کس کا لہو بہا، یہ کون مرا

222

جموں و کشمیر کی عوام 1947 سے ہی بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہے، قتل و غارت، لوٹ مار اور عصمت دری کے سارے ہتھکنڈے اپنا کر بھارت نے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ جون 2016 سے یعنی برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارت کی ہٹ دھرمی میں مزید سو گنا اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں بند اور شہید کر دیا جاتا ہے- اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کے بعد ہزاروں مرد و زن کی گرفتاریاں ہوئیں جن میں سے تقریبا دو ہزار لوگ ابھی بھی کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں-

رواں برس بھارتی درندہ صفت افواج نے اب تک تقریبا 150 نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے، صرف جون کے مہینے میں 43 شہادتیں واقع ہوئی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں خوف و ہراس کا عالم ہے اور لوگ علاج و معالجہ، مالی مسائل سے نمٹ رہے ہیں۔ غریب لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بدترین قسم کا لاک ڈاؤن تاحال جاری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بھارتی فوج نے آپریشن آؤٹ کو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کورونا وائرس ناکہ بندی کے دوران تقریبا 70 نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے، بھارت جو جمہوریت کا علمبردار بنا پھرتا ہے اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ کشمیر کا جائزہ لیں جہاں ایک چار سالہ بچہ اپنے والدین کے ہمراہ بازار کی طرف نکلتا ہے تو واپس بچے کا تابوت گھر پہنچتا ہے اور جہاں ایک نانا اپنے تین سالہ نواسے کے ہمراہ نکلتا ہے تو واپس نانا کی لاش پہنچتی ہے۔

بھارت نہ صرف قتل و غارت گری کا ماحول گرم کیے ہوئے ہے بلکہ اسرائیلی طرز پر غیر ریاستی باشندگان کے لئے بستیاں قائم کرنا چاہ رہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مسلم اکثریت والے آبادی تناسب میں تغیر ہے یا یوں کہہ لیں سيٹلر کولونیل ایجنڈے کے تحت ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے تا کہ کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت بھی چھینا جائے، ان سے ان کا مال انکی جائدادیں چھین لی جا ئیں، غرض جینے کا حق ہی چھین لیا جائے۔

غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ابھی 25 ہزار غیر ریاستی باشندوں کو کشمیری ڈومیسائل ملا ہے جس کی بنیاد پر وہ کشمیر میں زمین بھی خرید سکتے ہیں اور نوکریاں بھی حاصل کر سکتے ہیں، تمام مسلمان ممالک اور او آئی سی کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیں اور ان کی بھرپور حمایت کریں اور ساتھ ساتھ بھارت کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت ہر فورم اور پلیٹ فارم پر کی جائے۔ اگر بھارت کو ابھی روکا نہ گیا تو وہ آئندہ غیر ریاستی باشندگان کی بستیوں کی بستیاں آباد کرنے جارہا ہے جو تحریک آزادی کشمیر کو مسخ کرنے کا حتمی اور کارگر حربہ ہے۔

صبر کا دامن کس قدر تھامے رکھوں اب تو
دامن چاک ہونے کو ہے، ہاتھ لہو لہان ہونے کو ہیں

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

معصب منظور کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے، اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانے کیلئے قلم سے رشتہ جوڑا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.