میرا دم گُھٹ رہا ہے….!

495

گزشتہ ہفتے ایک گورے امریکی پولیس اہلکار نے سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کو انتہائی بہیمانہ طریقے سے تشدد کر کے ہلاک کر دیا، انسانیت سوز واقعہ امریکہ کے شہر مینیا پولس میں پیش آیا۔ امریکہ میں نسل پرستی کوئی نئی بات نہیں۔ سفید فاموں نے امریکہ پر قبضہ کیا تو افریقہ سے ہزاروں غلام خرید کر امریکہ لائے گئے۔ سیاہ فاموں نے غلامی کے خاتمے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں حصہ لیا۔ اِس جدوجہد کی وجہ سے امریکہ میں خانہ جنگی شروع ہو گئی لیکن ابراہم لنکن کے دشمنوں نے اُسے قتل کر دیا۔ اِس کے بعد سیاہ فاموں کو ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لیے سو سال لگ گئے۔ یکم دسمبر 1955ء کو ایک سیاہ فام خاتون روزہ پارکس، بس میں سوار ہوئی۔ اُس نے ایک سفید فام کے لیے نشست چھوڑنے سے انکار کیا۔ صرف اِس انکار کی وجہ سے اُس عورت کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اِس واقعہ کے خلاف سیاہ فاموں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے، آخر امریکی عدالت نے یہ فیصلہ سیاہ فاموں کے حق میں دیا۔

سیاہ فاموں کے حق میں آواز اٹھانے والا اگلا رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر تھا جس نے انسانی مساوات کے لیے بھر پور آواز اٹھائی۔ مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد کے نتیجے میں امریکی سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا۔ انسانی مساوات کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں مارٹن لوتھر کنگ کو قتل کر دیا گیا۔ اِس کے بعد ایک سیاہ فام امریکہ کا صدر بننے میں کامیاب ہوا جس کا نام باراک اوباما تھا۔ لیکن اِس کے باوجود بھی امریکہ نسل پرستی اور تعصب کی زنجیروں میں آج تک جکڑا ہوا ہے۔

امریکہ کی تاریخ نسل پرستی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ گزشتہ سال 25مارچ کو ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا، تب ایک گورے پولیس اہلکار نے سیاہ فام امریکی شہری کو سرعام گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اِس واقعہ کے خلاف پورے امریکہ میں مظاہرے ہوئے۔

ستمبر2018ء میں بھی ایسا ہی دردناک واقعہ ہوا۔ اس میں بھی گورے پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی قتل ہوا۔ اِس واقعہ کے بعد بھی امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ایک ایسا ہی واقعہ 2017ء میں بھی پیش آیا۔ جس میں دو سفید فام پولیس افسروں نے ایک سیاہ فام امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ریاست لوزیانہ میں پیش آیا۔ اِس ظلم کے خلاف کئی روز تک مظاہرے جاری رہے۔اِن مظاہروں میں شرکت کرنے والے 200افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اِس واقعہ کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے نسل پرستانہ فیصلہ دیا جس میں واقعہ میں ملوث دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا کہا گیا۔

اِس وقت پورے امریکہ میں جارج فلوئیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جو دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مظاہرین میں پولیس کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کئی سرکاری املاک اور گاڑیوں کو جلایا جا چکا ہے۔ اِن مظاہروں میں شریک لوگ ’’ میرا دم گھٹ رہا ہے‘‘ اور ’’ سیاہ فاموں کی جان بھی قیمتی ہے‘‘ جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔ امریکہ کے 40 سے زائد شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ہنگاموں اور جلاو گھیراو کی کارروائیوں میں بدل گئے۔ امریکی انتظامیہ بوکھلا گئی اور 40 سے زائد شہروں میں کرفیو یا پھر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

اب ان مظاہروں کا دائرہ برطانیہ سمیت یورپی ممالک، آسٹریلیا سے ہوتا ہوا ایشیائی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ عالمی رہنمائوں نے اِس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ رنگین فام لوگوں کے ساتھ یہ سلوک معمول بن چکا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے بھی اِس واقعے میں صدر ٹرمپ کی نااہلی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، انھوں نے کہا ہے کہ ہم اِس واقعے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ صدر ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے ان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے لوگوں کو تقسیم کیا اور وہ اچھی قیادت کرنے میں ناکام ہو گئے۔

اقوام متحدہ میں روس کے مندوب دی متری پولیانسکی نے بھی اِس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چینی مندوب ژانگ ژو نے بھی سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس کے دوران اِس واقعہ کو امریکہ کی جمہوریت پر سوالیہ نشان قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر میشل بشلے نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاہ فام امریکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے امریکی حکومت سے مظاہرین کے ساتھ تحمل سے نمٹنے اوراس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی اِس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جرمنی نے تو امریکی عوام کے ان مظاہروں کو جائز قرار دے دیا۔

امریکہ جو کہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبر دار کہلواتا ہے، وہاں لاقانونیت عروج پر ہے۔ رواں سال کے ابتدائی چار مہینوں میں امریکی پولیس کی حراست میں دو سو سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے قتل کے ملزمان کو اکثر بری کر دیا جاتا ہے یا سزائے موت کی بجائے نرم سزا دی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا کی واحد سپر پاورامریکہ میں ایسے واقعات کا ہونا انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ اس لئے جتنا سخت رد عمل جارج فلوئیڈ والے واقعے پر دیکھا گیا اتنا امریکہ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک الرٹ کال ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کمزور اپنے حقوق کے لئے نکل پڑتا ہے تو پھر کمزور کی جدوجہد انقلابات کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ 1789ء کے انقلاب فرانس سے امریکہ بلکہ پوری دنیا کو سبق سیکھنا ہو گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.