میری چُپ کا شور…

961

‘‘ کوئی بھی چیز چاہیے تو تم مجھے بتانا، کیا ہوا جو سلیمان باہر ہے تمھارا بھائی ابھی زندہ ہے، ہم سب تمھارے سرپرست ہیں۔ ’’.          ‘‘ نہیں بھائی کسی چیز کی ضرورت نہیں ’’ کہتے ہوئے تہمینہ کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئی تھیں۔ اسکی نگاہوں میں آج صبح کا منظر گھوم گیا تھا جب وہ کچن میں اپنا اور اپنے بچوں کا ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اسکے جیٹھ جاوید بھائی نے دروازے میں اسکا راستہ روک لیا۔ ان کی آنکھوں اور انداز میں ایسا کچھ تھا جس نے ہمیشہ کی طرح اسے سہمنے پر مجبور کر دیا۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ان کی جانب سے جسمانی تعلقات کی پیش کش اور ذومعانی گفتگو کی خواہش کچھ ایسی نامناسب نہیں۔ تاہم صبح کے اور اب شام کے جاوید بھائی کا روپ یکسر مختلف تھا۔

وہ شکایت کرتی بھی تو کس سے کہ اسکا رکھوالا، اسکا شوہر سلیمان تو جرمنی میں تھا۔ شکوہ کرتی تو اپنے ماں باپ سے جنہوں نے بیرون ملک اچھی ملازمت کرنے والے پڑھے لکھے لڑکے کا رشتہ قبول کرنے میں ایک سکینڈ کی بھی تاخیر نہ کی؟ گلہ کرتی تو کیا ان ساس اور نندوں سے جو اسے بیٹی بنا کر رکھنے کا کہہ کر یہاں بیاہ کر لائی تھیں اور یہ یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ شادی کے بعد اسے سلیمان کے ساتھ ہی جرمنی بھیج دیا جائے گا؟ لیکن کچھ بھی نہیں بدلا۔

ہاں وقت نے اسکی گود میں دوسال کا ارمغان اور تین ماہ کی نرمین ڈال دئیے۔ سارا دن گھر کے کام کر کے جب ایک طرف جسمانی تھکن کا شکار ہو جاتی تو جیٹھ کی طرف سے عزت داغدار ہونے کے خوف سے اسکی نیندیں حرام ہو جاتیں۔ بتاتی بھی تو کسے کہ آخر الزام تو عورت پر ہی آتا ہے۔ ساس تھیں تو بوڑھی لیکن زبان کی تیز اور نہایت موقع شناس۔ حقیقت کچھ ہوتی اور فون پر سلیمان کو ایک کی جگہ دس لگا کر بتائی جاتیں۔

سلیمان سے اپنا دکھ درد بانٹنے کے لئے کوئی بات کرتی تو وہ بجائے اسکی حمایت کرنے کے ،اسکو تسلی دینے کے اس پر بگڑ جاتا اور کہتا کہ‘‘ امی ٹھیک کہتی ہیں، تم کوئی کام ہی نہیں کرتیں، بھابھیاں اور نوین سارا دن کچن میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میں تمھیں سلجھا ہوا اور پڑھی لکھی لڑکی سمجھتا تھا کہ تم میری غیر موجودگی میں میری امی کی بھی دیکھ بھال کرو گی، بچوں کا بھی خیال رکھو گی، لیکن تم ایک غیر ذمہ دار عورت ہو۔ امی بتا رہی تھیں کہ تم بہت فضول خرچ ہو گئی ہو، ایک ایک ماہ میں چار چار سوٹ بنوا رہی ہو۔ خدارا کچھ تو خیال کرو، پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے۔ میں یہاں اتنی محنت کرتا ہوں اور تم ہوکہ سب کچھ برباد کرنے پر تلی ہوئی ہو۔ وہ بے بسی سے شدید گرمی کے موسم میں ریشمی کپڑوں میں ملبوس رہتی۔ وہ یہ بھی بتا نہ سکتی کہ تمھاری ماں نے بچوں اور میرے لئے بھیجے ہوئے پیسوں سے نئے پردے بنوا لئے اور بڑی نند کے بچوں کو کھلونے لے دئیے۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی کہ میں نے لکھ دیا اور آپ نے پڑھ لیا۔ حوا کی بیٹی صدیوں سے رشتوں کے نام پر، شادی کے نام پر بلیک میل ہوتی آئی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں نکاح جیسے مقدس فریضہ کو بھی آزار بنا دیا گیا۔ لڑکی کا رشتہ آجائے تو مصیبت، نہ آئے تو اور عذاب۔ اور تو اور بیرون ملک سے رشتہ آنے پر والدین کا خوشی سے پھولے نہ سمانا آج کی نہیں زمانہ قدیم سے ایک عادت یا روایت ہے لیکن لڑکیوں کے والدین بھی مجبور ہی ہوتے ہیں جو رشتوں کی بھیک کے لئے لڑکے والوں کے سامنے کاسہ پھیلا دیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس رشتے کی قیمت اس شادی شدہ لڑکی کو مرتے دم تک ادا کرنا ہوتی ہے۔

شادی کے بعد لڑکیوں کو دن رات یہ جملے سننا پڑتے ہیں۔ بھئی تمھارے مزے ہیں ڈالر آرہے ہیں۔ جیٹھانیاں اور بھابھیاں بہنیں بھی کہتی ہیں، بھئی آپ تو سب کچھ افورڈ کر سکتے ہیں، ایک ہم ہیں جن کے بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ ساس کا بیان یہ ہوتا ہے کہ تمھارے اور تمھارے بچوں کے لئے ہی تو میرا بیٹا پردیس میں در بدر کی خاک چھان رہا ہے۔ بچوں سے دوری علیحدہ پریشانی ہے۔

دوسری جانب اگر بیوی، شوہر کو یاد کر کے جب بھی آبدیدہ ہو تو یہی سننے کو ملتا ہے کہ تم کوئی دنیا بھر سے نرالی ہو، کتنے لوگوں کے خاوند باہر ملازمت کے لئے جاتے ہیں وہ تو تمھاری طرح ڈھونگ نہیں رچاتیں۔ ڈرامے نہیں کرتیں بلکہ سارا دن گھر بھی سنبھالتی ہیں، ساس کی خدمت بھی کرتی ہیں مگر تم سے بھئی خدا کی پناہ ۔ آنسو بہا کر میرے بیٹے کو اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے۔ ہر وقت کا رونا کہیں عذاب ہی نہ لے آئے ہم پر۔

یہ سب کہتے ہوئے کوئی بھی نہیں سوچتا کہ ایک عورت جو مختلف محاذوں پر لڑ رہی ہے اور تنہا ہے اسکے جذبات کیا ہیں ؟ ایک طرف ان بچوں کی فکر ہے جو باپ کے ہوتے ہوئے بھی لاوارثوں کی طرح پرورش پا رہے ہیں۔ دوسری طرف اپنی عزت بچانے کی فکر ہے، تیسری جانب اپنی جذباتی اور ذہنی کیفیت کا بھی احساس ہے۔ اور ان سب تفکرات کے ہوتے ہوئے بھی وہ تمام مصائب اور چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ ایسی عورت کی زندگی کی ہر ہر سانس ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی۔ وہ مسلسل خاموش رہ کر ایک پتھر بن جاتی ہے اور پھر بالآخر جب فکر معاش سے آزاد ہو کر اسکا شوہر اپنے ملک کی طرف لوٹتا ہے تو اس میں جذبات کی وہ حدت نہیں رہتی جس کا خواب اس نسوانی کردار نے کبھی دیکھا تھا۔ گویا محبت ، احساس اور لطف و کرم کے تمام جذبے ختم ہو جاتے ہیں، اس کے اندر ایک چپ کے شور کا آغاز ہو جاتا ہے، گویا خاموش زبان سے شکوہ کناں ہو کہ میرے حال دل کی کسی کو خبر نہ ہوئی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں 

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.