ایک عہد جو تمام ہوا

709

“ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔۔۔۔۔دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام”۔۔۔۔ ان الفاظ کی گونج آج بھی کئی نسلوں کے ذہنوں میں پیوست ہے۔

طارق عزیز شو سے بچپن کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ڈائری اور قلم لے کر اہم سوالات اور شعر نوٹ کرنا اور پورا شو پابندی کے ساتھ دیکھنا۔ یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی بچوں کو بہترین تفریحی اور معلوماتی مواد فراہم کرتا تھا۔ اس دور کی تمام یادیں طارق عزیز صاحب کے انتقال کی خبر سن کر ایسے تازہ ہو گئیں جیسے میں اڑ کر اپنے بچپن کے دیس میں پہنچ گئی ہوں۔ جب علمی بنیاد پر حاضرین میں سے کوئی کسی سوال کا جواب دیتا تو ہال میں طارق عزیز کی پر وقار آواز گونجتی “یہ واٹرکولر آپ کا ہوا”۔ سولہ ہفتے کے مقابلے کے بعد گاڑی اگر کوئی پروگرام سے لے جاتا تو واقعی وہ اس کا حق بنتا بھی تھا۔ بیت بازی کے مقابلے میں مختلف کالجز کے طلباء اور طالبات کو شرکت مقابلہ کی دعوت دی جاتی۔ بہترین معلوماتی اور دلچسپی سے بھرپور پروگرام جس کے بارے میں سوچ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کے پاس اس طرح کا کوئی فورم موجود نہیں جس کے ذریعہ سے وہ اپنے معلومات کا ذخیرہ بڑھا سکیں۔

طارق عزیز صاحب کا پروگرام کئی دہائیوں پر مشتمل تھا۔ پہلے نیلام گھر پھرطارق عزیز شو اور بعد میں بزم طارق عزیز کے نام سے پی ٹی وی کے مقبول ترین پروگرام میں شمار ہوتا رہا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب نیلام گھر کو “طارق عزیز شو” کا نام دیا گیا تھا۔ خوش بخت شجاعت صاحبہ اس پروگرام کی میزبانی کر رہی تھیں اور تمام ناظرین تذبذب کا شکار تھے، پھر اچانک اس پروگرام میں طارق عزیز صاحب کی آمد اور اس پروگرام کو طارق عزیز شو کا نام دیا جانا کسی بھی میزبان کے لئے ایک اعزاز سے کم بات نہ تھی۔

وہ ایک محب وطن پاکستانی تھے، اپنے ملک کیلئے جان چھڑکنے والوں میں سے تھے، پاکستان کا ذکر جس جوش و جذبہ سے کرتے، ان کی اک یہی ادا آج بھی ہماری آنکھوں میں آنسو لے آتی ہے، پروگرام کے آخر میں‌ پاکستان زندہ باد کا نعرہ جیسے سب کے لہو گرما دیتا۔ طارق عزیز صاحب کی کوئی اولاد نہ تھی، مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے میں خود ان کی بیٹی ہوں بلکہ اس ملک کے سارے باشندے ان کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، اور کیوں نہ ہوں، وہ ایسی عظیم شخصیت تھے کہ انہوں نے زندگی تمام عیش و عشرت مہیا ہونے کے باوجود سادہ گزاری اور آخر میں اپنی تمام جائیداد پاکستان کے نام کر دی۔ طارق عزیز صاحب کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے کہ” ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم”۔ دعا ہے کہ اللہ پاک طارق عزیز صاحب کی خدمات قبول کرے اور ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

تحریر کا اختتام طارق عزیز صاحب کے ہی سوشل میڈیا پیغام سے:

“یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے، رواں دواں زندگی رک گئی ہے، کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی۔ نہ جانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آ رہی”۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. زرینہ انصاری کہتے ہیں

    ایک مکمل تحریر ہے

تبصرے بند ہیں.