آن لائن کلاسز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں‌ موازنہ

559

زمانہ طالب علمی میں انسان بہت کچھ سیکھتا ہے جومختلف تجربات کا چربہ ہوتا ہے۔ بس کی سواری بھی عرصہ طالب علمی کا عمومی حصہ ہے لیکن جہاں موجودہ حالات نے ہماری زندگیوں کو مشکل میں مبتلا کر رکھا ہے، وہاں بس کا سفر بھی کچھ بدل سا گیا ہے۔ سو گہرے مشاہدے کے بعد محسوس کیا کہ آن لائن کلاسز اور بس کا سفر دونوں آپس میں گہری مماثلت رکھتے ہیں۔

تو آج کل ہم جس بس کے مسافر ہیں اس کا نام بنانے والے نے نام نیٹ رکھ چھوڑا ہے. ایک دوسری بس مائکروسوفٹ ٹیم کے نام سے بھی چلتی ہے، جس میں منزل کی جستجو میں روز منزل سے دور بھٹکتے ہیں۔ خیر سفر بہت پر لطف اور اس کی کہانی بھی. بس کا سفر تو بہت عام ہے لیکن اس بس کا کچھ مختلف ہے، ہر علاقے کے سٹوڈنٹس اس بس میں سوار ہوتے ہیں اور روز نت نئے تجربات حاصل کرتے ہیں۔ اب یہ تو رہی بس سے باہر کی داستان، اب آپ کو اس کے اندر لیے چلتے ہیں، جونہی اس کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ دروازہ بند، کھولنے کی کوشش کی لیکن کھل نہیں رہا۔

ذرا غور کرنے سے پتا چلتا ہے انٹرنیٹ میں کچھ مسئلہ ہے، اللہ للہ کر کے جب یہ مسئلہ حل ہوتا ہے تو دروازہ کھلتا ہے، جب اندر پہنچتے ہیں تو عجب گھمسان کا رن ہے. مسافروں کو دھکے الگ لگ رہے ہیں میرا مطلب نیٹ ورک الگ خراب ہے، اور شور شرا بہ الگ لگا ہوا ہے۔ ڈرائیور کی سیٹ پر ٹیچر براجمان ہے جو لاوڈ سپیکر پر اعلان کیے جا رہا ہے۔ کوئی سن رہا ہے تو کوئی سو رہا ہے، یک دم کسی سواری کا مائک ان میوٹ ہوتا ہے اور اس کے خاندانی جھگڑوں کی تفصیل آنی شروع ہو جاتی ہے جس سے سب لطف اندوز ہوتے ہیں اور لیکچر کے دوران بھرپور قہقہے لگانے کا موقع بوریت بھگا دیتا ہے۔ جو بیچارے پڑھنے والے بچے ہیں وہ ہر دھکے پر انٹرنیٹ خراب ہونے پر بحث کرتے ہیں کہ کس کھٹارا بس میں سوار کر دیا ہے۔ جیسے جیسے سگنلز اوپر نیچے ہوتے ہیں یعنی گاڑی رکاوٹوں سے گزرتی ہے تب قسمت کا رونا روتے ہیں، ان بے چاروں کا زیادہ تر وقت تو اسی ٹینشن میں گزرتا ہے، لیکچر کیا خاک سنیں گے۔ انہی کے درمیان ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جن کو نہ تو ریگولر کلاسز میں کچھ سمجھ آتا تھا، اب تو جیسے راوی چین لکھ رہا ہے، نہ سنا جاتا ہے، نہ پڑھا جاتا ہے، زندگی سے بیزار چپ چاپ اک کونے میں سکون سے بیٹھے ہیں۔

 پھر آتے ہیں پکے دوست، جن کے متعلق ایک بلند پایہ شاعر یوں گویا ہوئے ہیں:س

پڑا ہو گا بسوں میں آپ کو ایسوں سے بھی پالا
اٹھی کھجلی تو اپنے ساتھ، ساتھی کو بھی کھرچ ڈالا

یعنی کسی صورت یہ پکے دوست آرام سے نہیں بیٹھ سکتے، جب بھی ان میں سے کسی ایک کو کھجلی ہوتی ہے، دوسرے دوست کو وٹس ایپ پر میسج دے میسج تنگ کرتا ہے، ” سمجھ آ رہی ہے کچھ؟”، “وڈیو تو آن کر”. جب تنگ آ کر دوسرا وڈیو آن کرے گا تو کہتا ہے “بھائی ہیئرسٹائل بہت زبردست ہے تیرا، کٹنگ کہاں سے کرائی؟”. اگر دوسرا دوست رپلائی نہ کرے تو اس کو میٹنگ سے یعنی بس کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا. اب آتے ہی کلاس کی سب سے اہم شخصیات کی طرف، جی ہاں، بیک بینچرز۔ یہ وہ حضرات ہیں جو کلاس کی طرح بس کی بھی آخری سیٹوں پر سوار ہیں. جب بھی موقع ملتا ہے اپنی کارروائی ڈالتے ہیں.س

یہ لوگ نام بدل بدل کر بس میں آ بیٹھتے ہیں، پھر وقتاً فوقتاً مختلف جانداروں کی آوازیں نکال کر ڈرائیور کا منہ بند کرانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. جب ٹیچر پوچھتا ہے، “کیسے ہو سب؟” تو جواب آتا ہے ” آئے ہائے زندہ ہیں ، ہاں زندہ ہیں، یہ چلتی پھرتی میتیں ہیں”.آج بھی استاد کوئی کام دیتا ہے تو کہتے ہیں “یہی تو قیامت ہے” پھر اب استاد کہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو کہتے ہی ں “یہ تو ہوگا” جب کسی بات کی س مجھ نہیں آتی تو کہتے ہیں “اب یہ تو کسی کتاب یں نہیں لکھا” اگر غلطی سے ان میں سے کوئی پکڑا جائے اور پھر ٹیچر پوچھے ک تمہارے ساتھ کون کون تھا تو آ واز آتی ہے “یہ باتیں بتائی نہیں جاتیں، نظر لگ جاتی ہے” پھر یہی لوگ اپنے دوستوں کو بس یعنی میٹنگ سےجان ان کر باہر پھی نکتے رہتے ہیں سفر چل رہا ہے.س

ذرا سے اک پنکچر سے بگڑتا ہے سنگھار اس کا

ہوا پر جس کی ہستی ہو بھلا کیا اعتبار اس کا

او ہو یہ یکدم اڑی چلتی چلتی رک کیوں گئی، بھئی پنکچر ہو گیا. آج کے لیکچر کا وقت ختم ہوا منزل ابھی دور ہے تاہم سفر جاری رہے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صہیب نواز اپنی شخصیت پر مخصوص چھاپ نہیں چاہتے، مختلف موضوعات پر لکھنے کے شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.