ہم زندہ “قوم” ہیں…؟

300

جب امیر یا سرمایہ دار ہونا ہی عزت کا معیار ٹھہرے تو معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ لوگ کھوکھلی اور نمودونمائش کی زندگی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ آج کل دین اور طب کے شعبے میں ہر کوئی دخل دیتا ہے اور تو اور ٹرمپ نے بھی کورونا کے علاج میں ہائڈروکسی کلو روکین کو مفید قرار دے دیا، فیشن انڈسٹری والے ٹرمپ کو کورونا کی دوا بتانے کی کیا پڑی، معلوم ھوا کہ ھائیڈروکس کلوروکین تیا ر کرنے والی ایک کمپنی میں اس کا شئیر ھے۔ بش کے وزیر دفاع رمز فیلڈ کی بھی ایک پولیو کمپنی ہے۔ وہاں بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں جو اس مفادات کے ٹکرائو پہ زوردار بات کرتا۔ غیروں کی غیر جانیں ہم اپنی بات کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں سائنسی سوچ والے لوگ کم ہیں۔ لوگ باہر کیوں چلے جاتے ہیں؟ ہم ان کے ساتھ برا سلوک کیوں کرتے ہیں؟ سلیم زماں صدیقی مرحوم کی مثال سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی جو سائنسی خدمات ہیں ان میں ایک دوا ” جملین” کی ایجاد بھی ھے جو برٹش فارماکوپی میں رجسٹرڈ ہے۔ دل کے مرض کی دوا یورپ میں ٹنوں کے حساب سے بن رہی ہے، سلیم صاحب شور مچاتے رہے کسی نے نہ سنی یہاں نہ بن سکی، کہ یہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کنٹرول ہے۔ بریف کیس چل جاتے ہیں (سیاست دان ایک دوسرے کو بھی بریف کیس دلا دیتے ہیں) یوں پیسے کی ریل پیل اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ سلیم صاحب کا ایک ھونہار شاگرد ھے ڈاکٹر عطاءالرحمن، جس کے نام پہ چین میں ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے، ان کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے متعارف کروایا۔ یہاں بیٹھ کے اس نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا، کمزور دل سمندر پا ر چلے گئے جو آئے ان کا حشر نش کردیا گیا جیسے کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ والا ڈاکٹر۔ کچھ کسر جذباتی قوم کچھ جذباتی حکام نے پوری کر دی۔ سائنس دانوں کو درویش کے روپ میں پیش کیا۔

اس سے پہلے کہ ہمارے شاعر، ڈاکٹر، وکیل، صنعتکار، جاگیردار اور انجینئر آپس میں گڈ مڈ ہو جائیں، ہمیں آنکھوں پر جہالت کی بندھی پٹی کھول لینی چاہیے۔ ہمارے مایہ ناز سائنس دان عبدالقدیر خان جنہوں نے ہمیں ایٹم بم کا تحفہ دے کر بھارت جیسے عیار دشمن کے خطرے سے ہمیشہ کیلئے بے فکر کر دیا، ان کو ملک میں وہ عزت نہ ملی جو ان کا حق تھا۔ غضب خدا کا جس نے ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، اسلامی سربراہی کانفرنس کی داغ بیل ڈالی، اس ذوالفقار بھٹو کو امریکہ کے کہنے پر نشان عبرت بنا دیا۔ جس نے ہمیں ایٹم بم بنا کر دیا اس کو امریکہ کے کہنے پر قید کر دیا۔ خدا کیلئے ہماری بھولی قوم اپنی آنکھیں کھولیں، اپنے دشمن کو پہچانیں اور دوست کی قدر کرنا سیکھیں ورنہ قدرت کا انتقام بڑا بھیانک ہوتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ناصر اسلام اپنی منفرد سوچ کے سبب مختلف موضوعات کو نشانہ قلم بناتے ہیں، سیاست ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.