملات پر دنیا میں کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں ، ان معاملات میں جس دوست ملک نے ہمارا ساتھ دیا اور اپنا بیش بہا نقصان کیا، ہم نے ان کے قومی نوعیت کے مسائل کو بھی سرد مہری سے نظر انداز کر دیا ہے۔

ایک سرکاری بیانیے کے مطابق ملائیشیا نے اورنج کلر والے ملک سے ایک لاکھ ٹن چاول درآمد کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اگر ہم اس خبر کو اس کے حالیہ تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ ملائیشیا اور انڈیا کی حکومتوں کے درمیان شدید قسم کی چپقلش چل رہی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس تناؤ کا آغاز جنوری میں ہوا۔ ملائیشیا، انڈونیشیا کے بعد پام آئل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ انڈیا کو اس کے پام آئل کی فروخت اس کے قومی خزانے میں سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ دلاتی ہے۔ مودی سرکار نے رواں سال 08 جنوری کو ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ دراصل مودی حکومت کی جانب سے ملائیشیا کے خلاف انتقامی کاروائی کا ایک حصہ تھا۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی انڈین حکومت نے ایسے اقدامات شروع کر دیئے جس کے نتیجے میں غیر سرکاری طور پر ملائشیا سے آنے والی اشیا کی باضابطہ آمدورفت میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ ملائیشیا سے آنیوالی ہر شپمنٹ کے لیے ایک حکومتی لائسنس کا حصول لازمی قرار دے دیا گیا۔ نتیجے کے طور پر نئی شپمنٹ بند ہو گئیں اور جو شپمنٹ پہنچ چکی تھیں وہ فریز ہو گئیں۔ اس طرح تقریبا 30،000 ٹن پام آئل کی ملائیشین شپمنٹ متعدد ہندوستانی بندرگاہوں پر تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ ملائیشیا کی معیشت کو اس پابندی اور براہ راست اقدامات سے شدید معاشی جھٹکا لگا۔

نارنجی کلر والے ملک کے ان اقدامات کے پیچھے ملائیشیا کے سابق صدر مہاتیر محمد کے وہ بیانات تھے جو انھوں نے انڈیا کے شہریت کے کالے قوانین کے خلاف دیئے تھے۔ مہاتیر محمد نے اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے خصوصی حق، آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حوالے سے اور مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انڈیا کی جبری ریاستی پالیسیوں کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی تھی اور اس پرجائز تنقید کی تھی۔ گزشتہ برس 5 اگست کو ہندوستان نے اس خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دے دیا جو جموں و کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت عطا کی گئی تھی، جس نے مواصلات کی بندش اور وادی کے لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے وادی میں ظلم و جبر کا ایک بازار گرم کر دیا تھا جو آج تک جاری ہے۔

اقوام متحدہ میں بات کرتے ہوئے مہاتیر نے کہا تھا کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر “حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا” اور انھوں نے نئی دہلی سے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے مودی حکومت پر اس وقت کڑی تنقید کی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کی وجہ سے ہندوستان میں مسلمان لوگ مر رہے ہیں اور ہندوستانی حکومت “کچھ مسلمانوں کو ان کی شہریت سے محروم کرنے” کے لئے کچھ خاص اقدامات کر رہی ہے۔ مہاتیر نے کہا کہ وہ نئی دہلی کے کشمیر کی خودمختاری کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر اپنی تنقید پر واپس نہیں جائیں گے۔ تجارت پر عائد پابندیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ڈٹ کر کہا تھا کہ وہ “غلط چیزوں” کے بارے میں بات کرتے رہیں گے۔ ہندوستانی حکومت نے اسے ‘داخلی معاملہ’ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید ری ایکشن کا مظاہرہ کیا تھا اور انتقامی کاروائی کے طور پر معاشی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ملائیشیا کے ریفائنڈ پام آئل پر فوری پابندی عائد کر دی تھی۔

فروری میں مہاتیر نے اپنا اتحاد ٹوٹنے کے بعد حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے بعد ملائیشیا میں اب نئی حکومت آئی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے پس منظر میں نئی ملائیشین حکومت کا انڈیا سے ایک لاکھ ٹن چاول امپورٹ کرنے کا فیصلہ سمجھنا بڑا آسان ہے۔ اس کے علاوہ ملائیشیا انڈیا سے خام چینی امپورٹ کرنے کا فیصلہ بھی کر چکا ہے۔ مہاتیر کی حکومت میں یہ فیصلہ گذشتہ ایک سال سے پینڈنگ سٹیٹس میں تھا۔ لہذا اس بات کو سمجھنا اب اتنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ نئی ملائیشین حکومت گذشتہ حکومت کے فیصلوں پر یو۔ٹرن لے چکی ہے۔ اس مرتبہ بھی دوستی کے مقابلے میں جیت معاشی مفادات کی ہوئی ہے۔ اس معاملے میں ہمیں بطور ایک حکومت اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ ہم سے غلطی کہاں ہوئی، کس کس جگہ ہماری ڈھیلی ڈھالی پالیسیوں نے غیروں کو موقع سے فائدہ اٹھانے دیا اور نارنجی ملک کے معاشی کارڈ کا ہمارے پاس کیا توڑ ہے کیونکہ آگے بھی ہمیں انہی عوامل سے واسطہ پڑتے رہنا ہے۔ اگر ہم ایک ایک کر کے اپنے تمام دوست کھونا نہیں چاہتے تو ہمیں انہیں ایک لاکھ ٹن چاولوں تلے دبنے سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.