محکمہ تعلیم کی فرسودہ‌ پالیسیاں بدلنے کی ضرورت

1,045

پاکستان میں کئی دہائیوں تک تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اساتذہ کی بھرتیاں بھی سفارش کی بنیاد پر ہوتی رہیں، زیادہ تر سیاست دان اور بیوروکریسی میں شامل با اثر شخصیات اپنے قریبی لوگوں کو نوازنے کے لیے محکمہ تعلیم کی نوکریاں بانٹا کرتے تھے۔

سال2009 میں این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا آغاز ہوا جس کے بعد 2018 تک یہ عمل جاری رہا، 2018 میں پنجاب میں پہلی بار حکومت میں آنے والی جماعت تحریک انصاف کے وزیر تعلیم نے مزید بھرتیوں سے انکار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی کوئی کمی نہیں بلکہ شہباز شریف ضرورت سے زائد بھرتیاں کر چکے ہیں اور مزید بھرتیوں کی بجائے ریشنلائزیشن کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں اساتذہ کی 76 ہزار سے زائد آسامیاں خالی تھیں۔ گو کہ ریشنلائزیشن کی تاریخ اور پالیسی کا اعلان متعدد بار کیا جا چکا ہے لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس پالیسی کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی۔

صرف پرائمری اور سیکنڈری جماعتوں اور انہیں پڑھانے والے اساتذہ کے متعلق بنائی گئی پالیسی میں نقائص کی بات کرتے ہیں، حکومتی فارمولے کے تحت جس سکول میں نہم اور دہم کے طلبا کی تعداد پچاس سے ساٹھ ہو اس سکول میں ایک آرٹس مضامین کا ٹیچر اور ایک سائنس ٹیچر مہیا کیا جائے گا۔

اب فرض کریں کہ آرٹس ٹیچر کے پاس ایم اے اردو کی ڈگری ہو، ایسی صورت میں انگریزی، عربی، اسلامیات، مطالعہ پاکستان، ایجوکیشن، سیاسیات اور فزیکل ایجوکیشن جیسے مضامین کون پڑھائے گا۔ اسی طرح اگر سائنس ٹیچر ایم ایس سی کیمسٹری ہو تو وہ فزکس، ریاضی اور بائیولوجی جیسے مضامین کیسے پڑھا سکتا ہے۔

پرائمری تعلیم سے متعلق بنائی جانے والی پالیسی کے مطابق ایک ایسا سکول جس میں طلبا کی تعداد ساٹھ ہو وہاں صرف دو پرائمری ٹیچر مہیا کئے جائیں گے، ایک پرائمری سکول میں نرسری سے پانچویں تک چھ جماعتیں ہوتی ہیں، یعنی حکومت کے مطابق دو اساتذہ ایک دن میں چھ جماعتوں کو 28 مضامین پڑھائیں گے۔ یہاں بھی سکینڈری جماعتوں والی صورتحال ہے جہاں پالیسی طلبا کی تعداد دیکھ کر بنائی جاتی ہے جبکہ درحقیقت زیادہ توجہ سبجیکٹ سپیشلسٹ پر دینی چاہیے۔

ایسی صورت میں جب ایک استاد وہ مضامین پڑھائے گا جنہیں پڑھانے کی مہارت، صلاحیت اور مطلوبہ علم اس کے پاس نہیں ہے تو وہ طلبا کو سبق سمجھانے سے قاصر ہونے کی وجہ سے رٹا لگوا کر امتحان میں پاس کروانے پر مجبور ہو گا۔

حکومتی فارمولے طلبا کی تعداد کے گرد گھومتے ہیں جبکہ دراصل حکومت کو مضامین کے متعلق پالیسی بنانی چاہیے، ہر سکول کو سبجیکٹ سپیشلسٹ مہیا کرنے چاہئیں تاکہ طلبا میں “رٹا” لگانے کی بجائے مضمون کو سمجھ کر پڑھنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں رٹا سسٹم ختم کیا جائے، سائنس کے میدان میں نئی تحقیق کے لیے زیادہ ریسرچ سکالرز سامنے آئیں تو ہمیں سکولوں میں طلبا کی تعداد کی بجائے مضامین کی تعداد دیکھ کر اساتذہ کے متعلق پالیسی بنانا ہوگی۔ ہمیں یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ ہر مضمون پڑھانے کے لیے سبجیکٹ سپیشلسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک سکول کی سطح پر ہر مضمون کے لیے سبجیکٹ سپیشلسٹ مہیا نہیں کیے جائیں گے تب تک ہم اور ہمارا نظام تعلیم رٹا سسٹم ختم کرنے اور طلبا کو تخلیق اور تحقیق کی طرف راغب کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس لیے حکومت کو چاہئے کہ تعلیمی شعبہ کو دیگر شعبوں کی نظر سے دیکھنا بند کرے اور اساتذہ کو مضامین میں مہارت کی بنیاد پر فارمولا بنائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد اویس پاکستان میں مثبت سماجی تبدیلی کے خواہاں ہیں اور اس حوالے سے قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.