ناخالص جمہوریت اور خالص آمریت

677

اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا لیکن ہماری قوم کی یہ بد قسمتی رہی کہ کوئی دیانتدار قیادت میسّر نہ آ سکی۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی قائداعظم انتقال کر گئے جس سے لیڈر شپ کا ایسا خلا پیدا ہوا وہ آج تک موجود ہے۔ قئد کی وفات کے فوراَ بعد اُس وقت کی موجودہ قیادت نے اقدار کی بجائے اقتدار کی سیاست کو ترجیح دی اور یوں اس ملک میں پاور پالیٹکس کی شروعات ہوئیں۔ اقتدار کے حصول کے لئے الزام تراشی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو کہ آج بھی جاری ہے۔ اس سیاسی گند کو صاف کرنے کیلئے بے حد قابل احترام شخصیات جن میں قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی شامل تھیں میدان میں آئیں لیکن مقتدر قوتوں نے انہیں بھی کامیاب نہ ہونے دیا۔

پاکستان کے عوام نے جمہوریت اور آمریت دونوں میں خود کو مفلوک الحال ہی پایا۔ عوام کے بنیادی مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ایک خاص طبقہ ملکی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتا رہا۔ بعض لوگوں کے نزدیک ایوبی آمریت کے دور میں پاکستان ک حالات بہت حد تک اچھے تھے اور اقوامِ عالم میں پاکستان کی خاصی پزیرائی بھی ہو رہی تھی لیکن بعد میں آنے والے لوگ معاملات کو بہتر طریقے سے نہ چلا سکے۔ ذوالفقار بھٹو جو کہ خو جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھے اور نظریاتی سیاست کے علمبردار بھی تھے لیکن بد قسمتی سے وہ بھی اپنے نظریئے پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے۔ ان کی پارٹی یں بھی جاگیردار طبقہ اپنی پوزیشن مضبوط کرتا گیا اور اسطرح ایک خاص طبقہ ملکی مفادات پر غالب آتا رہا۔

ان کے بعد جنرل ضیاءالحق کی آمریت بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہی۔ جمہوریت اور آمریت دونوں اگرچہ کوئی بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکے لیکن پھر بھی عوام نے محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف پر یکے بعد دیگرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اقتدار میں آنے کا موقعہ فراہم کیا۔ انکی حکومتیں بھی سیاسی الزامات اور انتقام کی زد میں آئیں اور ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوا۔ ایسا صرف ایک بار نہیں بلکہ دوبار ہوا ۔

بعد ازاں جنرل مشرف کی آمریت، پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی جہموری حکومت جس نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے پانچ سال مکمل کئے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ بطریق احسن سر انجام دیا۔ ان تمام جمہوری و غیر جمہوری ادوار کے دوران دیگر سیاسی غیر سیاسی حکومتیں جن میں ن لیگ کی حکومتیں بھی شامل تھیں، آتی جاتی رہیں لیکن یہ تمام حکومتیں بہت ہی قلیل عرصہ تک برسراقتدار رہیں۔ نواز لیگ نے سیاسی مشکلات کے باوجود اپنے پانچ سال مکمل کیے اور ایک بار پھر جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی عمل میں آ گئی۔

تحریک انصاف کی حکومت بنی اور یہ حکومت بھی اپنے دو سال مکمل کرنے کو ہے لیکن نتیجہ ہر بار کی طرح اس مربتہ بھی زیادہ مختلف نہیں۔ مہنگائی پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکی، غریب جو پہلے 2 وقت کی روٹی کھا لیتا تھا اب اس سے بھی گیا۔ لوگوں کو روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کہاں ملنی تھیں، عام لوگوں کے حالات تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو چکے۔ رہی سہی کسر کورونا وائرس نے پوری کر دی، قرض پہ قرض لے کر ملک کا خرچہ پانی چل رہا ہے۔ عمران خان کے بقول جنہوں نے عوام کے 300 ارب ڈالر لوٹے، وہ بلند بانگ دعووں کے باوجود آج بھی آزاد ہیں بلکہ موجودہ حکومت کو چیلنج بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غلطی کس کی ہے، عمران خان جیسے کھرے آدمی کی یا ان کی جو عمران خان کو بغیر تیاری اقتدار میں لے آئے اور اکیلا چھوڑ دیا بلکہ پچھلی گلی سے ڈیل کر کے ایک بڑے مگر مبینہ مجرم کو بیرون ملک بھی بھجوا دیا۔ عمران خان کو ملک چلانا نہیں آ رہا لیکن ایسا کوئی سامنے بھی تو نہیں آ رہا جو اس کی اس اہم ترین کام میں مدد کر دے، 23 کروڑ کے لگ بھگ عوام پر مشتمل ملک چلانا ہر کسی بس کی بات تو نہیں۔ یہ قیادت کا فقدان ہے جو آج 72 سال بعد بھی ہمیں درپیش ہے۔

عمران خان باقی کچھ نہ کرے، بس سی پیک اور گوادر پورٹ کو فُل سوئنگ دیتے ہوئے بجلی منصوبے مکمل کروا جائے، ایک دفعہ ملکی صنعت کا پہیہ رواں ہو جائے تو اس غریب ملک میں رہنے والے بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔ نظام عدل غریب کو رسوائی ک سوا کچھ نہیں دے رہا، پارلیمان صرف امیر کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، بس عمران خان ایسی قانون سازی کر جائے جس سے عدلیہ اور پارلیمان کی سمت درست سمت ہو جائے، اداروں پر امیر کی اجارہ داری ختم اور ملک میں جاگیر دار کی سلطنت ختم ہو جائے تو عمران کے آنے کے بہت سارے مقاصد نہ بھی پورے ہوئے تو یہ اہم کام اگلی نسلیں سنوارنے کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

محمد کامران پاکستانی سیاسی نظام میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں جس کیلئے قلم آزمائی کا شعار اپنایا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.