ایک نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔سینکڑوں زندگیاں جیو (1)

657

آج حسبِ معمول اپنے دفتر میں کمپیوٹر کی دنیا کے اسرارورموز کی کھوج میں مگن تھا کہ اسی دوران دفتر کا ایک ساتھی آ گیا۔ مجھے اس کی آمد کا ہلکا سا احساس ھوا مگر میں نے توجہ نہ دی۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ سر میں معزرت خواہ ہوں مہربانی فرما کر میری بات سنیں۔ میں نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہنے لگا کہ اس نے مجھے ڈسٹرب کر دیا۔ خیر غصہ کو قابو کر کے اسکی طرف متوجہ ہوا تو اسکے چہرے پر مجھ سے کہیں زیادہ غصہ کے آثار تھے, پھولی ہوئی نسیں اور آنکھیں ایسے کہ جیسے اپنی پتلیوں کا حصار توڑ کر باہر آنے کی کوشش میں ہوں۔ میں اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ششدر رہ گیا۔وہ بولا کہ میں نے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ اسکی کیفیت دیکھتے ہوئے میں نے باقی اصحاب سے معزرت کی اور کہا کہ کوئی اندر نہ آئے۔

وہ اپنی تمام تر قوت کو مجتمع کر کے گویا ہوا۔۔۔۔ سر میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے وہ یہ کہ میں دنیا سے عاجز آچکا ہوں۔ میں نے اپنی 34 سالہ زندگی میں کبھی کسی کا برا نہیں کیا, کرنا تو دور کی بات کبھی اس معاملہ میں نہ سوچا اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی۔ کبھی زندگی میں ایک کی بات دوسرے کو نہیں بتائی۔ ہر ایک کی بات سنتا ہوں اور اپنے سینے میں دفن کر لیتا ہوں۔ ہمیشہ کوشش کی کہ دوستوں کے درمیان امن اور سکون رہے۔ جہاں موقعہ ملا قطعہ نظر دوست یا دشمن کے خیر خواہی ہی کی۔ کبھی کسی کو اپنے زاتی مفاد, ذاتی عناد یا ذاتی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔ کسی کے بارے میں غلط رائے نہیں دی۔ اگر کوئی اچھا ہے تو اسکی حوصلہ افزائی کی اور اگر برا ہے تو اسکو اصلاح کا مشورہ دیا۔ ہمیشہ کوشش کی کہ دوست اپنے پاوں پر خود کھڑے ہوں۔ احسان کر کے جتلانا تو دور کی بات بتاتا بھی نہیں۔ لیکن کچھ احباب ایسے ہیں جو ہمیشہ میری بدخواہی کرتے ہیں, بدگمانیاں پھیلاتے ہیں, غیبت کرتے ہیں, اچھے کاموں میں سے بھی برائیاں تلاش کرتے ہیں, کردارکُشی کرتے ہیں,ساتھ بیٹھتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں مگر جب موقع ملتا ہے تہمت لگاتے ہیں, منافقت کرتے ہیں, طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں, ٹانگیں کھینچتے ھیں,حوصلہ شکنی کرتے ہیں الغرض اطراف میں ہونے والے ہر معاملہ میں یوں مجھے مورودِالزام ٹھراتے ہیں کہ گویا آدھی دنیا کا نظام میرے ہاتھ ہو۔

میں اسکی باتیں غور سے سنتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوا تو میں نے پوچھا کہ یہ تو انکے مسائل ہیں تمہارے تو نہیں؟ کہنے لگا سر یہی میرا مسئلہ ہے میں نے ساری زندگی انہیں نظر انداز کیا مگر اب میں انہیں ان ہی کی زبان میں جواب دینا چاہتا ہوں۔ انہیں سزا دینا چاہتا ہوں۔ اسکے لئے چاہے مجھے زیرِزمین دنیا کا سہارا لینا پڑے یا خود ہی سامنے آ کر بدلہ لینا پڑے۔ اور انکو یہ بھی پتہ ہے کہ جب میں بدلہ لوں گا تو وہ پہلے ہی زور میں چاروں شانے چت ہو جائیں گے کیونکہ انکے پاس نہ اپنے دفاع کیلیئے کچھ مواد ہے اور نہ ہی مجھے قصوروار کرنے کے لئے۔

میں اسکے متشدد خیالات پر پہلے تو ٹھٹکا اور پھر زوردار قہقہہ لگایا اور دیر تک ہنستا رہا۔ وہ میرے ہنسنے سے کافی پریشان ہوا اور کہنے لگا سر میں آپکے پاس اپنا مسئلہ لے کر آیا ہوں اور آپ ہنس رہے ہیں۔ میں نے کہا تم اتنی انتہا پسند شخصیت کے مالک ہو؟ اچھا یہ بتاؤ کہ اس میں تمہارا نقصان کیا ہوا؟ بولا نقصان تو کچھ خاص نہیں البتہ میرا کردار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت متنازعہ کیا جا رہا ھے۔ میں نے پھر ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ اس دوران وہ شدید اضطراب میں پہلو بدل رہا تھا۔ میں نے پوچھا! یہ بتاو کیا تم سمجھتے ہو کہ ان اصولوں پر عمل پیرا ہونےکی وجہ سے تمہیں فائدہ ہوا ہو؟ وہ جھٹ سے بولا کہ ہاں فائدہ تو بہت ہوا۔ مجھے ساری زندگی اپنے معاملات میں غیبی امداد قدم بہ قدم نظر آئی۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ میری کوئی جائز خواہش پوری نہ ہوئی ہو۔ کبھی کسی چیز کے لئےمجھے دنیا جہاں کے اسباب تلاش کرتے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانی پڑیں، نہ سفارش کروا کر اپنی خودداری گروی رکھنی پڑی بلکہ وہ مجھے بن مانگے ملیں۔ میں کبھی کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہوا۔ المختصر یہ کہ میرے کسی کام میں آج تک الحمدللہ کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ مجھے اسکے علم، شعور، بصیرت اور چیزوں کو دیکھنے کے انداز پر خوشگوار حیرت ہوئی۔

میں جوں جوں اسکی باتیں سنتا گیا توں توں میری دلچسپی بڑھتی گئی۔ مجھے اسکے کردار اور ایک دوسرے کردار(جسے میں بخوبی جانتا ہوں) میں حیرت انگیز حد تک مماثلت محسوس ہوئی۔ مجھے اسکی بےبسی پر ہنسی آ رہی تھی مگر میں اسکے جذبات کے پیشِ نظر صرف مسکرانے پر اکتفا کر رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ گویا تم سمجھتے ہو کہ جو راستہ تم نے اختیار کیا وہ درست، فائدہ مند اور دائمی ہے؟

کہنے لگا! جی۔۔۔۔ تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ تمھارے احباب کا راستہ باطل اور عارضی ہے؟ بولا! ہاں جی۔۔۔۔۔ اور اب تمہارا فیصلہ ہے کہ تم اپنے اصول وضوابط اور انفرادیت چھوڑ کر، بدلہ لے کر اسی ہجوم میں داخل ہونا چاھتے ہو جہاں وہ تمہیں دیکھنا چاھتے ہیں؟ یعنی تم حق چھوڑ کر باطل کا راستہ اپنانا چاہتے ہو؟ وہ میرے سوالات پر تھوڑا ٹھٹکا اور جھجکتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔جی ایسا تو ہو گا۔

اسکا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ تمہارا حق ہار گیا اور انکا جھوٹ جیت گیا؟ ہم اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ تم نے جو کچھ کیا لوگوں کی خوشنودی کے لئے کیا؟ وہ تلملا کر بولا! نہیں۔۔۔ میں نے اللہ کے لئے کیا۔۔۔ میں نے کہا نہیں وہ ریاکاری تھی۔ تم لوگوں میں اپنی واہ واہ کروانا چاہتے تھے کیونکہ جب وہ خوش نہ ہوئے تو تم نے حق کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیا ورنہ تم کیوں انکی باتوں پہ دھیان دیتے اور کیوں اپنی اچھائیوں اور انکی برائیوں کی فہرست تیار کئے رکھتے؟

کہنے لگا سر! انسان سب کچھ اپنی عزت کیلئے کرتا ہے اگر وہی نہ ہو تو پھر کیا فائدہ؟ وہ میری بات سمجھنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھا۔ میں نے کہا اچھا چلو اسکا دنیاوی لحاظ سے حساب لگاتے ہیں۔ یہ بتاو وہ کتنے لوگ ہیں جو تمہاری کردار کُشی کرتے ہیں اور کتنے ہیں جو تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کہنے لگا کہ برائیاں تو دو چار ہی کرتے ہیں مگر محبت کرنے والے کافی ہیں۔ میں نے پھر ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا کہ اب خود ہی فیصلہ کر لو کہ عقلمندی کا تقاضا کیا ہے کہ تم نے دو چار لوگوں کی خوشی کے لئے زندگی گزارنی ہے یا خلق ِخدا کےلئے؟

کہنے لگا کہ ظاہر ہے جہاں اکثریت کو فائدہ ہو گا۔۔۔۔ بھائی پھر حاصل تو یہ ہوا کہ تم بیوقوف ہو اور تمہارے احباب عقلمند۔۔۔ اسکے بعد دیر تک خامشی رہی اور وہ نظریں نیچے کئے سوچ میں مگن رہا۔ اب اسکے چہرے پر فیصلہ کن تاثرات کی بجائے گومگو کی کیفیت عیاں تھی۔ تذبذب کے عالم میں بولا اچھا پھر یہ بتائیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ھیں؟ کیوں ہمیشہ زہر اگلتے ہیں؟ اب میں نے محسوس کیا کہ وہ اصلاح کی طرف آ رہا ھے۔ میں نے کہا یہ تمھارا مسئلہ ہے ہی نہیں بلکہ ان کا اپنا ہے۔ اور اسکو تم چاہ کر بھی زبردستی ٹھیک نہیں کر سکتے۔ دیکھو میری بات غور سے سنو۔۔۔۔ ایک انسان کی شخصیت پر مختلف قسم کی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں پھر کہیں جا کر اسکا باطن یا شخصیت اسکی زبان، ہاتھ اور آنکھوں کے راستے باھر آتی ہے۔

اس میں سب سے پہلے انسان کی اپنی فطرت ہے جس پر وہ پیدا ہوا۔ اب اس فطرت اور ضمیر کی تربیت اور تراش خراش اسکے والدین کرتے ہیں۔ جو اچھائی برائی والدین عملًا کرتے ہیں وہ بچے کے تحت الشعور میں جگہ بناتے رہتے ہیں اور کم و بیش بچہ وہی اختیار کرتا ہے۔

اسکے بعد اسکے دوست، اساتذہ کا کردار اور اردگرد کے ماحول میں جو بھی عمل ہوتا ہے وہ غیر محسوس طریقے سے بچے کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے اور ساری زندگی اسی پر عمل پیرا رہتا ہے۔ کتنے لوگ تمہیں ملے ہیں جو یہ دعویٰ کریں کہ انہوں نے اپنے علم اور محنت کی بنیاد پر اپنا مزہب یا اپنے رسم و رواج ہی تبدیل کئے ہوں؟ انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ دوسری طرف انسانوں کا ایک ریوڑ ہے جو اسی کے ساتھ گور میں جانا پسند کرتا ہے جو اسے ماں کی گود سے ملا۔

ایک اور وجہ حسد اور احساس کمتری ہے۔ اب اسکا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ جذبہ پیدا ہی اپنے قریبی دوستوں اور عزیزوں کےلئے ہوتا ہے غیروں کے لئے نہیں۔ ان کی ترقی اور اپنی ناکامی کے سبب انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی کڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ تمھاری انفرادیت کو بھی برداشت نہیں کرتے۔ تمہیں بااصول نہیں دیکھ سکتے کیونکہ انکے اپنے اصول نہیں ہوتے۔ جب وہ تمھارا مقابلہ عملی میدان میں نہیں کر سکتے تو تہمت لگانا اور الزام تراشی کرنا انکی ذات کا جزو لازم بن جاتا ہے۔ اسکا تمھارے پاس ایک ہی حل ہے کہ تم اپنے آپ کو تباہ و برباد کر کے تارک الدنیا ہو کے بیٹھ جاو۔ وہ دوست اور عزیز ایک آدھ مرتبہ چکر لگا کر مگرمچھ کے آنسو بہائیں گے اور اسکے بعد انکا حسد اور احساسِ کمتری ٹھیک ہو جائے گا۔ (جاری ھے)

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

حسین فاروق نے حساس طبیعت کے سبب قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑا اور اب دیپ سے دیپ روشن کرنا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. جواد کہتے ہیں

    اگلی قسط کا انتظار رہیگا۔

تبصرے بند ہیں.