انڈے والے کی بھی عید ہے!!!

639

گذشتہ برس جب سردیوں کی آمد آمد تھی، رائیونڈ کے چھپر ہوٹل میں رات کے کھانےکے دوران میں نے جیسے ہی تیسرے چپلی کباب کا آرڈر دیا تو میرے ساتھ شریک سفر سیف سے رہا نہ گیا اور وہ بے اختیار بول اٹھا کہ بھائی جان پاکستان میں گوشت کے معاملے میں دبئی سے زیادہ احتیاط کرنی پڑتی ہے اور میں جیسے ذائقے کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا اور آرڈر کینسل کرنے کے لیے ویٹر کو آواز دی تو وہ گرم انڈے والے کے ساتھ بحث میں مصروف تھا، انڈے والا اس کی منت کررہا تھا کہ وہ اس سے ایک انڈہ خرید لے، میں نے ویٹرکو چپلی کباب نہ لانے کا کہہ کر انڈے والے کو اپنے پاس بٹھا لیا۔

اس کی عمر بمشکل 6 سال تھی، ایک انڈہ کتنے کا ہے، جی پندرہ روپے کا، ایک انڈہ چھیل کر خود کھا لو، میں نے اسے پیار سے ساتھ بھٹا کر کہا تو اتنے میں میری چائے آگئی، اپنے لیے نئی چائے کاکہہ کر میں نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھ دیا اور پھر اس کے بعد جو اس سے بات چیت ہوئی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ان کے والد صاحب بیماری کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر ہیں، وہ اور اس کا بڑا بھائی صبح سکول جانے سے پہلے منڈی جاتے ہیں، سکول سے آنے کے بعد وہ کوئی چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں، شام کو وہ انڈے لے کر بازار آجاتے ہیں، ہر روز ساٹھ انڈے بیچتے ہیں، جب تک انڈے فروخت نہ ہوجائیں تو وہ گرم آنڈے کی صدا لگاتے رہتے ہیں، بڑا بھائی بازار میں کھڑا ہوکر اور وہ گھوم پھر کر انڈے فروخت کرتا ہے، گفتگو کے دوران اس کی چائے ختم ہوچکی تھی، اس نے اجازت طلب نظروں سے میری طرف دیکھا اور رخصت ہوگیا۔

گذشتہ دنوں پاکستانی معیشت کے بارے میں ایک بین الاقوامی پیشن گوئی پڑھتے ہوئے مجھے انڈے والا یاد آ گیا، بین الاقوامی ماہرین معیشت کے مطابق گذشتہ برس کے 3.3 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں لاک ڈاؤن کے باعث پاکستانی معیشت کی شرح نمو منفی یعنی 0.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے (معیشت کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ہماری معاشی ترقی کی رفتار منفی ہوگی) جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور بھوک میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک پر برے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اپنے ارگرد موجود انڈے والوں ، دیہاڑی والوں، اور دیگر ایسے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جو روز کماتے اور روز کھاتے ہیں کا خیال کریں۔ اگر ہوسکے تو جہاں ہم اپنے بچوں کو عیدی دیتے ہیں وہیں بنیادی اشیا ضروریہ کا ایک پیکٹ ان مستحقین کے لیے بھی تیار کروا لیں، اگر زیادہ نہیں تو کم ازکم عید کے ناشتہ کا ایک پیکٹ ہی ان کےلیے بنوا کر اپنے پڑوس یا محلے میں موجود کسی ضرور ت مند گھر کے باہر دستک دے کر چھوڑ دیں، اس سلسلے میں بہت زیادہ وسیع پیمانے پر انتظام کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بس ہر شخص اپنے رشتے داروں، پڑوس یا محلے میں موجود ایک یا دو گھروں کی ذمہ داری لے تو سب کی عید سعید ہوسکتی ہے بصورت دیگر کہیں ایسا نہ ہوکہ

عید کے روز ایک چھوٹے سے گھر میں
خالی چولہے کے سامنے بیٹھے بچے
اپنی ماں سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ ماں
عید بنگلوں میں کیوں ہوتی ہے

آئیے ہم سب عہد کریں کہ اگر ممکن ہوا تو اپنے اردگرد موجود لوگوں کی عید کا بھی خیال کریں، اگر ہم نے ایسا کر لیا تو ہماری اس دنیا میں بھی عید ہوگی اور مستحقین کے دلوں سے نکلنے والی دعاوں کی بدولت اگلے جہاں میں بھی عید ہو گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.