کورونا سے ڈرنا نہیں مگر بچنا ضروری ہے

332

کیا کہہ رہے ہو، کیاااااااا۔۔۔ جانا ہے۔۔ کہاں جانا ہے۔۔۔ احمد کی سالگرہ پر۔۔۔ اور وہاں پارٹی کرنی ہے ۔۔۔۔ اچھا۔۔ اور میں بھی چلوں ۔۔۔ تمھیں پتہ نہیں۔۔۔۔۔باہر کورونا ہے ۔۔ منع کیا ہے باہر جانے سے ۔۔۔۔ وہ سنا نہیں، گھر پر رہو اور محفوظ رہو۔۔۔۔

کیا کہا۔۔۔؟ مذاق ہے ۔۔۔ ہاں کورونا مذاق ہے۔۔۔کیا۔۔۔۔ ہمیں کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ کیوں بھلا۔۔ ہم دیسی گندم اور گھی کھانے والے لوگ ہیں ۔۔۔ بہت مضبوط ہیں۔

اچھا بھئی۔۔۔ مانا کہ تم مضبوط لوگ ہو ۔۔ ہاں اور مرض لگ بھی گیا تو ٹھیک ہو جاو گے۔۔۔ مگر سنو ۔۔ یہ تو مانتے ہو نا کہ کورونا ایک حقیقت ہے اور ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ خدا کے لیے اب تو سمجھ جاؤ….س

سنو پاکستان میں یہ سارا کام خراب ہی ایسے ہوا ہے، تم نے اٹلی کی حالت دیکھی تھی نا اور اب ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ہم نے حکومت اور ڈاکٹرز کی بات نہیں مانی۔۔۔۔۔ اور دیکھو اب معاملہ سنگین ہو گیا ہے۔ ان لاپرواہیوں کی وجہ سے کچھ دنوں میں تعداد ڈیڑھ لاکھ تک چلی گئی ہے اور ابھی ٹیسٹ صرف ان لوگوں کے ہو رہے جن میں اسکی علامات دیکھی گئی ہیں… جو بیمار ہیں .. روز کئی اموات بھی ہورہی ہیں۔۔ اور ہم ابھی بھی مذاق میں بات اڑانے پر لگے ہیں۔۔۔۔

سنو اب سنجیدہ ہو جاؤ…… اور کرنا کیا ہے…. بس کچھ احتیاط ہی تو کرنی ہے…. دیکھو اب کسی بات کو مذاق میں نہیں اڑانا ۔۔۔ اور کسی جگہ ہجوم اکٹھا نہیں کرنا ۔۔۔ حکومت نے جن باتوں سے روکا ہے ۔ان سے رکنا ہے۔۔۔ ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے پرہیز کرنا ہے ۔۔۔ ہاتھ صابن سے دھونے ہیں ۔۔اور صاف ستھرا رہنا ہے ۔۔ کھانسی اور چھینک کی صورت میں منہ کو اچھے سے ڈھانپنا ہے ۔۔۔ خود بھی بچنا ہے اور دوسروں کو بھی بچانا ہے ۔۔۔ہاں ایسی ویسی غلط خبریں پھیلانے سے گریز کرنا ہے… علاج اگر ٹوٹکوں سے ہوتا تو کب کا یہ ختم ہو چکا ہوتا ۔۔۔۔ غیر ضروری باہر نہیں جانا سمجھ گئے نا ۔۔اور۔۔۔ اگر بصورت انتہائی اہم ضرورت جانا بھی پڑے تو احتیاط لازم ہے ۔۔۔فاصلہ رکھنا ہے دوسروں سے، صحیح ہے نا ۔۔۔۔ اور گھر والوں کو بھی سمجھانا ہے ۔۔۔ اور ہاں پریشان نہیں ہونا ۔۔ اس وقت ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے ۔۔ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانا ہے ۔۔ یہ ایسی بیماری نہیں کہ جان ہی لے لے مگر ہمیں احتیاط کرنی ہے…. تبھی ہم بچ سکتے ہیں ۔۔۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی جان بچانی ہے ۔۔۔ اب تو سمجھ جاو ۔۔۔ اور یہ کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے کسی ذات، نسل، عمر، شہر یا علاقے کی کوئی قید نہیں ۔۔۔ بس ایک احتیاط ہی اسکا علاج ہے ۔۔۔

سنو ایسی ویسی بات سن کر کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرنا کہ فلاں چیز سے یہ کورونا نہیں ہو گا فلاں سے نہیں ہوگا ۔۔۔ صرف تحقیق شدہ بات سننی اور ماننی ہے ۔۔۔ جیسا کہ اسکی علامات میں نزلہ زکام، ناک کا بہنا ،بخار، سانس لینے میں دشواری ۔۔۔ایسی صورت میں خود کو علیحدہ کر لینا ہے اور فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہے….س

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.