درختوں سے جھڑتے خشک پتے

543

تیز ہوا زرد اور خشک پتوں کی سوتن ہے۔ یہ دل جلے ، سوختہ پتے شاخوں کے طعنے برداشت نہیں کر پاتے۔حساس دل بھی کبھی شرم سے عاری ہوئے ہیں کیا! تیز ہو ا کی سرگوشیاں، گھاس کی ہل ہل کر چہ ءمگوئیاں، جھینگروں اور کیڑے مکوڑوں کی بڑبڑاہٹ، پرندوں کے ملامتی گیت، یہ سب مل کر پتوں کو اشارے کنایوں میں یہ باتیں سناتے ہیں کہ تمہارا نہ ہونا تمہارے ہونے سے بہتر ہےاور یہ زود حس زرد پتے ، دل گرفتہ،شرمسار، اپنا درد اپنے ہی اندر مزید سموتے ہوئے ، مزید زرد ہوتے ہوئے،رفتہ رفتہ اس بات کے قائل ، اندر ہی اندر، دور کہیں گہرائی میں، ہوتے چلے جاتے ہیں کہ زندگی کی تلجھٹ سے موت کی مٹھاس بہتر ہے۔ اداسی کے ساتھ، موقع ملتے ہی ، تیز ہوا کا بہانہ بنتے ہی یہ دکھی دل کے ساتھ شاخوں سے اپنا رشتہ کاٹ ڈالتے ہیں۔

غربت کی پیلی صبحوں اور ضرورت کی زرد شاموں کے دوام نے تین بچوں کے اس باپ کے کندھے ڈھلکا ڈالے تھے۔ بچوں کے پتلے، سوکھے ، استخوانی پنجر صبح شام دیکھنے کی مشقت کی بالو ں کی سیاہی کے ساتھ واردات کر ڈالی تھی۔ بیوی کی زرد رنگت، تپتی پیشانی، غربت کے تفکر میں ، کل کے اندیشوں میں گم آنکھوں نے دل کے معمول سے کام کرنے کی ترتیب کو بھی گڑ بڑ کر ڈالا تھا۔ صبح صبح کام کے انتظار میں اس اڈے پر کھڑا ہونا، پہروں انتظار کرنا، ہر آتے ہوئے کو ملتجی نگاہوں سے دیکھنا،آ کر طائرانہ نظر ڈال کر واپس جاتے مستقبل کے آجر کے پیچھے بھاگنا،اڈے کے اپنے ہی ساتھیوں کے کام حاصل کرنے کی غرض سے مقابلہ کرنا اور دونوں کو کام نہ ملنے کی صورت میں اکٹھے بیٹھ کر وہ سستے سے سگریٹ پیتے ہوئے دل کو جلانے کے معمول نے چہرے کی شکنوں کو مزید گہرا کر ڈالا تھا۔شائد بینائی بھی شدید متاثر ہوئی تھی کہ کوئی آجر آتا نظر ہی نہیں آتا تھا۔زندگی کی جیل میں مشقت کی چکی روز ہی چلتی تھی مگر اس میں پسنے والا کوئی اور نہیں وہ خود ہی تھا۔

کبھی ایک دن، کبھی دو اور کبھی اتنے دن جہاں اس کی گنتی کی حد ختم ہو جاتی تھی گذر جاتے اور واپسی پر اس کی جیب کا خالی پن اس کے ذہن کے خالی پن سے بڑھ جاتا۔اس اذیت کو تواتر سے سہہ کر دکھ محسوس کرنے کی اس کی حس اب بے حس ہو چلی تھی۔ مالک مکان کے تقاضے، گیس، بجلی اور پانی کے بل، دودھی سے گرمی سردی، سبزی والے کی ہر مرتبہ کی زبان درازی، کریانہ سٹور والے کا ہر مرتبہ کا الٹی میٹم کہ آج کے بعد ادھار نہیں ملے گا،اس کی زندگی کے ڈرامے کے مختلف سین تھے۔ روزانہ ان سین سے سن ہو کر گذرنہ ایک روایت سی بن چلی تھی۔ غربت کا عفریت رشتے داریوں کو نگل چکا تھا، جو باقی تھے وہ اس لیے گریزاں تھے کہ کہیں یہ اپنا دست دراز کر کے سوال نہ کر لے۔

سوالوں سے بھاگنا، خاص طور پر معاشی طرز کے ان سوالوں سے جن کے جواب کا تعلق ہماری پھولی ہوئی جیب سے ہے،ہمارے امیر اور عسرت زدہ معاشرے کا ناپسندیدہ موضوع ہے۔رشتے داریاں تو زرد اور سوکھے پتوں کی مانند جھڑ ہی چکی تھیں اور جھڑتی جا رہی تھیں، مگر اس کے ساتھ اس کی امید بھی۔

امید کا دیا خالی یقین کے پانی سے نہیں جلتا، یہ کم بخت ایسا دیا ہے جسے جلانے کے لیے روزی کا تیل ڈالنا پڑتا ہے۔روزی بھی کم بخت روز روز کہاں میسر ہوتی ہے۔جسے ڈیلفی کے ٹیمپل میں ہر کس و ناکس کو جواب نہیں ملا، اسی طرح روزی کی دیوی نے بھی ہر ایک کو قا بل اعتنا کب جانا۔ چاہے کتنی ہی صدائیں لگاؤ، چاہے کتنی ہی دعا کرو، ترلے کرو، گڑگڑاؤ، تڑپو، دامن و رخسار بھگو لو، ہاتھ کہاں آتی ہے، صدا کا جواب کب اثبات میں دیتی ہے۔ روزی اور قسمت یہ دونوں ویسے بھی غریب مخالف دیویاں ہیں۔

سوچ کا کیڑا بڑے دنوں سے اندر ہی اندر کلبلا رہا تھا۔ جو کبھی گمان تھا، اب وہ پختہ سوچ میں ڈھل گیا تھا۔ اس رزق سے موت اچھی ۔ جب آپ کا نہ ہونا آپ کے ہونے سے بہتر ہو، جب زندگی کی سختی موت کی مٹھاس چکھنے کی طلب بڑھا دے، جب اڈے کی سرگوشیاں، ہمسایوں کی ہل ہل کر چہ مگوئیاں، ساتھیوں کی بڑبڑاہٹ، آجروں کے ملامتی گیت مل کر ایک ایسا طربیہ گیت بن گئے جسے برداشت کرنا ممکن نہ تھا تو اس سادہ سے زود حس دوست نے ، دل گرفتہ،شرمسار، اپنا درد اپنے ہی اندر مزید سموتے ہوئے ، مزید زرد ہوتے ہوئے،رفتہ رفتہ اس بات کا قائل ، اندر ہی اندر، دور کہیں گہرائی میں، ہوتے ہوئے کہ زندگی کی تلجھٹ سے موت کی مٹھاس بہتر ہے۔ اداسی کے ساتھ، موقع ملتے ہی ، تیز ہوا کا بہانہ بنتے ہی دکھی دل کے ساتھ شاخوں سے اپنا رشتہ کاٹ ڈالا۔

مرا یہ شخص نہیں ۔ مرا تو میں ہوں، مرے تو آپ ہیں، مرا تو ہمارا معاشرہ ہے کیوں یہ شخص ہمارے ملک کی ہر گلی ، ہر محلے میں، ہر علاقے میں، ہر جگہ بستا ہے۔ یہ روز ہر جگہ، دل گرفتہ،شرمسار، اپنا درد اپنے ہی اندر مزید سموتے ہوئے ، مزید زرد ہوتے ہوئے،رفتہ رفتہ اس بات کا قائل ، اندر ہی اندر، دور کہیں گہرائی میں، ہوتے ہوئے کہ زندگی کی تلجھٹ سے موت کی مٹھاس بہتر ہے۔ اداسی کے ساتھ، موقع ملتے ہی تیز ہوا کا بہانہ بنتے ہی دکھی دل کے ساتھ شاخوں سے اپنا رشتہ کاٹ ڈالتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.