سنیاسی دانشور

5,114

خبر نہیں تھی کہ ایک موبائل کے اشتہار میں اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر کریئر چُنتی اور نام بناتی ٹین ایجر لڑکی کسی عمر رسیدہ صاحب کی انا کا مسئلہ بن جائے گی اور ان کا اسلام بشمول اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔ پہلے تو پورا ایک ٹاک شو کر ڈالا۔ اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو “پراڈکٹ” کے عنوان سے  کالم ہی لکھ مارا۔ جِس کو پڑھ کر احساس ہوا کہ بابائے نفسیات سگمنڈ فرائیڈ یہ تو بتا گئے کہ بچپن کے تجربات انسانی کردار کی تشکیل کرتے ہیں اور بچہ کس عمر سے جنسی فینٹسی میں پڑتا ہے لیکن یہ معلوم کرنا بھول گئے کہ کِس عمر میں جا کر ہارمونز کے مسائل بزرگ حضرات کو خود لذتی کے لیے اخلاقی پستیوں میں گِرا سکتے ہیں۔

مسئلہ سن یاسیت کے شکار ان صاحب کا معاشرتی یا تہذیبی نہیں نفسیاتی ہے۔ انہوں نے وہی دیکھا جو دیکھنا چاہتے تھے۔ پہلے تو نافرمان اولاد کے کامیاب ہونے پر دو پیرا گراف لکھ مارے۔ اور مذہبی حوالہ جات سے من مرضی کا بگھار تحریر کو دو آتشہ کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پھر آئے اصل مدعا کی جانب۔ لڑکی کے جسمانی خدوخال۔ اس ضمن میں اپنی ڈرامہ نگاری کے زمانے میں کیمرہ مین اور ہدایتکاروں کی بدمعاشیوں سے لے کر کولہوں اور چھاتی کابراہِ راست نام  لیے بنا ایسا مضمون باندھا ہے کہ دنیا عش عش کر اٹھی ہے۔ اور پھر جِس طرح سے مذکورہ اشتہار میں اچھلنا کودنا، کندھوں پر گھومنا اور خوشی میں گلے لگنے کو تفصیلاً بیان کیا ہے یوں محسوس ہوا کہ کم از کم سینتیس بار تو سلو موشن میں زوم اِن کرکے یہ مناظر دیکھے ہوں گے۔ کیونکہ بیشتر تو کلوز شاٹس بنائے گئے ہیں۔ صاحب نے ایسی باریکیاں بیان کی ہیں کہ فلموں کی وہ نائیکہ یاد آگئی جو مغوی لڑکی کو نظروں سے تول لیا کرتی تھی۔ اس قسم کے انکلز سے اپنی بچیوں کو بچانا چاہیے جو نظروں ہی سے لڑکیوں کے جسم کا طواف کرلیں۔ ایسے لوگ آپ کو پبلک پارکس اور بسوں ویگنوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے نزدیک غلاظت بھری نظروں سے گھورنا جنسی ہراساں کرنے کے زمرے میں نہیں آتا۔ ایسے لوگ بازاروں اور رش والی جگہوں پر راہ چلتی خواتین کے جسم کو چھو لینا ہی مردانگی کی اولین نشانی سمجھتے ہیں۔

اب اگر بات مذہبی روایات اور اسلامی شعار پر لائے ہیں تو صاحب کو یاد کروا دوں کہ سرورِ کائناتؐ نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور ان کی سہیلوں کے ساتھ لکڑی کے ٹکروں سے بھی کھیلا اور دوڑ کا مقابلہ بھی کیا۔ آگے چلیے اور غزوات میں مشکیزوں سے پانی پلاتی، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی خواتین بارے ان صاحب کی رائے جاننے میں مجھے تو کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ پھر یہ بھی پوچھا جائے گا کہ جنگوں میں گُھڑ سواری کرتی خواتین کیا سینوں کو سی لیا کرتی تھیں۔ تب شاید ان کا جواب یہ ہو کہ بچیاں بس رجزیہ گیت اور جنگی ترانے ہی گانے تک محدود رہیں۔ آپ کالم لکھ رہے ہیں اور کسی خاتون کا اپنی بہو کو طلاق دلوانے کا نجی معاملہ بھی لکھ ڈالا۔ اب پلٹ کر کوئی بیرون ملک تعلیم حاصل کرتی آپ کی بیٹی بارے سوال کرلے تو چراغ پاء مت ہوجائیے گا۔

کسی اشتہار یا فلم ڈرامہ میں ایک نقاد تکنیکی خامیاں تلاش کرتا ہے جبکہ یہ صاحب جنسی لذت حاصل کرنے میں مگن پائے گئے۔ مطلب کہ نگاہیں بچی کے سینے سے ہٹیں ہی نہیں۔ یہ تو ان دانشور اور نام نہاد تجزیہ کار کا لیول ہے۔ اپنے علاقائی بندھنوں کے علاوہ یقیناً ایسی ہی گھٹیا سوچ کے مالکان کے ڈر سے ماریہ طور جیسی سکواش پلیئر ابتداء میں لڑکا بن کر کھیلتی رہی۔ سلام ہے اس لڑکی کے والدین کو جو اس کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کرتے رہے۔

کبھی ہمارے ہاں کے ماہرینِ نسوانی خدوخال نے اس ملک میں غذا کی کمی کا شکار بچیوں بارے بات کرنا گوارا کیا ہے؟ کبھی جو نفسیاتی مسائل زیرِ بحث لائے گئے ہوں؟ بچے پیدا کرنے کی مشین بن جانے والی ماؤں کی صحت اور دورانِ زچگی اموات کی تشویشناک صورتحال پر کسی نے بات کرنا مناسب جانا؟ کریئر وومین پر تبرہ کرتے کبھی کام کرنے کی جگہ پر وہ کس طرح جنسی طور پر ہراساں کی جاتی ہیں یہ موضوع کہیں زیرِ بحث آتا ہو؟ لڑکیاں اپنی خداد صلاحیتوں کو کِس طرح نکھار کر انفرادی اور اجتماعی معاملات میں کامیابی سمیٹ کر معاشرے کی بہتری میں کردار نبھا سکتی ہیں؟ کیا اس بارے کبھی ان صاحب کو “اوریانیت” سے نکل کر بات کرنے کی توفیق ہوئی؟ ممکن ہی نہیں جناب کیونکہ یہ تو خودراستگی کے بھنور میں پھنسے نفسیاتی عوارض سے لڑ رہے ہیں۔

چار منٹ اور اٹھاون سیکنڈز کا اشتہار جو کچھ روز چلنے کے بعد قطع برید سے گزرتے اب دو منٹ میں سمٹ چکا ہے، اس اشتہار میں کہانی اچھی ہے۔ اور خدا لگتی کہیں تو بس کہانی ہی اچھی تھی۔ اداکاری اور ہدایتکاری کا ستیاناس مارا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات کہ پاکستان میں خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہوتے آپ کو پڑوسی ملک جا کر اداکاراؤں سے اوور ایکٹنگ کی ڈوز ڈالنی پڑی۔ باؤلنگ ایکشن اور آؤٹ ہونے والی بچی کے بیٹنگ سٹائل پر بھی توجہ درکار ہے۔ تکنیکی اعتبار سے جھول ہی جھول ہیں۔

دن رات اسلام کے ٹھیکے دار بنے امانت و دیانت اور سچائی کے علمبردار بنے یہ سابق بیوروکریٹ مجال ہے کبھی اعترافِ “گناہ” کریں کہ جعلی ڈومیسائل پر کوٹہ سسٹم سے فائدہ اٹھا کر سرکاری نوکری کرتے رہے۔ اور ساتھ میں نجی ٹی۔ وی چینلز سے بھی مال بناتے رہے۔ ہاں، لیکن انہیں یہ خوب علم ہے کہ احمدی، لبرل، سیکولر اور ملحد نظریات کے پیروکاروں کے خلاف کون سے زاویوں سے مذہبی جذبات بھڑکا کر لوگوں  کو ایک دوسرے کی جان لینے پر کیسے اکسانا ہے۔ ایسے میں پیمرا کِس محلے میں سحری کا ٹین ڈبہ بجا کر سویا پڑا ہے، کچھ خبر نہیں ہو پائی۔ نیشنل ایکشن پلان والوں کے بھی شاید پر جلتے ہیں اسلام کے اس “کلم کارے راج دُلارے”  ٹھیکے دار کے سامنے۔

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

29 تبصرے

  1. mrs maria mushtaq کہتے ہیں

    Masla nam nihad islam ka teekhadaron ko nahi masla islami iqdar or nuswaniat ka tahfuz hay afshan bibi un logon sa tahfuz jo orat ki azadi ki bat kar k darsal apni haiwani naffs ko taskin pohanchatay hain aisay islam ka alambardaron par ungli uthanay sa phaylay un logon ko check karo jinhonay orat ka jinsi iatahsaal kia hay k un main kitnay libral kitna azad khayal or kitnay baqool tumharay islami thekadar thay or jahan tak ummehatul momimeen ka taluq hay khudara apni knowledge ko correct kar lo haya or sharm ka janaza nikalnay walon ko parday or sharm ka hadood main rah kar kam karnay walon sa na milao allah ham sab ko haq bat kahnay or haq bat sonny or samajhnay wala banay ameen
    Just check this whichbis the real story of a girl cricketer
    https://en.m.wikipedia.org/wiki/Halima_Rafiq

  2. حیدر ایوب کہتے ہیں

    بہن اللہ کا خوف کرو۔ایک غلط چیز کو سہی کہ رہی ہو آپ۔نبی کریم کی مثال آپ دے رہہی ہو کہ عایشہ رضی اللہ اور انکی سہلیاں دوڑ کا مقابلہ کرتی تھی۔میری بہن وہ لوگوں کے سامنے اور انکے دیکھانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔آپ اس اشتہار کے حق میں ہے میں بھی آپکے موقف کی تائید کرونگا اس صورت میں اگر آپ اس اشتہار کو اسلامی لحاظ سے سہی ثابت کردے۔۔؟میں انتظار کرونگا۔۔۔

  3. محمد وقاص توکلی مرکهال کہتے ہیں

    عورت کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے مثال کے طور پر ٹیچنگ نرسنگ یا عورتوں سے متعلقہ تمام شعبہ جات میں.
    لیکن چونکہ ہم مسلمان ہیں نبی آخر الزماں کے امتی اور قرآن کے وارث ہیں اس لیے اللہ تعالٰی کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی پیروی بھی ہم پر لازم ہے. ہمیں دنیا کی بدلتی اقدار کے ساتھ نہیں بلکہ دین کے معیار کے مطابق زندگی گزارنی ہو گی.
    اسلام میں عورت کو گهر کی چار دیواری میں اونچی آواز میں تلاوت قرآن پاک کی اجازت نہیں
    حج میں صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کی اجازت نہیں.
    عورت چراغِ خانہ ہے نہ کے شمعِ محفل
    میں کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں کر رہا
    بلکہ اپنے خیالات لکهے ہیں

  4. Syed irtiza Ali کہتے ہیں

    بہت شکریہ کہ اپ نے اس کمبہت کو نانی یاد کروا دی مگر یہ کمنہ سمجھنا نہیں چاہتا ہے۔ اس قسم کے گندے لوگو کی وجہ سے پاکستان اس حال کو پہچا ہے۔
    روز روز ٹی وی پر بیٹھ کر لوگو ں مارنے اور مروانے پر اکساتے ہیں ۔ اس پر پابندی لگنی چاہے۔ ذلیل انسان بلکہ انسان کے شکل میں جانورں سے بھی بدتر۔

    1. Fahd کہتے ہیں

      array bhai… aap ki tou jalay gi Orya say… Shia jo hoay aap…

  5. انجنئر وسیم خان کہتے ہیں

    مسٗلہ اوریا مقبول جان کا نہیں ہے اور نہ اسکو اس میں بے حیائی نظر آئی ہے۔ انہوں نے تو وہ سب کچھ بتایا جو قران اور سنت کے مطابق ہے۔ صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ معاذاللہ قران اور نبی علیہ السلام کی احکامات کو نہیں مانتی۔

  6. Nabeel کہتے ہیں

    .This morally corrupted TV Ad should be banned and this blogger as well

  7. عبدالخالق کہتے ہیں

    محترمہ آپ کو اپنے علم کے غرور میں صحیح یا غلط کی پہچان ختم ھو گئی ھے.. یاد رکھیے گا کہ ابو جہل بھی اپنے وقت کا بہت پڑھا لکھا قابل اور مال و دولت والا انسان تھا مگر اس کی سوچ بھی آپ ھی کی طرح تھی اللہ کے بنائے ھوئے دائرے اور قانون کو ماننے سے انکار کر دیا اور تاقیامت جاھل قرار پایا… چند دن پہلے آپ ھی کی طرح کے کچھ روشن خیالوں نے ابو جہل کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی ھیں…

  8. M. Khalil کہتے ہیں

    And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed (Al-Quran. Surah Noor, Ayat No: 31

  9. Ali کہتے ہیں

    Kya ap bata sakti hain k Quroon e Oola ki Wo Auratyn jo Ghurr Sawar, Teer Andaz, Timardaar, Jang Ju, Karobari, aur deegar shubajaat men kaam kr rahi thin, wo sab parda nahi karti thin??? Aurat k liye kuch hadood hain k Pardy men rahiye jo bhi kaam karna chahyn! aurat ki zeenat wazeh na ho! mardon sy bila zarurat baat na karyn aur zarurat sy karyn tw wo b sakhti sy karyn! Qmobile k us ad ko shuru hi Islam Mukhalif andaz men kia gya! jis par ap ny 1 bhi lafz nahi kaha! 3 dafa us larki ki selfie 2 males k sath dikhai gai itny kareeb distance par? us par ap ny 1 lafz nahi kaha! Aurat ko apny Sar ky baal ghair mardon sy chupany ka sakhti sy hukam hai, in behno ny sar ka baal nai dhaky huy thy, is par ap ny 1 b lafz nahi kaha! aurat ko shdeed majburi ya (Mehram Mard na hony k ilawa kisi surat bina Mehram ghar sy nikalny ki ijazat nahi) aur wo bachi ghar sy baap ki ijazat k bina chali gai, is par aap ny kuch nahi kaha? ap Haq Parast hain ya Paisa Parast?!?!?!?! apny ap ko jawab dijiye! Ap ny Islam ki baat chairri aur keh dia k Quroon e Oola ki Wo Auratyn ghory pr beth kar chaati c leti thin!? tw Deen ka Mutaliya kijiye apko A to Z mily ga k wo Auratyn kin hadood men rehtin aur kesy khud ko dhakka karti thin! I SMAJH?!!!!

  10. سعد کہتے ہیں

    “نظروں ہی سے لڑکیوں کے جسم کا طواف کرلیں” آپ اسلامی عبادات اور شعائرکو غلط اور قبیح معنوں میں استعمال کرکے کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہیں؟

  11. رائے رضوان کھرل ایڈوکیٹ کہتے ہیں

    اس جاہل گوار کی عریانت اور اس کی گندی اور گھٹیا سوچ کا اس طرح جواب دینے کا بہت شکریہ.آپ کی تحریر پڑھ کر دل میں ٹھنڈک محسوس ھوئی
    خوش رہیں

  12. Naveed کہتے ہیں

    Ye to inteha pasndi hui k apni soch sy ikhtalaf b na karny diya jaye.

  13. Naeem Khan کہتے ہیں

    mery khyal mein asl masla Islami ya gher islami neih ye begerat sirf paisa kamna chatey hein os key liey jo bhi karna pery yeh kar ghuzrean gein

  14. Zara Socho کہتے ہیں

    Miss Afshan Musheb apne Dollars , sasti shoret aur news mein inn hone ke liye jo ye blog likha hai ismein aap kafi kamyab ho gayi hein. Lakin afsoos ke real worl d aur apni niji zindagi mein aap yaqinan ek nakaam auret thi hein aur hamesha rahein gi InshaAllah. Jeb tek aap Islam ko theak se samaj aur uss per amal nhi karein gi. lakin mushkil hai kiyun ke Allah ne aap logon ki rasi daraz ker rakhi hai ta ke logon ke liye ibrat ka nishan bano.

  15. Azhar کہتے ہیں

    Ms. Afshan! If your daughter or sister does the same thing, what will be your response? Apparently you are Muslim but have a secular mind. These both cannot go side by side. Allah asked every Muslim to follow the commands of their parents and respect them. The ad of Q mobile promote the disobedience of parents which is against the teachings of Islam. I am feeling that I am blowing “been” in front of a buffalo.

  16. شاہد حسین کہتے ہیں

    تم ہو دیسی لبرل سب سے پہلے تو دنیا نیوز اور لکھنے والے پر لانت، دوسری بات ایک بھائی نے کردی مسئلہ اوریا کا نہیں تم لوگ بکنی کے حق میں ہو۔میں سمجھا نہیں سکتا کیوں کے آپ جیسے گھٹیا لوگ اسلامی دلیلیں نہیں مانتے۔بس یہی کے یہ ملک اسلام کے نام پے بنا ہے اسے اپنی اوقات کے مطابق نہ بنائیں۔

  17. Muhammad Ather Khan کہتے ہیں

    mrs maria mushtaq, محمد وقاص توکلی مرکهال ,انجنئر وسیم خان ap logo se me 100% ittefaq karunga… or bb g ko chahye k apne dimagh durust rakhain.

  18. syed noor jamal کہتے ہیں

    میں آپکی بات سے پوری ترہان اتفاق کرتا ہوں

  19. noor کہتے ہیں

    dasi libral sara din facebook r media pe bait ker pana mokaf sahi sabit kernay ki koshish kertay hain r oryamaqbool sahib sirf 1 ghanta ka program ker k in k saray armano per pani pair daita hai.. hahahahahhahahha daisi libral

  20. Muhammad Ukasha Majeed کہتے ہیں

    ourat ki azadi ka rona ronay walun or es behayai k liya Rawayat ka sahar lyna ap jysay logun ki taleemi pasti ko zahir karta hy.ap ne jis rawayat ka hawala diya os main kahin bhe sabit nahi k Hazrat Muhammad saww or Hazrat Aysha k elawa koi tesra shakhs mojood tha. aj tv ishteharat main ourat ko nanga kar k dekhnay ko ourat ki azadi kehtay hain or ourat k haqook ki bat karnay walay kabhi yeh to nahi sochty k ourat entertainment ka nam nahi. ourat nasal ki bunyad rakhti hy , society ki bunyad rakhti hy , ourat he kisi bhe society k acha ya bura honay ka sabab banti hy,ourat ko dunya k samny nanga kar k kehtay hain ham modern dunya main rehtay hain.lanat aysi soch per jo ourat ko behayai ko phylanay ka zariya bana kar pysa kamaty hain. or os ko profession kehtay hain.ap ko yeh misal yad nahi aai k BiBi Fatima s.a k sar ka bal nanga huwa tha to suraj nahi nikla tha. kisi ne Ap s.a ka janaza tak nahi dykha. or ap ourat ko nanga kar k pysh karnay per Pyaray Nabi saww or hazrat Aysha ki misal dy rahi hain .
    kuch Sharam Hoti hy Kuch Haya Hoti hy.

  21. .Hassan Asadullah کہتے ہیں

    ALLAH pak is columnist ko hadayat se nawazay. Basss ALLAH is orat K sath reham wala muamla farmain

  22. Naved کہتے ہیں

    I don’t agree with this blog

  23. Musawar Jamil کہتے ہیں

    ALLAH is orat ko hadayat day
    Mr. Oriya Maqbool is 100% right
    Bismilah par k sharab peenay say halal nahi hoti isi terha tumharay bongi tehreer say ghalat baat sahi nahi ho sakti

  24. Amjad Mahmood کہتے ہیں

    Orya Maqbool Jan type so called intellectuals are trying their best to spread poisonous ideas and make their followers totally ignorant and anti social…He wants to use name of religion just to be popular among illiterate and religious fanatics. His biggest crime is to divide public opinion on the basis of self made ethical approach which represents centuries old tribal culture. He and his other right wing colleagues successfully brainwashed those who have little educational background and are from lower classes of society, unable to understand new changing world and its requirements. OMJ himself cleverly enjoys all the modern facilities but he and his class hypocritically wants their followers to continue living a thousand years behind.

  25. عمران کہتے ہیں

    کسی پر رکھ کر اسلام شعائر کا مذاق اڑنا پرانا شیوہ ہو گیا ہے بی بی! اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا واقعہ اب کسی کو یاد نہیں آئے گا جب نبی نے فرمایا کہ نابینا سے بھی پردہ کرو اور جب آپ نے فرمایا کہ وہ تو نابینا ہیں تو نبی نے فرمایا تم تو نہیں ہو!

  26. مبین سرفرار کہتے ہیں

    میں اوریا صاحب سے اتفاق کرتا ہوں، یہ تجارتی ایڈ شرمناک تھا

  27. ڈاکٹر خلیل الرحمان گھمّن کہتے ہیں

    خبردار جو مجھے پاگل کہا
    جی بالکل آپ کو پاگل نہیں کہیں گے پاگل ھو کوئی اور آپ کوئی پاگل ہیں
    شکریہ
    یہ ہے ان صاحبہ کی سوچ ، جناب آپ نے تو جو کہا آپ نے جس عریانیت کی عکاسی کی ھے جو اپنے ذہن میں موجود الفاظ استعمال کیے اور پھر اسلام کی چھتری سے اس غیر اسلامی سوچ کو ڈھانپنا چاہا
    میں آپ کیلیے اللہ سے دعا ہی کرتا ھوں کہ وہ آپ کو دین کا علم حاصل کرنے کی حدائت دے
    میرا ایک کزن ایک یونیورسٹی سے ایم کام کر کے گھر آیا تو مجھے پتا چلا کہ وہ عجیب و غریب لاجک پیش کر رھا ھے جو عین اسلام کے خلاف ہیں اور گھر والوں کو پریشان کیا ھوا ھے ۔
    میں اسے ملا میں نے ایک سوال کیا کہ آپ نے کتنے سال علم حاصل کیا کہنے لگا
    کہا الحمد اللہ 16 سال جناب
    میں نے کہا اور دین کا علم کتنے سال حاصل کیا ھے
    خاموش ۔ میں نے کہا فیصلہ آپ کرو
    کیا آپ اسلام اور مادی علم کا موازنہ کر سکتے ہیں
    اللہ کا شکر اللہ نے اسے حدائت دی اور مستقبل میں کبھی اس بی بی جیسی باتیں نہیں کی
    اللہ کریم اس محترمہ کو بھی دین کے علم کی روشنی دے اور اس دہر سے نکالے ۔

  28. shahid کہتے ہیں

    This women is also mentally sick.

تبصرے بند ہیں.