پیوستہ رہ شجر سے!

542

بادی النظر میں حکومت ناکام نظر آ رہی ہے مگر اصلیت اس کے برعکس ہے۔ حالات اتنے دگرگوں نہیں ہیں جتنا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اور پاکستان مخالف قوتوں کو معلوم ہے کہ حکومت کی کامیابی اور اس کا استحکام نہ صرف ان کے لئے ایک شدید خطرہ ہے بلکہ بیرونی دشمنوں کے لئے تو یہ ایک بہت بڑے عذاب کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تمام اہم ادارے ایک پیج پر ہیں جبکہ کچھ اداروں کے اہل کار، اپوزیشن، جو کہ بلاشبہ بیرونی دشمنوں کی پیداوار ہے، کے ساتھ نمک حلالی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو پی آئی اے کے پائلٹ مافیا ہی ہیں جن پر ہاتھ ڈال دیا گیا ہے اور اب چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں۔ بعینہ کچھ دیگر اہم ادارے ابھی تک، بدقسمتی سے، اسی مافیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے ہیں کہ جس سے اس حکومت کا استحکام خطرے میں ڈال دیا جائے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں جو بیج اس سیاسی مافیا نے بوئے تھے وہ اس وقت تن آور درخت بن کر مختلف اداروں کے ٹاپ پر براجمان ہیں اور انکے پیچھے اور نیچے انہی کے ہم نوا ان کے لئے سپورٹ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے اس مافیا کو تقویت پہنچا کر اپنا نمک حلال کر کے بھی دکھا رہے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، عوام کے سامنے ہو رہا ہے سب کچھ۔

حکومت کے پاس آپشنز بہت کم ہیں کیونکہ اس کا ایک بھی لاابالی فیصلہ یا قدم سب “کیتی کرائی کھو وچ” کے مترادف ہوگا۔ آئین سے ہٹ کر کچھ کیا تو ریاست کو دھجکا لگے گا جو کہ بلاشبہ بیرونی دشمنوں کی خواہش بھی ہے اور اندرونی دشمنوں کی ضرورت بھی۔ براہ راست کسی بھی ادارے کے ساتھ متصادم ہونا بھی بجز حماقت کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ پہلے ہی مسائل بہت ہیں اوپر سے کوئی نیا کٹا کھول دیا تو پپو کا ڈھگا کھوبے میں پھنس جاوے گا اور جو کچھ بھی ابھی تک کیا ہے سب برباد۔ دشمن کے سب ایجنٹ مل کر حکومت کو اکسا رہے ہیں کہ وہ غصہ کھائے، کوئی غلط شاٹ کھیلے اور آوٹ ہو کر پویلین لوٹ جائے۔ اس وقت سکور نہیں بھی ہو رہا تو بھی اسے وکٹ پر رہنا ہے۔ یہ اننگ پوری کرنی ہے۔ ایک ایک رن لے کر بھی کھیلنا پڑے تو کھیلنا ہوگا۔ کوچ بھی دانستہ طور پر اپنی ٹیم کو صبر جمیل اور سٹے آن کی پالیسی پر آمادہ کئے ہوئے اس وقت گیم تکنیکی دائرے سے نکل کر نفسیاتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جیتے گا وہی جو غلطی نہیں کرے گا۔ اس میچ کا المیہ یہ ہے کہ اس میں حکومت الیون کے خلاف آئی سی سی، امپائر، کمنٹیٹر اور یہاں تک کے فیلڈز مین بھی کھڑے ہیں۔ یہ ٹیسٹ میچ ہے اور اسے آخری دن تک لے جانا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ٹیم میں بھی چند ایک اچھے کھلاڑیوں کے سوا زیادہ تر بس ایویں سے ہیں۔ اس لئے اوپنرز کا کھڑے رہنا لازمی ہے۔

پاکستان کے چاروں طرف دشمن بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کو خطرات سے دوچار کرنے کے لئے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے دشمن نے پچھلی حکومتوں کے ساتھ مل کر جہاں ان غدار حکمرانوں کے لئے ایجنٹوں کی بھرمار کر دی ہے وہیں ان کی مدد سے اپنے ایجنٹ بھی بہت بڑی تعداد میں جھونک دیئے ہیں۔ فوج کی کاوشوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بہت مثبت اور بڑی کامیابیاں ملی ہیں۔ مگر ان دشمنوں کے ایجنٹ مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکے، کیونکہ انکے پیچھے اب بھی اسی مافیا کا ہاتھ ہے۔ ردالفساد کے بعد اب ردالغدار بھی کرنا پڑے گا شاید۔

قصہ مختصر یہ کہ حکومت بیرونی دشمنوں کی بیخ کنی میں بھی جتی ہوئی ہے اور اب تک کے نتائج اتنے برے بھی نہیں ہیں۔ الحمداللہ۔ بھارت کو لگتا ہے کہ پاکستان نے کرتارپورہ کھول کر سکھوں کے دل میں اپنے لئے ہمدردی کا گوشہ پیدا کرکے خالصتان کی تحریک کو ہوا دی ہے۔ جبکہ یہ اسکی غلط فہمی ہے۔ خالصتان کی تحریک کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔ اندرا گاندھی کے قتل اور گولڈن ٹمپل کے واقعات کے بعد سے سکھ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے ہمسائے سے تعلق بہتر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ لینڈ لاک ہونے کی وجہ سے پاکستان ہی اسکی واحد لائف لائن ہوگی۔ پاکستان اس وقت کسی بھی صورت میں سکھوں کی براہ راست حمایت کرکے اپنے لئے بین الاقوامی سطح پر مشکلات کھڑی نہیں کرسکتا۔ ایف اے ٹی ایف اور دیگر خنجر پہلے ہی ہمارے سر پر لٹک رہے ہیں۔ ایسے میں سوائے مورل سپورٹ کے ہم فی الحال کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ بھارتی حکومت اپنی عوامی اور بین الاقوامی سطح پر گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کرکے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے پاکستان مخالف ڈھونگ رچانے سے کبھی بھی باز نہیں آئے گا۔ مگر پاکستان کو اس پروپیگنڈہ سے بھی نمٹنا ہے اور وہ بھی بہت ہوشیاری کے ساتھ، تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

کشمیر ایک آتش فشاں ہے جس کا منہ خود بھارتی حکومت نے کھول کر اپنی تباہی کا سامان پیدا کر لیا ہے۔ پاکستان نے اس وقت پوری دنیا میں کشمیر کاز کو اتنا اجاگر کر دیا ہے کہ پوری دنیا میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث ہے اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لا کر بھارت کے مظالم کا پردہ بھی فاش کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا مودی سرکار اور بھارت پر تھو تھو کر رہی ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن نے پچھلے چالیس سال حکومت کی مگر کبھی بھی کشمیر کے لئے کچھ نہیں کیا۔ گیارہ سال ایک نااہل انسان کو اس کشمیر کمیٹی کا سربراہ لگا کر صرف اسکا پیٹ بھرا مگر کشمیر کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اب جبکہ پاکستان ایک انتہائی مضبوط ڈپلومیسی کے ساتھ کشمیر کاز پر کام کر رہا ہے تو یہ مافیا چیخ رہا ہے کہ پاکستانی فوج حملہ کرکے کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کروا رہی اور یہ کہ کشمیر کو پاکستانی حکومت نے بھلا دیا ہے اور یہ کہ کشمیری قوم کے ساتھ پاکستانی حکومت دھوکہ کر رہی ہے۔ واللہ! کیا بات ہے۔ جو اس کشمیر کے لئے کبھی ایک لفظ نہیں بولے، آج کشمیر کے سگے ہو گئے۔ کہتے ہیں مجاہد بھیجو جو جا کر کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑیں ۔۔ تو بھائی آپ بن جائیں نا مجاہد۔ لے جائیں سب ساتھی اپنے اور کر دیں حملہ۔ اپنے کپوتوں کو کمان دے کر ایک لشکر لے جائیں اور کر دیں کشمیر آزاد۔۔۔ بات کرتے ہیں!!!

لداخ میں چین نے اپنا علاقہ خالی کروا لیا ہے اور یہ پہلی بار ہوا کہ چین نے براہ راست بھارت کو دھمکی دے دی کہ وہ کسی بھی وقت کشمیر کو بھی آزاد کروا لے گا۔ یہ ہے پاکستان کی کامیاب کشمیر پالیسی کا نتیجہ۔ جو کام 70 سال میں نہیں ہوا اب ہو رہا ہے۔۔۔ یہ حکومت کی کامیابی کی دلیل ہے۔

وزیراعظم نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ یہ چیخیں ماریں گے، مگر میں چھوڑوں گا نہیں۔ تو چیخیں تو سن رہے ہیں۔ دشمن اور ان کے سہولت کار پریشان ہیں کہ ان کی قمیض بھی پھٹ گئی ہے اور یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ کس نے پھاڑی ہے۔ یہ ہوتی ہے ڈپلومیسی۔ اربوں روپے ڈوب گئے دشمن کے جو لگائے تھے۔ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا بہت ہے مگر ریاست مدینہ بنے گی انشاءاللہ۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

تاثیر اکرام سیاسی و سماجی امور پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.