ہم ناکام کیوں‌ ہوتے ہیں؟

1,405

گاؤں کے پرانے کنویں میں تین بکرے گر گئے۔ تینوں نے شور مچانا شروع کر دیا، بچاؤ بچاؤ۔ سارے ریوڑ کے بکرے ان کی آواز سن کر کنویں کے منڈیر پر پہنچ تو گئے لیکن ان کو نکالنے کیلئے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ کنویں میں گرے بکروں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ اوپر منڈیر پر کھڑے بکرے بس نمائشی فکر میں مبتلا ہیں، عملی اقدام ان کے بس کی بات نہیں۔ ایک بکرے نے ہمت ہار دی، اس کو کنویں کی کئی سو فٹ گہری تہہ میں دم گھٹنا محسوس ہونا شروع ہوا اور کچھ دیر بعد سانسیں رکنے کے سبب وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ دوسرے دونوں بکروں نے مرنے والے کی موت سے ہمت ہاری نہ ہی کنویں کی گہرائی کی فکر کی، وہ لگاتار کنویں کی دیواروں سے نکلی اینٹوں کے ذریعے اوپر چڑھتے رہے اور چند گھنٹوں کی محنت کے بعد بالآخر وہ کنویں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

ہماری مثال بھی شائد ان تین بکروں کی ہے جو کنویں میں گر گئے تھے، لیکن اگر ہماری زندگی میں تھوڑی ناکامی آئی ہے تو کیا بیٹھ کر صرف اپنی حالت پر افسوس کرتے رہیں، ہمت ہار کر یہی کہتے رہیں، بھائی بس اب اور نہیں ہوگا ہم سے، ہماری قسمت ہی بری ہے، ہم پہلے بھی ناکام ہوئے، اب پھر ناکام ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

ارے بھائی ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، ناکامی آتی ہے ہماری سپیڈ بڑھانے کے لیے، ہمیں روکنے کے لئے نہیں ۔ وہ نیوٹن کا قانون ہے نا کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے، اگر تم ناکام ہوئے تو سوچو، ایسا کیوں ہوا۔ ناکامی کا سبب بننے والے جو پوائنٹس تمھیں نظر آئیں، ان پر وقت لگاو، ان پہ محنت کرو، اور ایسا ردعمل دو کہ تم کامیاب بن جاو۔ اگر خدانخواستہ ہارنا ہی قسمت ہے تو ایسے ہارو کہ تم نہیں تمھیں ہارنے والا روئے۔ ایسے ہارو کہ دنیا تمھارے ہارنے پر روئے۔ شیر سے سبق سیکھو، گیدڑ سے نہیں کیونکہ شیر جب زخمی ہوتا ہے تو دگنی طاقت سے حملہ کرتا ہے۔ لیکن گیدڑ جب زخمی ہوتا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔

مگر تم تو انسان ہو، تمھیں‌ جانوروں کی مثالیں‌ کیوں‌ دیں. حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ آج اگر حالات سخت ہیں، سب لوگ تمھارے خلاف ہیں۔ کوئی بات نہیں، سخت وقت گزر ہی جائے گا لیکن دنیا کی باتوں میں نہیں آنا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی طرح پیچھے مڑ کے نہیں دی دیکھنا۔ کیونکہ بزرگوں کا فرمان ہے تمھارا کام سعی اور کوشش کرنا ہے، کامیابی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ صوفی بزرگ میاں محمد بخش فرماتے ہیں:س

مالی دا کم پانی دینا، بَھر بّھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پَھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے

دوستو یہ بھی یاد رکھیں، کامیاب ہونا ہے تو بہرا بننا پڑے گا۔ دنیا تمہیں ڈرائے گی، تمھیں ناامید کریگی لیکن تمھارے پایہ سبقت میں لغزش نہ آئے۔ ہمارے بابا اشفاق احمد کے ڈرامے کے کردار کی طرح پیچھے پھاٹک بند کرنا ہو گا اور کتوں کو بھونکنے دینا ہو گا، تبھی ہم آگے جائیں گے۔ اپنے نیک مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ بس اپنا تعلق اللہ تعالی سے بنائیں، انشاءاللہ دنیا اور آخرت کی کامیابی ہمارا مقدر ہو گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ارشد حسین نے معاشیات میں ماسٹرز کر رکھا ہے اور نوجوان نسل کو پاکستان کا مستقبل جانتے ہوئے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.