ارطغرل غازی اور پاکستانی عوام

990

آج کل پاکستان میں دو ہی چیزیں خاص اہمیت کی حامل ہیں کورونا اور ارطغرل غازی، پاکستان میں کسی چیز کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو با آسانی اس کے پاپڑ میسر ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔ جی ہاں اب آپ کسی بھی دکاندار سے ارطغرل پاپڑ حاصل کر سکتے ہیں جو ڈرامے کے سامنے آتے ہی مارکیٹ میں دھڑا دھڑ بکنے لگے تھے۔

ارطغرل غازی پر پہلے بھی کئی جگہوں پر بات ہو چکی ہے، مغربی دنیا نے اسے سافٹ ایٹم بم بھی قرار دیا ہے جس میں اسلامی تاریخ اور اقدار کو انتہائی شاندار طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ الفاظ کی حوب صورتی کی بھی انتہا ہے جو دل پر اثر کرتے ہیں۔ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بات کی گئی ہے جو یقینا ایمان کو تازہ کرتی ہے اور روح کو جھنجھوڑتی ہے۔ یہ بےشک ایک بہترین پیش کش ہے، بہت ضروری ہے کہ ہمیں ہمارے اسلاف کا پتہ ہو اور ان روایات اور اقدار کا جن سے ہم بہت دور چلے گئے تھے۔ راستوں میں کھو گئے تھے۔ یہ ڈرامہ اس وقت تقریبا پوری دنیا میں توجہ کا مرکز ہے، کہیں دنیا ڈر بھی رہی ہے کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے یہی جذبہ جاگ اٹھا تو کیا ہو گا۔ عمران خان بھی اس سے متاثر دکھائی دیئے اور اسے عوامی سطح پر دکھانے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ لوگ اب تاریخ کی کیا، ویسے ہی کتابیں کم پڑھتے ہیں اور سکول کے کورس میں بھی کوئی خاص تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ ٹی وی، انٹرنیٹ پر بھی ہر جگہ پرایا مواد ہے، ایسے میں یہ ڈرامہ کسی نعمت سے کم نہیں جو ہمارے بچوں اور بڑوں سب کو ان کی تاریخ سے روشناس کرائے۔

مگر پھر ہوا کیا، ہماری عوام تو پھر ہماری عوام ہے نا۔ خیالات کی دنیا میں رہنے والی، جس ڈگر پر چلتی ہے تو آو دیکھا نہ تاو بس دوڑے چلی جاتی ہے اور پھر باقی سب بھول جاتی ہے۔ اب یہاں ہم نے اس ڈرامے سے اپنی تاریخ اور اسلام کی اچھی باتوں کو سیکھنا تھا اور اسے اپنی زندگی پر لاگو کرنا تھا تا کہ ہم اسلام صرف نام ہی سے نہیں بلکہ عمل سے اپنائیں اور اپنا اپنا کردار ادا کریں، ان باتوں اور چیزوں کو سیکھیں جو ہماری دنیا بدل سکتی ہیں، ہمیں زندگی جینے کا نیا رستہ دکھا سکتی ہیں جن پر چل کر ہم یہاں ہی نہیں اگلی دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو سکیں۔

اپنے کردار کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ مگر ہم نے کیا کیا، ایک خیالی دنیا میں رہنے لگے۔ ہم آج کے دور میں صدیوں پرانی اس تاریخ کو جینے لگے ہیں، مگر کیا یہ ممکن ہے کہ میں صبح صادق تلوار لیے گھر سے نکل جاوں اور ایک دو قلعے فتح کر کے لوٹوں، یقینا ممکن نہیں۔

پہلے ہم نے اپنے کردار کو مضبوط کرنا ہے جیسا ہمارے اسلاف کا تھا۔ المیہ یہ ہےکہ ہم اس پر عمل کرنا نہیں چاہتے اور ارادے ہیں کہ تلوار مل جائے اور سب فتح کر لیں۔ دنیا میں مسلمانوں کا پھر سے عروج ناممکن نہیں بس ہمیں اپنے دین کی جانب لوٹنا ہو گا، جس کی جھلک ہمیں علامہ اقبالؒ کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ ان روایات کو اپنانا ہے جن پر عمل کر کے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان حاصل کیا۔ یہ عمل کی وہی روح ہے جو ہمیں ارطغرل میں دکھانے کی کوشش کی گئی، مگر اس سے پہلے ہمیں خیالی دنیا سے باہر نکل کر اپنی زندگی اقبالؒ کے شاہین کی ڈگر پر ڈھالنی ہو گی، آزمائش شرط ہے۔

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.