چین، بھارت سرحدی تنازعے کا مستقبل

829

بھارت اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر طویل سرحد ہے جسے ایل اے سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جمو ں و کشمیر، ہماچل پردیش، سکم، اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش سے گزرتا ہوا برما تک پہنچتی ہے اور دنیا کے سب سے اونچے بارڈرز میں سے ایک ہے جس کو ‘دنیا کی چھت’ کہا جاتا ہے۔

سال 1975 سے لیکر اب تک دونوں ممالک کے درمیان ایک گولی بھی نہیں چلی، چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں لیکن بھاری اسلحہ استعمال نہیں ہوا۔ حالیہ تنازع میں بھی دونوں فریقوں نے بھاری ہتھیاروں کی بجائے چھوٹی موٹی جھڑپوں سے ایک دوسرے کی خاطر داری کی ہے تاہم قانونی طور پر درست ہونے کے سبب چین کو اخلاقی و فوجی سبقت حاصل ہوگئی ہے۔

اب آتے اصل قضیے کی طرف، معاملہ 5مئی کو شروع ہوا جب دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آ ئیں۔ اسوقت دونوں ممالک کے درمیان جن مقامات پر ٹینشن چل رہی ہے، ان میں وادی گلوان، انگ سو جھیل، ڈیمچک اور لداخ کے مقام جہاں بھارت کی طرف سے سکم لگتا ہے اور چین کی طرف سے تبت لگتا ہے۔ چین نے 1962 کی جنگ میں کسائی چن اور اروناچل پردیش کے کچھ علاقے پر قبضہ کرلیا ہوا ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے اس کے 90000 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہے۔ حالیہ تنازعے کی دو بنیادی وجوہات ہیں، پہلی وجہ بھارت کی جانب سے ایل اے سی کی اپنی جانب نئی تعمیرات ہیں۔ چین کو اس پہ تشویش ہے کہ جب تک سرحدی تنازع حل نہیں ہوتا، وہاں فوجی تعمیرات پر کا م نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا پس منظر یہ ہے کہ مودی نے وزیراعظم بنتے ہی چینی بارڈر کے ساتھ 66 بڑی سڑکیں بنانے کا عندیہ دیا تھا۔ ان میں سب سے اہم شاہراہ گوان وادی کے قر یب ہے جو دولت بیگ اولڈی ائیر یس تک جاتا ہے۔ پچھلے اکتوبر اس کا افتتاح کیا جا چکا ہے، بھا ت کے لیے یہ بہت اہم شاہراہ ہے کیونکہ یہ بارڈر کیلئے تمام سپلائی لائنز ملاتا ہے۔ چین کے مطابق یہ تعمیرات کسی آبادی کے لیے نہیں بلکہ فوجی ساز وسامان کی منتقلی کے لیے اتنے بڑے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ خطے کے اس صورتحال پر اپنے رد عمل میں پاکستان کے وزیر خا رجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر بھارت نے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کا دعوی ہے کہ چین پنگ گانگ جھیل سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ائیر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے، اسی طرح بھارتی دعوے کے مطابق چینی فوج نے وادی گلوان میں مزید چینی فوجی تعینات کئے ہیں جس کے بعد بھارت نے بھی وہاں فوجی تعیناتی میں اضافہ کیا۔

بھارت اپنی توسیع پسندانہ مقاصد کے سبب اس وقت شدید مشکلات میں گھرا نظر آتا ہے کیونکہ اس نے نیپال کے ساتھ موجود سرحد پر بھی چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ دونوں ممالک ک درمیان 1800 کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ نیپال کا موقف ہے کہ بھارت نے اس کی سرزمین پر بھی شاہراہ تعمیر کی ہے جو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 8 مئی کو لپو لیکھ کے قریب 80 کلومیٹر طویل شاہراہ کا افتتاح کیا تھا، لپو لیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور بھارت کی سرحدیں ملتی ہیں۔ نیپال، بھارت کے اس قدم پر سخت ناراض ہے۔ نیپالی وزیراعظم کے پی شرما نے ایک بیان میں کہا کہ نیپال اپنی سرزمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا۔ مزید صورتحال اس و قت بگڑ گئی جب نیپال نے ایک علاقائی نقشہ جاری کیا جس میں بھارت کی جانب سے قبضہ کئے گئے تمام نیپالی علاقوں کو بطور ثبوت دکھایا گیا، حقیقت سامنے آنے پر مودی سرکار اور بھارتی فوج میں کافی بے چینی پھیل گئی ہے۔

اس تمام صورتحال میں چین کو زیادہ تشویش ہے کیونکہ بھارت پہلے ہی اس کے 90 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا ہے اب تعمیرات کی آڑ میں مزید علاقے کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے جبکہ چینی حکومت کو یہ بھی خدشات ہیں کہ دنیا کی بلند ترین علاقوں میں شامل اس خطے میں امریکہ چین پر نظر رکھنے کیلئے تنصیبات تعمیر نہ کر لے کیونکہ امریکہ کا پرانا خواب ہے کہ وہ یہاں سے پورے جنوبی و وسطی ا شیا پہ نظر رکھنے کیلئے اپنا مواصلاتی مرکز قائم کرے اور یہاں سے چین کو تو انتہائی آسانی سے مانیٹر کیا جا سکے گا۔

دوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹینشن رہے کیونکہ صرف اسی صورت میں امریکہ کی انڈو پیسیفک سٹریٹیجی کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ امریکی نمائند ہ برائے ساؤتھ سینٹرل ایشیا ایلس جی ویلس نے چین کو اس سارے معاملے میں یک طرفہ طور پر قصوروار ٹھہرایا ہے، حالانکہ چین کی طرف سے شروع میں ایک گولی بھی نہیں چلی۔ حالانکہ پاکستان کے ساتھ مرجود لائن آف کنٹرول اور کشمیر میں تقریبا روزانہ کی بنیاد پر بھارت بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کرتا ہے جس سے کشمیریوں اور پاکستانیوں کا اچھا خاصا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اس پہ کچھ بولنے کی امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ امریکہ کو اصل مسئلہ چین کے میگا پروجیکٹ کے چھٹے اور سب سے اہم حصے سی پیک سے ہے، یہ بھارت اور امریکہ دونوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے اور دونوں کسی بھی قیمت پر اس کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

دوسری وجہ بھارت کی جانب سے کشمیر اور لداخ کی حیثیت تبدیل کرنا ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو عالمی طور پر مانے جانے والے مقبوضہ علاقوں کو یکطرفہ اقدام اٹھاتے ہوئے یونین ٹیریٹوریز کا درجہ دیا جو پاکستان اور چین دونوں کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ دونوں ممالک پچھلے 70 سالوں سے بھارت کے توسیع پسندانہ مقاصد کے ڈسے ہوئے ہیں، اس مسئلے پر بھی چین اور پاکستان کی بھارت کے ساتھ گزشتہ ایک برس سے سفارتی محاذ پر سخت تناو کی کیفیت موجود ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صورت حال اگر مزید بگڑتی ہے تو عالمی برادری کیا ردعمل دکھاتی ہے، اگرچہ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن سب ٹرمپ کی سمجھ بوجھ کی سطح سے واقف ہیں، صدر ٹرمپ نے اپنے ملک میں ایک سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے معاملے کو جس بری طرح ڈیل کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، صدر ٹرمپ کی نا اہلی کی امریکہ کے اندر اور یورپ سمیت بیرونی ممالک مذمت کی گئی ہے۔ لہذا چین کسی صورت امریکی ثالثی کی پیشکش کو منظور نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ ثالثی کے پس منظر میں اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش ہی کرے گا۔ دوسری جانب امریکہ اور چین کے مابین کورونا وائرس اور ساوتھ چائنہ کے سمندری علاقوں پر بھی سرد جنگ عروج پر ہے۔ جس طرح صورتحال آگے بڑھ رہی ہے لگتا ایسا ہی ہے کہ بھارت کو پاکستان، چین اور نیپال کے مقابلے میں اپنے غیر قانونی اقدام سے پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا کیونکہ بھارت کو معلوم ہے کہ وہ کشمیر میں تو اپنا الو بزور طاقت سیدھا کر سکتا ہے، اگر یہ ممالک اکٹھے ہو گئے تو پھر بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانے کیلئے تیار رہنا ہو گا جس میں مقبوضہ کشمیر سے ہاتھ دھونا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

سمیع اللہ خطے کی سیاست کے گہرے نقاد ہیں خصوصا کشمیر سے متعلق پیش رفت پر قلم آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.