ارطغرل غازی ہی کیوں؟

0 407

ہم پاکستانی بھی بہت بھولے بھالے ہیں، چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں۔ فیصلہ پہلے کرتے ہیں اورسوچتے بعد میں ہیں۔ پاکستان ایک سستی مارکیٹ ہے۔ باہر کا ڈرامہ ہو، فلم ہو یا شخصیت، پاکستان میں شہرت حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی فلم انڈسٹری اور ثقافت کو تباہ کر دیا ہے۔ انڈیا کی فلم انڈسٹری کو ہٹ کرنے میں بھی سب سے بڑا ہاتھ ہمارا ہے کیونکہ جس قدر انڈین فلموں کو ہم پاکستانی پسند کرتے ہیں، شاید ہی کوئی اور ملک کرتا ہو۔ بلکہ قومی ہیروز کی بجائے غیر ملکی اداکار ہمارے آئیڈیل ہیں۔ آج اگر شاہ رخ خان اسلام آباد آ جائے تو کروڑوں لوگوں کا ہجوم نظر آئے۔ لیکن ہمارے حقیقی ہیرو حسن صدیقی جو ہمارے پاس موجود ہیں اُن کے لئے وہ جذبہ نہیں۔

اس وقت پاکستان میں ارطغرل غازی کے نام سے ایک ڈرامہ دکھایا جا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ ترکی میں بنایا گیا ہے۔ ترکی میں بننے والے اس ڈرامے کو جتنی مقبولیت پاکستان میں ملی ہے، اتنی ترکی میں بھی نہیں ملی۔ بلکہ پاکستان میں تو اس ڈرامے نے مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے ہیں۔ اس ڈرامے کی پہلے قسط کو صرف دو ہفتوں میں ایک کروڑ تیرہ لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس ڈرامے کو پاکستان میں خلافتِ عثمانیہ کی وجہ سے شہرت ملی تو یہ غلط ہے کیونکہ پھر یہ سوال اٹھے گا کیا خلافت عثمانیہ کے وفادار ترکوں سے زیادہ ہم ہیں جبکہ خلافت عثمانیہ مذہبی اور تاریخی لحاظ سے ترکی کا ورثہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ترکی والے ہم سے زیادہ خلافت عثمانیہ کے وفادار ہیں۔ اس ڈرامے کو مذہبی رنگ بھی دیا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ جامعہ بنوری کراچی اس کے متعلق فتویٰ بھی جاری کر چکا ہے۔ اس فتوے کے سائل نے سوال کیا کہ کیا ڈرامے میں پیار و محبت دیکھنا جائز ہے۔ جواب میں یہ کہا گیا کہ یہ ڈرامہ دیکھنا جائز نہیں۔ کیونکہ کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ناجائز طریقہ درست نہیں۔ ایک اور بات جو مذہبی لحاظ سے مشہور کر دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس ڈرامے کی وجہ سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی پیغمبر بھی ایسے ہو گزرے ہیں جو اپنی زندگی میں صرف چند لوگوں کو ہی راہِ راست پر لا سکے۔

اس ڈرامے کے مشہور ہونے میں اِس کی انتظامیہ کا بہت بڑا کردار ہے۔ اِس ڈرامے کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا گیا جوکہ غیر معروف شحصیت تھی۔ کیونکہ معروف شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں سے لوگ واقف ہوتے ہیں۔ غیرمعروف شخصیت کے بارے میں جستجو ہوتی ہے۔ اِس سے پہلے ترکی کی ایک معروف تاریخی شخصیت سلطان سلیمان پر ایک ڈرامہ بنایا گیا۔ یہ ڈرامہ ارطغرل غازی کی طرح مقبول نہ ہو سکا۔ کیونکہ سلطان سلیمان ایک معروف شخصیت تھے اِس لیے لوگوں نے اِتنا پسند نہ کیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان میں ایسے ڈرامے دکھائے جائیں جن کو دیکھ کر ہمارے بچوں اور جوانوں میں ترقی کا جذبہ پیدا ہو۔ کسی معاشی ہیرو کا ڈرامہ دکھایا جائے جس کو دیکھ کر ہمارے بچے اور جوان ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ کیوں کہ ہمارا مسئلہ اس وقت معیشت ہے جہاد نہیں۔ جہاد کا تجربہ ہم پہلے کر چکے ہیں جس کا خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔

ہم میجر عزیز بھٹی شہید، اعتزاز حسن شہید بلکہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر بننے والے ڈرامے اور فلموں کو تو اتنی شہرت نہ دے سکے جتنی ارتغرل غازی کو دے دی جبکہ یہ شخصیات ہماری تاریخی ثقافت ہیں۔ اِن شخصیات نے اسلام کے نام پر بننے والی پہلے اسلامی ملک کے لیے اپنا تن، من، دھن سب کچھ قربان کر دیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر میجر عزیز بھٹی شہید، اعتزاز حسن شہید اور قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسی شخصیا ت پر مقبولیت کے ریکارڈ نہیں ٹوٹ سکے تو پھر ارطغرل غازی پر کیوں، یہ سوال کسی اور پاکستانی کے ذہن میں کیوں نہیں ابھرا، کیا ہمیں انگریزوں کے دور سے اپنی ثقافت پر فخر کرنے کی بجائے دوسروں کی ثقافت اپنے اوپر ٹھونسنے کی عادت تو نہیں پڑ گئی کیا ہم اجتماعی احساس کم تری کا شکار تو نہیں ہو گئے، یہ سوالات فہم و ادراک رکھنے والے ہر پاکستانی سے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کاندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.