کورونا کے 19 نکات

332

کورونا کی عفریت کو پاکستان کا رخ کئے تقریباً 5 ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ اس دوران جہاں احتیاط، وبا، اور تدابیر جیسے الفاظ کانوں میں پڑتے رہے ہیں وہیں سازش، کوئی کورونا ورونا نہیں، زہر کا ٹیکہ جیسی مضحکہ خیز باتیں سن کر ہر ذی شعور انسان اپنا سر ضرور پیٹ چکا ہے۔

سادہ لوح عوام کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کی باگ دوڑ سنبھالے افراد نے بھی اس عالمی وبا پر اپنے فاضل بیانات سے عوام کو محظوظ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گذشتہ چند روز سے کورونا یا کوویڈ 19 کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کے بیان کے چرچے زبان زدِ عام ہیں اور آخر کیوں نہ ہوں، انہوں نے تو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کو دیئے جانے والے نام کا مطلب ہی بدل ڈالا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ “کوویڈ 19 میں 19 کا مطلب ہے کہ اس کے 19 پوائنٹس (نکات) ہیں جو کسی بھی ملک پر کسی بھی طرح سے اپلائی ہوسکتے ہیں”. بالفرض اگر کوئی تاحال کوویڈ 19 کی تعریف سے لاعلم ہے تو واضح کردوں کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس وائرس کو دیئے جانے والے نام میں کو کا مطلب کورونا، و کا مطلب وائرس ، اور ڈی سے مرا د ڈیزیز یا بیماری کے ہیں جبکہ 19 اس وائرس کے پہلی بار منظر عام پر آنے کا سال یعنی 2019 ہے۔ وزیر صاحبہ اس بیان پر کھلنے والے محاذ کے جواب میں وضاحتی ٹویٹ کرکے اپنے تئیں تنقید سے بچنے کی کوشش کرچکی ہیں لیکن جو تیر ایک بار کمان سے نکل گیا وہ تو گیا۔

ویسے ان کا کہا ایسا کوئی غلط بھی نہیں کورونا کے منظرعا پر آنے کے بعد سے جو عوامی اور حکمرانی ردعمل دیکھنے کو ملا ہے اسے 19 چیدہ چیدہ نکات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایسے کہ فروری کے اواخر میں جب کورونا پاکستان پہ چا تو موسم نسبتاً خوشگوار تھا، لہذا مارچ اپریل تو پاکستان کی معصوم عوام نے یہ دلاسے کہ سن کر گزار دی کہ گرم ممالک میں کورونا نہیں پھیلتا اور گرمی بڑھتے ہی کورونا کا زور ٹوٹ جائے گا۔ جون کی کڑاکے دار گرمی اور کورونا کا جوبن اب سب کے سامنے ہے. پھر جو چین، اٹلی اور اسپین میں وائرس دھڑادھڑ لوگوں کو متاثر کرنے میں مصروف تھا اس وقت اکثریت یہ کہتی نظر آئی کہ وائرس کافروں کی پھینٹی لگانے آیا ہے اور اس سے مسلمانوں پر اثر نہیں پڑنے والا کیونکہ مسلمان تو پانچ وقت وضو کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں، تیسرا نکتہ یوں کہ رفتہ رفتہ جب کورونا عوام کی بداحتیاطی کے سبب دلیر ہونے لگا تو عورت مارچ کو اس کی وجہ ٹھہرا دیا گیا۔

کورونا کی من مانیوں کے سبب جب لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا اور سماجی فاصلے کا اہتمام یقینی بنانے کے لیے مساجد میں ادائیگی نماز کو محدود کیا گیا تو کورونا غیر مسلموں کی مسلمانوں کو مساجد سے دور رکھنے اور باجماعت ادائیگی نماز روکنے کی سازش بن گیا. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کورونا کی خودسری بڑھتی گئی تو پھر ملبے کے نیچے مسیحا آئے اور سب نے سنا کہ ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر اچھے بھلے مریضوں کو مار رہے ہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ کورونا سے مرے! الامان الحفیظ!

مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے لیکن اس وبا کے دوران کورونا سے وفات پانے والے پاکستانیوں کی لاشیں اسس سے بھی مہنگی ہیں کیونکہ کئی سیانوں کے بقول امریکا ان لاشوں کو 3500 ڈالرز میں خریدتا رہا۔ اور پھر وہ عالم فاضل بھی جابجا نظر آئے جن کے مطابق ہم نے تو کوئی کرونا کا مریض نہیں دیکھا حکومت صرف بین الاقوامی اداروں سے امداد اور چندہ اکھٹا کرنے کے لئے کورونا متاثرین کی تعداد زیادہ ظاہر کررہی ہے۔ یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ ‘بہت سے گھرانے صرف عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں، پھر آگے کیا ہوا آپ سب کو پتہ ہے. بہرحال!

اس عالمی وبا کے دوران پاکستان میں مقبول ہونے والا دسواں نکتہ یہ تھا کہ “کورونا عام فلو جیسا ہے” اور اس نکتے کو بھی عوام نے من وعن تسلیم کیا اور با لکل نہ “گھبرائے”۔ اس سب کے بعد جب کورونا دل کھول کر پھیل چکا تو رہی سہی کسر ہینڈسم لاک ڈاؤن نے پوری کر دی. معاف کیجئے گا اسمارٹ لاک ڈاؤن! اس سب کے دوران فردوس عاشق اعوان نے لاعلم عوام کے علم میں مزید اضافہ کچھ یوں کیا کہ “صرف ماسک نہ پہنیں کورونا ٹ ٹانگوں سے بھی لگ سکتا ہے”۔ (اس بات پر مسکرانا بھی سختی سے منع ہے۔)

دوسری جانب کچے پکے لاک ڈاؤن میں سامنے آنے والا ایک اور اہم نکتہ ہماری دیسی عوام کے ٹوٹکے بھی تھے جن کی بدولت سنامکی کے پتے جن کا اکثریت نے نام بھی نہ سنا تھا، گرم مصالحو ں کی قیمت بکنے لگے۔ ساتھ ہی چند نیم حکیموں نے یہ بھی بتا دیا کہ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد چار گھنٹے حلق میں رہائش اختیار کرتا ہے اس لیے نمک کے غراروں سے اسے فلش کرتے رہیں۔

سنامکی کے قہوے کا کرشمہ کہئے یا وائرس کا لائف سائیکل مکمل ہونے کا نتیجہ ہماری عوام نے روبہ صحت ہونے کے بعد پلازمہ کی فروخت کا کاروبار بالکل ویسے ہی چمکایا جیسے ماسک اور سینی ٹائزر کو بلیک کیا تھا۔ انہی میں سے وائرس کا سترہواں نکتہ تب سب کے علم میں آیا جب وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ “لہوریئے اللہ کی کوئی علیحدہ مخلوق ہیں”۔

ہماری تاریخِ قریب گواہ ہے کہ موقع محل کوئی بھی ہو بد سے بدنام برا کے مصداق ہر دفعہ سولی پر چڑھتا ہے تو کورونا۔ بات کو سمیٹیں تو انیسواں نکتہ تو آپ سب کو پتہ ہے ہی کہ کوویڈ 19 میں 19 سے مراد یہ ہے کہ وائرس ہر ملک پر انیس مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوسکتا ہے۔ مجھے تو صرف یہ ڈر ہے کہ اگر پاکستان میں وائرس کا زور ٹوٹنے تک مزید عوامی نکات سامنے آ گئے تو کہیں عالمی ادارہ صحت کو وائرس کا نام کوویڈ 60 یا ساٹھ نہ کرنا پڑ جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صدف ایوب اپنے مخصوص طرز تحریر کی بدولت مضمون کو گہرے معانی پہنا کر دلچسپ بناتی ہیں ، سیاست اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.