رشتے کی تلاش معمہ کیوں بن گیا؟

534

ہمارا معاشرہ اسلامی اصولوں سے لاعلم ہے یا لاپرواہ کیونکہ لڑکے، لڑکیوں کے رشتوں میں تاخیر کی بڑی وجہ کئی غیر اسلامی رسومات ہیں جن سے اب لاتعلقی ناگزیر ہے۔ شادی، بیاہ کے معاملات کا جائزہ لیں تو ڈھول ڈھماکا، جہیز، پرتکلف کھانے، بڑی بڑی باراتیں، بیش قیمت ملبوسات و زیورات، ڈانس پارٹیاں اور موسیقی کی محافل اسلام کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتیں۔ جہیز جسے لعنت قرار دیا گیا ہے ہماری فخریہ ضرورت بن چکا ہے۔

اگر ہم بذات خود اس گناہ سے محروم رہنا بھی چاہتے ہوں تو اس طرح کے بہانوں کہ لڑکے کی خالہ یا پھوپھوکیا سوچے گی، دنیا غربت کا مذاق اڑائے گی. اس طرح کی فضول سوچیں ہمیں جیہز دینے یا لینے پر مجبور کرتی ہیں۔ حالانکہ ہم سب یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام اور اس کی تعلیمات خالہ، پھوپھو کا برا منانے سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر لڑکی کے والدین اچھا جہیز، گھر، پلاٹ اور لڑکے کو کاروبار نہیں دیتے تو ان کی بیٹی کی سسرال میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش شکل، اعلی کردارکی حامل اور سمجھدار کیوں نہ ہو۔ یہ ساری رسومات اور اس قبیل کی سوچیں ہمیں اسلام کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتیں بلکہ یہ رواج ہم میں ہندو تہذیب سے شامل ہوئی ہے اور اب ایک ناقابل علاج بیماری کی طرح ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑ چکی ہے کہ ان سے چھٹکارا بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔

ان معاملات نے نکاح کو اتنا مشکل کر دیا ہے کہ عام لوگوں کے گھر لڑکی کی پیدائش ہزاروں سوال ساتھ لاتی ہے اور اکثر والدین لڑکی کی شادی کی عمر کو پہنچنے تک معاشرے کے مہنگے رواجوں کے سامنے اندرونی طور پر دم توڑ چکے ہوتے ہیں۔ مادیت پرستی ہمارے معاشرے میں زہر قاتل کی حثیت اختیار کر چکی ہے بلکہ پیسے کی اہمیت نے تو ہمارے معاشرے کو کئی درجوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس نام نہاد کلاس کلچر نے نکاح کو کہیں پپیچھے دھکیل دیا ہے۔

پرانے وقتوں میں لوگ لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں کیلئے حسب و نسب اورتقوی و پرہیزگاری کو فوقیت دیتے تھے مگر اب ان تمام عناصر کی جگہ سٹیٹس نے لے لی جس سے معاشرہ تباہی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں لڑکی کے انتخاب کا طریقہ کار اتنا گر چکا ہے کہ اسے غیر انسانی ہی کہیں تو مضائقہ نہ ہو گا۔ کئی احمقانہ سوچیں ہمارے معاشرے میں ایک باضابطے کی شکل اختیار کر چکی ہیں حالانکہ کہنے کو انسان نے علم و عقل اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے مگر اس دور میں بھی ہمارا عمل دقیانوسی ہی ہے بلکہ اس دقیانوسی سوچ کو مزید ترقی دے کر ماڈرنائزیشن کا نام دے دیا گیا ہے۔

پاکستان میں تقریبا 58 فیصد لوگ اس سلجھے ہوئے دور میں بھی مہذب اور پڑھی لکھی لڑکیوں کا انتخاب نہیں کرتے کیوں کہ ان کے نزدیک پڑھی لکھی لڑکیاں آزاد خیال ہوتی ہیں، اپنے فیصلے خود کرتی ہیں، سسرالیوں کو خاطر میں نہیں لاتیں، بغیر کسی وجہ کے ساس اور سسر کی خوشامد نہیں کرتیں اور نندوں کیساتھ تکلف کا رشتہ روا رکھتی ہیں تو اس لئے انہیں ایسی بہو نہیں چاہیے جو اپنے فیصلے خود کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں، انہیں صرف ایسی گائے چاہئے جو جس کھونٹے سے باندھ دی جائے بس وہیں رہے، ان کے ہر حکم پر سر جھکا دے چاہے وہ اس کے وقار اور مقام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

مہذب اور ترقی یافتہ ہونے کے باوجود بھی آج ہم نے بدلا کیا ہے؟ زمانہ جہالت میں بھی انسانیت کا نظام عورت کش تھا اور آج بھی معمولی ردوبدل سے اسی تاریخ کو دہرایا جا رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران ایسے اسلامی قوانین نافذ کریں جو اسلام کی حقیقی روح کے مطابق تمام معاملات انجام پانے میں مدد دیں۔ علمائے کرام مساجد میں نماز ، روزہ ، حج اور زکوتہ کے احکامات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا درس بھی دیں جو اس معاشرے کیلئے اب انتہائی ضروری ہے، جہیز اور دیگر لغو رسومات کے خلاف قومی اور علاقائی سطح پر مہم چلائی جائے، لڑکیوں کے رشتوں کیلئے فی سبیل اللہ کام کرنے والے ادارے متعارف کروائے جائیں۔

صنعتکار اور تاجر طبقہ اجتماعی شادیوں جیسے سماجی بہبود کے عمل کو آگے بڑھائے، ایسے میں ٹیچرز یا اساتذہ بچوں کو جہیز کی لعنت سے بچپن سے ہی آگاہی دیں، حتی کہ درسی کتابوں میں ایسے اسباق متعارف کروائے جائیں جو بچوں کے ذہنوں میں شروع ہی سے فضول رسم و رواج جو ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں، کے خلاف شعور پیدا کریں تاکہ مادیت پرستی کی اس دوڑ کی حوصلہ شکنی ہو اور ایک مثالی معاشرے کا نفاذ وجود میں آ سکے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

قاسم علی سیاسی و سماجی معاملات پر لکھنا پسند کرتے ہیں، شاعری سے بھی شغف ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.