نبیِ پاک ﷺ بحیثیت شوہر

1,056

دنیا میں کسی شخص کی عظمت و رفعت بلندی کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خانگی زندگی کو نہ دیکھ لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خانگی زندگی انتہائی عمدہ، خوشیوں سے بھرپور اور مثالی تھی۔ آپ ﷺ دنیا کے کامل ترین انسان، بیک وقت اعلیٰ پائے کے حکمران، سپہ سالار، قاضی، تاجر اور ساتھ ہی ساتھ کامل شوہر بھی تھے۔ بحیثیت شوہر آپ جناب ﷺ کی زندگی انتہائی خوبصورت نگینوں سے مزین ہونے کے سبب تمام شوہروں کے لیے بہترین مثال ہے۔

اسلام سے قبل عورت کی زندگی اونچ نیچ سے عبارت رہی، اسلام آیا تواس نے عورت کو اس کا حقیقی مقام دے کر عزت و احترام سے نوازا اور تعلیم دی کہ عورت اگر بیٹی ہے تو فخر، بہن ہے تو عزت، بیوی ہے تو جیون ساتھی اور اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔

اسلام نے عورت کو مکمل تحفظ فراہم کر کے قدر و منزلت میں اضافہ کیا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”النکاح نصف الایمان” یعنی نکاح آدھا ایمان ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ”ترجمہ: تم نکاح کرو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں۔” اختیار دے دیا گیا کہ ایسی جیون ساتھی بناؤ جو زندگی بھر تمہارے ساتھ بہترین زندگی گزارے۔ دین اسلام نے عورت کا وقار بڑھایا اور بتایا کہ
جب انسان شادی شدہ زندگی گزارتا ہے تو بیوی اللہ کا قرب حاصل ہونے میں معاون بنتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خاوند سیرت پرست ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بحیثیت شوہر ایسی زوجہ کا انتخاب فرمایا جنہیں زمانہ جاہلیت میں ”طاہرہ” کہا جاتا تھا۔ جب لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، اس ظلمت کے دور میں بھی انہیں ”طاہرہ” کا لقب ملا، یعنی پاکیزہ زندگی گزارنے والی، لقب سے ہی ان کی عظمت کا پتہ چل جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سیرت و صفات دیکھ کر منتخب فرمایا ۔

ارشاد نبوی ہے
”دنیا متاع ہے اور اس کی بہترین پونجی نیک عورت ہے” یعنی عورت زندگی کا حسین سرمایہ ہے۔
مزید فرمایا:س
”میری فطرت میں بیوی کی محبت رکھ دی گئی ہے۔” چنانچہ وصیت فرمائی کہ تم اپنی عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے :س
”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔”

آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے بحیثیت شوہر اپنی مثال فرمائی کہ
میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔

اب مرد کی اچھائی کا اندازہ اس کے گھر کی زندگی سے لگائیں گے، اگر وہ اپنی بیوی بچوں کے لیے پیار و محبت کا ماحول بنائے رکھتا ہے تواچھا انسان، اور اگر مصیبت بنائے رکھتا ہے تو برا انسان۔ میاں بیوی جب گھر میں ایک ساتھ ہوں تو انہیں چاہیے کہ ایک دوسرے سے جتنی پیار و محبت کی زندگی گزاریں اتنا ہی زیادہ اچھا ہے۔

نبی کریم ﷺ ازواج مطہرات سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے جس کی وجہ سے ازواج مطہرات بھی بعض دفعہ دوستوں جیسا برتاؤ کرتی تھیں۔ حالانکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے برابر کون ہو سکتا ہے، مگر آپؐ نے کبھی ازواج مطہرات پر طبعی غصہ و رعب نہیں ڈالا۔

آپؐ بحیثیت شوہر ایسا برتاؤ کرتے تھے کہ جس میں ماتحتی اور دوستی دونوں پہلو ملحوظ رہتے تھے۔ اس کا اثر یہ تھا کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما کبھی کسی بات میں آپؐ کی مخالفت نہیں کرتی تھیں۔ ادب و تعظیم اس قدر تھا کہ آپؐ کی عظمت کے برابر کسی کی عظمت نہ تھی۔ اور دوستی کا اثر بھی تھا کہ بعض دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ناز کرتیں مگر آپ ﷺ پر کبھی ناگوار نہ گزرا۔ ہمارے پاس آپ ﷺ کا اسوہ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ کیسا سلوک فرماتے تھے، کس دوستانہ و مشفقانہ انداز سے پیش آتے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں ایک سفر میں آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھی۔ پیدل دوڑ میں ہمارا مقابلہ ہوا تو میں آگے نکل گئی۔ اس کے بعد جب میرا جسم بھاری ہوگیا ، (اس زمانے میں بھی) ہمارا دوڑ کا مقابلہ ہوا اب کی بار آپ آگے نکل گئے تو اس وقت آپ نے فرمایا : ”یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہے۔”

آپؐ کی ازواج مطہرات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ: ”ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں، حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا۔

حمیرہ کا معنی ہے سرخ و سفید، چونکہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو رب تعالیٰ نے خوبصورتی سے نوازا ہوا تھا، ہر وقت چہرے پر لالی و سفیدی رہتی تھی ، تو نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم نے پیار سے حمیرہ نام رکھا ہوا تھا۔

اسی طرح پیار سے ”عائش” بھی پکارتے تھے چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے تو آپ ﷺ نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیا تھا، آپؐ نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔”

ایک دوسری روایت میں ہے: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب ہڈی پر سے گوشت کھاتیں تو نبی ہڈی لے کر وہاں منہ لگا کر کھاتے جہاں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کھایا۔” سوچنے کامقام ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اتنی محبت دے تووہ کیوں اس کے ساتھ خوش نہیں رہے گی؟

شریعت چاہتی ہے میاں بیوی پیار و محبت سے رہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ شریعت کے دائرے میں اپنے معاملات کو آگے بڑھائیں۔ آپس میں خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ خود نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم انتہائی خوش مزاج تھے، جب بھی گھر تشریف لاتے تو مسکراہٹ سے بھرا چہرہ لے کرازواج مطہرات کے پاس تشریف فرما ہوتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے، کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے کی اصلاح فرما دیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔ ایک مرتبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور اقدس صل اللہ علیہ والہ وسلم سے کسی بات پر گفتگو کر رہی تھیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ وہاں پہنچ گئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہم تمہیں ثالث بنا لیتے ہیں ۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بات سننے لگے، حضرت عائشہؓ غصہ میں تھیں تو ناز سے اپنے شوہرنبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے کہہ دیا : ”دیکھیں سچ سچ بات کیجیے گا۔ ”

جب انہوں نے یہ بات کہی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کو تھپڑمارا ،اور فرمایا: تم اللہ کے محبوب کو کہہ رہی ہو کہ سچ سچ کہنا۔ اللہ کی بندی! وہ سچ نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں؟

عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے غصہ سے جان بچانے کے لیے محبوب شوہر صل اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے ہو گئیں۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہم نے تمہیں ثالث بنایا تھا ہم تم سے یہ نہیں چاہتے تھے، پھر فرمایا: آپ بیشک جائیں ہم آپس میں فیصلہ کر لیں گے۔

صدیق اکبرؓ واپس ہو گئے، تو نبی کریم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مسکرا کے دیکھا اور فرمایا: دیکھا! باپ نے تھپڑ لگایا تو جان میرے پیچھے ہی چھپ کر بچی۔ یہ تھی آپس کی محبت، شریعت نے بیوی کو (دائرے کے اندر) ناز نخرے کی اجازت دے رکھی ہے۔

آج کل ہمارا یہ معاشرہ کس سمت جا رہا ہے، اپنی بیوی کو پیار سے کسی نام سے پکارا تو پورے گھر میں مذاق بنا رہتا ہے، بیوی کا خیال رکھا اس کو بیٹھنے کے لیے کرسی رکھ کے دے دی اس کی طرف والا گاڑی کا دروازہ کھول دیا تو بے غیرت اور اس جیسے اور بہت سے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنی خانگی اور گھریلو زندگی اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق بنائیں۔اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ناعمہ قاضی کا تعلق کراچی سے ہے اور تاریخی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.