پتنگ بازی خطرے کی علامت بن چکی

409

کورونا وائرس کی وجہ سے تمام معمولات زندگی اور ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، اُٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا اور ملنا ملانا اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس وبائی مرض نے دنیا کو کیا سے کیا کردیا۔ پہلے خواتین کو اکثر نقاب کرنے کی تلقین کیا کرتا تھا، اب ماسک کے ذریعے منہ چھپانا ہماری اپنی زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور گذشتہ تین ماہ سے ماسک پہن کر اپنے فرائض سر انجام دینے کے بعد منہ ڈھانپنے کی عادت پختہ ہو چکی ہے۔ باہر جانا ہو اور ماسک نہ پہنا ہو تو فوری احساس ہوتا ہے کہ کسی چیز کی کمی ہے جس پر چھٹی حس فورا خبردار کر دیتی ہے۔

گذشتہ شب شاہدرہ میں ٹھیکری پہرہ کے فرائض سرانجام دینے والے کاشف سے پوچھا! آپ کا رومال یا صافہ کدھر ہے؟ چونکہ وہ ہر روز گردن سے منہ تک رومال لپیٹے ہوتا تھا لیکن اس رات اس کے پاس نہیں تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ اب تو گورنمنٹ نے ماسک کو لا زمی قرار دے دیا ہے۔ کاشف نے جواب دیا، سر جی! صبح ایک نوجوان موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اس کے گلے پر ڈور پِھر گئی، وہ سڑک پر گر گیا تھا، اس کا خون نکل رہا تھا جسے روکنے کیلئے میں نے اپنا رومال اس کی گردن کے گرد لپیٹ دیا۔ اس نے مزید بتایا کہ ڈور پھرنے سے کافی خون نکلا،ریسکیو 1122والے اُسے اٹھا کر میو ہسپتال لے گئے جہاں اُس کی گردن پر چھ ٹانکے لگے۔ میں نے پوچھا کتنے بجے کا وقت تھا۔ اس نے موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ سر جی دیکھ لیں۔ اس نے اپنے موبائل سے زخمی نوجوان کے گھر والوں کو کال کی تھی جس پر صبح صادق کا وقت ساڑھے چار بجے درج تھا۔ میں نے شہزاد احمد کو اس کے ایثار پر شاباش دی اور گھر آ گیا۔

جان لیوا پتنگ بازی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتنگ اڑانے کا اولین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا اور وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کی بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنا پڑے گی، اس لیے اس نے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی،اس نے دیکھا کہ ہوا اُسی سمت کی ہی چل رہی ہے، جہاں سے وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاؤ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑ رہے ہیں ۔اس نے ایک کاغذ لیا اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیئے تاکہ ہوا کا دباؤ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہوں اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا۔ جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے واپس کھینچ لیا گیا ، اوریوں ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا گیا۔

یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی جو ایک جنگی مقصد کے لیے اڑائی گئی تھی۔ پھر قدیم چین میں فوجی استعمال کے لیے پتنگ سازی کا آغاز ہوا جس سے فوج کی جاسوسی کا کام لیا جاتا تھا۔ اپنے ہی فوجیوں کو ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ تک پیغام رسانی اور اپنے ساتھیوں کو اپنی پوزیشن بتانے کے لیے پتنگیں اڑائی جانے لگیں اورچھوٹے ہتھیار تک ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پتنگوں سے پہنچائے جانے لگے۔

دنیا میں پتنگوں کے بہت سے نام ہیں لیکن ہمارے ہاں زیادہ تر شوقین حضرات پتنگ اور گڈی یا گڈے کے نام سے ذکر کرتے ہیں۔ پتنگ کی شکل مختلف ہوتی ہے جبکہ گڈے بڑے اور گڈی چھوٹی ہوتی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ صدی تک پتنگ بازی کو تفریح کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ پتنگ بازی کا اہم جزو ڈور ہے۔ پہلے ڈور ہاتھ سے لگائی جاتی تھی جس کے لئے بڑا اہتمام کیا جاتا تھا۔ یہ ایک محنت طلب کام تھا۔ پتنگ بازی کے شوقین حضرات بازاری ڈور پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ خود لگانے کا اہتمام کرتے تھے۔ ڈور کولگایا جانے والا مسالا، مانجھا بھی کہلاتا ہے جس کی تیاری کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ سوتی دھاگے کی ریل یا گولا لیا جاتا ہے۔ ڈور کی تیاری کیلئے عام قسم کا چاول لے کر ابال لیا جاتا ہے جسے مایہ بھی کہتے ہیں۔ پھر شیشوں کے ٹکڑے لیے جاتے ہیں اور اسے باریک کوٹ لیا جاتا ہے۔ جب شیشے کا سفوف تیار ہوجاتا ہے، تو اسے ابلے ہوئے چاولوں کے پانی میں ڈال کر تھوڑا سا رنگ ملا دیا جاتا ہے۔

ڈور پر زیادہ تر کالا یا سرمئی رنگ پسند کیا جاتا ہے۔ پھر ہاتھوں پر دستانے پہن کر ڈبے میں سریش زدہ محلول میں ریل یا گوٹ ڈال کر ہاتھ میں دھاگے کو اس طرح پکڑا جاتا ہے کہ دھاگہ اس محلول کے بیچوں بیچ گذر جائے۔ اسی طرح دھاگوں کو دو درختوں یا ستونوں کے گرد گھما دیا جاتاہے جس طرح بجلی کی تاریں ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک لگائی جاتی ہیں، پھر ان دھاگوں کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب یہ دھاگے اچھی طرح سوکھ جاتے ہیں تو پھر اسے چرخی پر یا ایک گولے کی شکل میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب یہ تیار ہوتا ہے تو اس کی دھار کو چیک کرنے کے لیے اس تیار مانجھے کو کسی دوسرے مانجھے سے ٹکرایا جاتا ہے، اور اچھی ڈور یا مانجھا معمولی سی رگڑ سے دوسرے مانجھے کو کاٹ دیتا ہے۔ یہاں تک تو کسی حد تک قابل برداشت تھا، پھر پتنگ بازوں نے کیمیکل کی ڈور ایجاد کر ڈالی جس میں لچک ہو تی ہے، یہ بجلی کی تاروں سمیت انسانی جان کیلئے بھی خطرناک ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں سے وطنِ عزیز میں پتنگ بازی جان لیوا کھیل بن چکی ہے، پتنگ اور ڈور کا نام آتے ہی آپ کے ذہن میں کسی کی گردن پر ڈور پھرنے کا خیال آ جاتا ہے، کیونکہ اب یہ سارا عمل تفریح کا باعث نہیں رہا۔ کٹی پتنگ کو پکڑتے سڑکو ں پر اکثر حادثات ہوتے دیکھے گئے ہیں جبکہ چھتوں پر سے گرنے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ٹی وی پر پتنگ بازی کی خبر آئے تو ساتھ جاں بحق یا زخمی افراد کی تصاویر ضرور نشر کی جاتی ہیں۔ پابندی کے باوجود ملک بھر میں آئے روز گردنیں کٹنے کی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ پھر پولیس کے اعلٰی حکام کی طرف سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ علاقہ ایس ایچ اور کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ اس کے لئے معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ مقامی سطح پر کمیٹیاں بنا کر والدین کو بھی پتنگ بازی کے جان لیوا اثرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ گھروں سے شروع ہونے والا مسئلہ گھروں میں ہی نمٹا لیا جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صاحبزادہ محمد سلیمان خان لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور دنیا نیوز سے منسلک ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.