ایک نہیں۔۔۔ سینکڑوں زندگیاں جیو (2)

1,106

(گزشتہ سے پیوستہ)

اسکے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کی ایک انتہائی فرسودہ روایت جس کو ذات پات کا نام دیا گیا ہے وہ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ انسان کے کردار سے اسکی عزت اور معاشرتی مقام طے ہونا چاہئے مگر ہمارا بیمار معاشرہ ذات پات کے نظام میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اسکا اپنا کوئی کردار نہیں لیکن اگر آپ غلطی سے کسی ایسی ذات میں پیدا ہو گئے ہیں جسکو معاشرہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تو ایسا انسان ساری زندگی اس معاشرہ کی بے حسی کا شکار ہو کر گُھٹ گُھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ حقیقت کو چھپاتا ہے یا بدلنے کی سعی کرتا ہے۔ جب معاشرہ اسکے ساتھ گھٹیا طور طریقے سے برتاؤ کرے گا تو وہ بھی نیک جزبات کی بجائے معاشرہ کی بے حسی اور بد تہذیبی کا رونا ہی روئے گا اور معاشرے سے انتقام لے گا۔

اسکے بعد ایک اور زاویہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر کتنے پختہ، تجربہ کار، صاحبِ علم انکا آئیڈئل اور مقصد کیا ہے؟ ایک دسویں کا طالبعلم اپنے علم کے حساب سے جواب دے گا جبکہ ایم اے کا اپنے حساب سے۔ ہر انسان اپنی ذہنی نشونما، بڑھوتری اور آئیڈیل کے حساب سے کائنات کو دیکھتا ھے اور اسی کے مطابق عین سوچ سمجھ کر رائے زنی کرتا ہے۔

اس میں سب سے اہم رزق ہے جو ھمارے اعضاء کےلئے ایندھن کا کام سرانجام دیتا ہے۔ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ جو رزق ہم کھا رہے ہیں وہ حلال بھی ھے یا نہیں؟ اور اگر وہ رزق ہی پاک نہیں تو کیا یہ ممکن ھے کہ وہ سوچ بھی پاک ہی پیدا کرے؟ نہیں یہ ممکن نہیں۔ ھماری سوچیں پلید اور اعمال میں ریاکاری اسی وجہ سے تو ہے۔ دیکھو یہ ممکن نہیں کہ تم آٹا پیسنے والی مشین میں پتھر ڈالو تو دوسری طرف سے آٹا نکل آئے۔ گندم ڈالو گے تو ہی آٹا نکلے گا۔ یہ انا پیدا کرتا ہے، درگزر نہیں کرنے دیتا، تکبر اور حسد کو جلا بخشتا ہے، خودغرضی اور خود پسندی کی آبیاری کرتا ہے، سب سے بڑھ کر اپنے ہی ماں باپ کے خلاف انسان کو بغاوت پر اکساتا ہے کہ میرے والدین نے ہمیشہ شرافت سے زندگی گزاری اور کچھ نہیں بنایا۔ یہی سوچ رب پہ تہمت لگانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ رزقِ حرام آنے پر رب کا شکر ادا کرنے لگ پڑتا ہے کہ اللہ نے مجھے یہ دیا، اللہ نے وہ دیا، اللہ نے بہت نوازا۔ حالانکہ اس راستہ سے تو رب نے منع کیا مگر اسکو اسی کے نام سے منسوب کر کے رب کی نعمتوں کی (معاذاللہ) توہین کرتا ہے۔

میں باتیں کئے جا رہا تھا اور وہ غور سے ٹکٹکی باندھے میری طرف متوجہ تھا۔ اب اسکے دلائل کا ذخیرہ کم پڑنے لگا۔ وہ شائد مایوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن جونہی میری باتوں میں اسے وقفہ ملا وہ بولا۔۔۔۔ اچھا تو پھر یہ بتائیں اب میں کیا کروں؟ ہاں یہ تم نے صحیح سوال کیا ہے۔ میاں محمد بخش کا وہ شعر سنا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:

لکھاں بیر بیری نوں لگدے،،س
کجھ ڈھے پیندے نیں کچے،،س
تے اوھی وٹے کھانڑ محمد،،س
جیھڑے رہندے نیں پکے۔۔۔س

بھائی جن اصول و ضوابط پر تم کاربند ہو نا وہی اخلاقی وجود کی نشونما کےلئے بہترین اور سنہری اصول ہیں۔ تم پہلی منزل طے کر چکے ہو اور یہی مشکل تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر اس سب میں ریاکاری کا عنصر پایا جاتا ھے تو اسکو جڑ سے اکھاڑ دو۔ لوگوں کی خوشنودی کی خاطر کوئی عمل نہ کرو بلکہ اللہ کے لئے کرو۔ ہر عمل کی بنیاد نیت ھے۔ یاد رکھو ریاکاری کی سزا اسی دنیا میں انسان کے منہ پر دے ماری جاتی ہے۔ اس طعنہ زنی اور بہتان انگیزی کو امتحان کی صورت دیکھو۔ ان کو کرنے دو۔ انکی باتیں اپنے تک پہنچنے دو اور پھر اسی قوت سے اپنے اصولوں پر کاربند رہو۔ شکر کرو رب تمہارے اخلاقی وجود کو ہی آزمائش کی بھٹی سے گزار رہا ہے نہ کہ جان مال اور اولاد کی آزمائش سے۔ ہم کمزور ایمان کے لوگ یہ آزمائش برداشت نہیں کر سکتے اور ایک لمحہ میں دیگر ذرائع اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اور جو وہ تنقید کریں اس میں سے اپنی ذات میں وہ وجہ تلاش کرو جس کی خاطر وہ نالاں ہیں۔ عین ممکن ہے تمہاری وجہ سے انکو تکلیف پہنچ رہی ہو۔ غلط ہو تو شیطان کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی بجاۓ سنتِ آدم؏ اپناؤ، اصلاح کرو، معذرت کرو اور دوبارہ نہ کرنے کی حتی الامکان کوشش کرو۔ حسد نہ کرو۔ لوگوں کو ذات پات کی بجائے انکے کردار سے جانچو۔ اپنا عمل اور کردار اسقدر بلندی پر لے جاؤ کہ وہ نکتہ چینی کے لئے حقائق کی بجائے مفروضوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوں۔ انکی باتوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے جاؤ۔ اہمیت ہی نہ دو۔ دنیاوی لحاظ سے ایک اور نقطہ نظر سے دیکھو تو تمہیں احساس ہو گا کہ اللہ نے انکی نظر میں تمھارا رتبہ بلند کیا ھے تبھی تو وہ تمھاری ٹانگیں کھینچتے ہیں۔ اگر تم ان سے مرتبہ میں ہو ہی چھوٹے تو وہ تمھاری ٹانگیں کیوں کھینچیں گے؟ کیوں تمھارے قدموں کو چھوئیں گے؟ تمھارے لئے بس ضروری ھے کہ اس حالت میں بھی انکے کام نہ روکو۔ بدلہ جائز اور بشری تقاضا ہے مگر معاف کرنا باعثِ اجر ہے۔ دشمن پر غلبہ اور طاقت حاصل کر کے معافی مانگنے سے قبل معاف کرنے کا مزہ چکھو مگر اعتبار نہ کرو۔ بدلہ کے لئے قدرت کا خودکار نظام حرکت میں آنے دو۔ ان سے معاملات کا اختتام کر دو مگر قطع تعلقی نہ کرو۔ اور شدید ذہنی کرب میں بھی انکو انکے جرم کا احساس نہ دلاؤ۔ بلکہ خندہ پیشانی اور عاجزی سے ملو۔ دیکھنا ایک وقت آئے گا وہ غیر محسوس طریقہ سے تمھارے اصولوں کی پیروی کرنا شروع کر دیں گے۔

وہ اپنی فطرت کے برعکس صرف تمہاری مخاصمت میں ہی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا شروع کر دیں گے۔ ان کے لئے دعا کرو کہ یہ عادت انکی ذات کا حصہ نہ بن جائے بلکہ وہ رب کی رضا کے لئے کریں نہ کہ مخاصمت میں۔ تم نیک نیتی سے اپنا مشن جاری رکھو وہ تمہارے دریافت کردہ دنیاوی کامیابی کے پیمانوں کو جنہیں تم عرصہ قبل آزما کر ترک کر کے نئے دریافت کر چکے ہو گے انہیں اپنائیں گے۔ جب وہ ایسا کرنے لگ پڑیں تو خدا کا اپنے عمل سے شکر ادا کرو زبان سے نہیں۔غیبت اور خاص طور پر وہ غیبت جس سے کسی کو نقصان پہنچے اپنے اوپر حرام کر لو اور اسکو غیبت نہ جانو بلکہ فتنہ سمجھو اور جان لو کہ فتنہ قتل سے بڑا جرم ہے اور اسکی سرکوبی حرمت والے ایام میں بھی جائز ہے۔ اور یاد رکھو کبھی وہ بات منہ سے نہ نکالو جس پر تم خود عمل نہیں کر سکتے۔ لوگوں کے کام اس امید پر نہ کرو کہ کل کو یہ میرے کام آئیں گے بلکہ یہ ذہن میں رکھو کہ وقت پڑنے پر دھوکہ دیں گے۔ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے سفارش ختم کر دو۔

اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرو اور جو دوست تمہارے جائز اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا تو اسکے ساتھ تعلقات پہ نظر ثانی کرو۔ سنو! تمہاری ایک زندگی ہے اسکو اچھائی پھیلا کر تم سینکڑوں زندگیاں جی سکتے ہو۔ تمہاری وجہ سے کئے جانے والے ہر شخص کے نیک کاموں میں تمہارا برابر کا حصہ ھو گا۔ اور یہ سب بھلا کب آئے گا؟ جب تمھاری زندگی میں قناعت آئے گی۔ جب تم بڑے سے بڑے نقصان پر بھی مسکرانے کا فن جان لو گے۔ موت جیسے سانحہ عظیم کو خندہ پیشانی سے ملو گے۔ بظاہر یہ تمام باتیں انتہائی عام، ہر کتاب اور ہر دوسرے شخص سے سننے کو مل جائیں گی مگر ان پر عمل انتہائی مشکل ہے۔ اسی دوران اسکی آنکھوں میں آنسووں کی جھڑی لگ گئی۔ وہ روتے ہوئے کرسی سے اٹھا۔ اسکی آنکھوں میں آنسووں کے ساتھ تشکر بھی تھا۔ سلام کیا، گردن جھکائی اور دروازہ کھول کے باہر نکل گیا۔

اسکے جانے کے بعد میں سوچنے لگا ہم کس قدر ظالم، گھٹیا اور کمتر سوچ کے حامل انسان ھیں جو ایک اچھے بھلے راہِ راست پر چلنے کے خواہشمند کو اپنی جھوٹی اناء اور حسد کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ اسکی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ہم اپنے اعمال کے جج بننے کی بجائے دوسروں کے بن بیٹھتے ہیں۔ اپنی احساسِ کمتری اور خودغرضی کی تسکین کی خاطر تنقید، طنز اور بہتان کے نشتر ایسے چلاتے ہیں گویا ابلیس کی وراثت کے ہم ہی جائز حقدار ہیں اور اس شخص کو راہِ راست سے ہٹانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔۔۔(ختم شد)س()()

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

حسین فاروق نے حساس طبیعت کے سبب قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑا اور اب دیپ سے دیپ روشن کرنا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. جواد کہتے ہیں

    آپ لوگوں کو ایسی سیکھ دے کر معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ کریں کیونکہ یہ تمام سیکھ بچپن سے ہمارے معاشرے میں صرف بچوں کو دی جاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ تھوڑا بڑے ہوتے ہیں تمام ترترجیحات تبدیل ہو جاتیں ہیں کیونکہ سیکھ دینے والے کا قول اس کے فعل کے بلکل مخالف ہوتا ہے۔
    اب آپ کی یہ تحریر بڑوں نے پڑھنی ہے اسے پڑھ کر اگر لوگ ٹھیک ہونا شروع ہو گئے تو ذاتوں کے چوہدری اور ان کی چوہدر کہا جائے گی بھلا آپ اونچ نیچ کا فرعونی نظام ختم کرنا چاہتے ہیں ایسے تو دنیا ختم ہو جائے گی کیونکہ ہر طرف اچھائی ہی رہ جائے گی آپ یہ باتیں بچوں ہی سے کہیں جو ہماری روایات ہیں آپ نے اس اچھے خاصے بھٹکتے کو بچا لیا آپ کو اس دنیا کو جواب دینا پڑے گا جلد یا بدیر خیر
    اللہ پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔

تبصرے بند ہیں.