اولاد کی بہترین تربیت ذخیرہ آخرت ہے

675

اولاد اللہ ربّ العزت کا نہایت قیمتی انعام ہے اور اسے دنیاوی زندگی میں رونق بیان کیا گیا ہے۔ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب صرف اس وقت ہیں جب بچپن ہی سے ان کی صحیح نشونما اور اخلاقی تربیت کی جائے، زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ مذہب اسلام میں جہاں والدین کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے وہاں والدین کو اولاد کی بہترین تربیت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ضروری ہے کہ ماں باپ اولاد سے یکساں محبت کرتے ہوئے ان کے حقوق کی ادائیگی اچھے طریقے سے کریں بلکہ اولاد کی پرورش کے معاملے میں بھی قرآن مجید کی روشن تعلیمات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے رہنمائی حاصل کریں۔

اولاد کی تربیت کے بارے میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ ’’ کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے‘‘ (سنن ترمذی )۔ حضرت لقمان نے جو وصیت اپنے بیٹے کو کی، اللہ جلا شانہ اسے قرآن کریم میں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اے بیٹے! اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے‘‘۔

حضرت لقمان نے آگے فرمایا کہ ’’ اے میرے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو (تو بھی اسے معمولی نہ سمجھنا وہ عمل ) کسی پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا پھر زمین کے اندر (زمین کی تہہ میں چھپا ہوا ہو ) اللہ تبارک وتعالیٰ اسے ظاہر کر دے گا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین و باخبر ہے۔ اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کرو، برے کاموں سے منع کیا کرو، جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کرو، بے شک یہ(صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ لوگوں سے بے رخی مت اپناؤ اور زمین پر تکبر سے مت چلو، بے شک اللہ تعالیٰ کسی متکبر کو پسند نہیں فرماتے۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو، اپنی آواز کو پست رکھو، بے شک سب سے بری آواز گدھے کی ہے‘‘ (سورۃ لقمان )۔

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حکیم لقمان کی دانائی وحکمت والی نصیحتیں جو انہوں نے اپنے فرزند سے کیں انہیں بیان فرما کر چند باتوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس کے نام سے نہیں پکارا بلکہ اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نام لینے سے محبت کا وہ اظہار نہیں ہوتا جو’’ اے میرے بیٹے ‘‘ کہنے سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ جس طرح ماں لاشعوری عمر میں بچے کو محبت میں ’’میرالعل، میراچاند، میرا سوہنا‘‘ وغیرہ جیسے القابات سے پکارتی ہے اسی طرح جب بچہ شعوری عمر کو پہنچ جائے تو والدین اس سے اسی اندازِ محبت میں بات کریں تو ماں باپ کی بات بچے کے دل ودماغ پر بہتر طور پر اثر انداز ہوگی۔

سب سے پہلی نصیحت جو حضرت حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو کی وہ توحید باری تعالیٰ سے متعلق تھی کہ ’’میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو سب سے پہلے دینی عقائد وافکار کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ بڑا ہوکر وہ ایک اچھا مسلمان بنے کیونکہ اس کے عقائد جب صحیح ہوں گے تو اعمال بھی ان شاء اللہ صحیح ہوںگے اوراگر عقائد قرآن وسنت سے متصادم ہوئے تو یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ راست اعمال کرے گا۔ بچوں کا ذہن صاف وشفاف ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط و پائیدار ہوتی ہے، اس لئے سب سے پہلے بچے کو دینی و اخلاقی تعلیم دی جائے۔

حضرت لقمان مزید فرماتے ہیں کہ ’’اے میرے بیٹے، نمازقائم کرو اور اچھے کاموں کی تلقین کیا کرو اور برے کاموں سے منع کیا کرو۔‘‘ حضرت لقمان کے اس فرمان میں تین امر ہیں۔ پہلا یہ کہ نماز قائم کرو۔ نماز ہر شریعت میں رہی ہے۔ اس کی کیفیت و ہیئت میں تبدیلی واقع ہوتی رہی، پھر نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اللہ کی مدد چاہو، نماز اور صبر کے ذریعہ سے‘‘۔ اسی طرح نماز جسم وروح کے لئے باعث سکون وراحت ہے اور ایک مسلمان نماز کو صرف اللہ کا حکم سمجھ کر پڑھے تو اس سے مالک حقیقی راضی ہو گا اور جب مالک راضی ہوتا ہے تو بندہ پر انعامات کی بارش کرتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اچھے کاموں کا حکم کرو۔ ایک شخص دوسرے کو جب اچھائی کا حکم دے گا تو لامحالہ امر ہے کہ اول وہ خود بھی اچھے کام کرے گا۔ اور تیسرا یہ کہ برائی سے منع کرنا۔ بلاشبہ برائی سے منع کرنا بھی اسی وقت ممکن ہے جب بندہ خود برائی سے باز رہے۔ اگر کوئی شخص خود برے کام کرے اور دوسروں کو کہے یہ نہ کرو تو اس کا کتنے اثر ہوگا یہ ہر عام و خاص جانتا ہے۔ جب ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور اچھائی کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے باز رہتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے تو لامحالہ بہت سے لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں، وہ اسے جانی نقصان نہ بھی پہنچائیں، ذہنی اذیت دیتے رہتے ہیں، جس پر اسے صبر کرنا ہے۔ یہ لمحات بڑے ہمت کے ہوتے ہیں کہ بے وجہ تنقید برداشت کی جائے، بے وجہ کے طعنے سنے جائیں، اس پر طنز واستہزاء کے تیر برسائیں جائیں اور ان سب کے جواب میں وہ خاموش رہے۔ اس کے لئے بڑی ہمت وبڑا حوصلہ چاہیے اور یہی بات حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمائی تھی کہ صبر کرنا بڑی ہمت کا کام ہے۔

جن لوگوں سے مزاج نہیں ملتے،ان سے بھی بے رخی سے بات مت کرو، حضرت لقمان نے اپنے لختِ جگر کو اس سے بھی منع فرمایا اور کہا کہ متکبر مت بنے یعنی بے رخی کا معاملہ تکبر کے زینے کی پہلی سیڑھی ہے اس سے بچنا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بھی متکبرین کو پسند نہیں فرماتے۔ اعتدال ہر شے میں لائق تعریف و مدح ہوتا ہے اور افراط و تفریط لائق مذمت ،اس لئے ان دونوں امور سے بچ بچا کر زندگی بسر کرو۔ آخری بات حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو یہ سکھائی کہ اے میرے بیٹے !اپنی آواز کو پست رکھو۔

حضرت لقمان کی اپنے فرزند کو کی گئی یہ قیمتی نصیحتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں اپنی اولاد سے ان کی نفسیات سامنے رکھ کر، ذہنی اپروچ کا اندازہ لگا کر بات چیت کرتے رہنا چاہیے۔ آج کے ماحول کا تقاضا ہے کہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو کریں، ان کے مسائل اور پریشانیوں کو سنیں اور حل کریں کیونکہ ڈانٹ ڈپٹ کا دور گزر چکا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ 10 برس رہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان10 برسوں میں کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے نہیں ڈانٹا۔ ایک واقعہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں بچوں کے ساتھ کھیل کھود میں لگ گیا، اس کے باوجود بھی نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے نہیں ڈانٹا۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ ’’اپنی اولاد کے ساتھ نرمی برتو اور ان کی بہتر تربیت کرو‘‘۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو اولاد کی بہتر تربیت کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور اولاد کی تربیت اگر شعائر اسلام اور طرزِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کی گئی ہو تو ان شاء اللہ اولاد کی دنیا وآخرت بھی سنورے گی اور اولاد مطیع و فرمابردار اور خدمت کرنے والی بھی ہو گی، انشاء اللہ۔ والدین کی طرف سے اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت والدین کے لئے صدقہ جاریہ اور ذخیرہ آخرت ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.