لاک ڈاون نرمی، شہریوں پر دُہری ذمہ داری آن پڑی

205

کورونا وائرس نے کرہ ارض کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہیں، پوری دنیا میں ذہنی انتشار ہے۔ دنیا کی توجہ صرف ایک چیز پر مرکوز ہے کہ کس طرح اس عجیب و غریب دشمن پر قابو پایا جائے جو نظر بھی نہیں آتا۔ معیشت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وائرس ایسا حادثاتی واقعہ ہے جس کے انسانی مستقبل پر گہرے اثرات ہوں گے۔ کورونا ایسی عالمی وباء ہے جو اپنے ساتھ بے روزگاری، معاشی ڈھانچے اور معاشرتی نظام کی تباہی جیسے مسائل ساتھ لائی ہے،امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں میں 2 کروڑ20 لاکھ سے زائد افراد نے کلیم داخل کیا ہے کہ وہ بیروزگار ہو چکے، ابھی مزید متوقع ہیں۔ بے روزگاری کا سبب وہ لاک ڈاون ہے جو کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں لگ بھگ 90 کروڑ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ یہ صورت حال معیشت اور سیاست کے ساتھ ساتھ جغرافیہ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک نئی دنیا بننے کے خدوخال نمایاں ہو رہے ہیں، جو کورونا سے پہلی والی دنیا سے مختلف ہو گی۔ سپر پاور امریکہ اور دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں اور مملکتوں کے لیے اس وقت جو مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، پاکستان جیسے ملکوں کے لیے یہ مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ وہ ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال تھے، ان کی حالت ابتر ہو چکی ہے اور وہ اربوں ڈٓالر قرض لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، سعودی عرب نے 60 ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کورونا وائرس نے انسانوں کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔ چین کے شہر ووہان میں دریافت ہونے والا قاتل وائرس امریکا، یورپ اور دنیا کے گلی کوچوں میں گھمسان کی جنگ برپا کیے ہوئے ہے، ترقی یافتہ ممالک کا ہیلتھ سسٹم فلاپ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں طبی عملہ مریضوں کو سنبھالتے سنبھالتے ہانپ رہا ہے تو مقامی انتظامیہ لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں بے بس نظر آتی ہے۔ عالمی معیشت سسکیاں لے رہی ہے۔ محمود و ایاز ایک صف میں آن کھڑے ہوئے ہیں۔ جن چہروں پر شادمانی کی چمک ہوتی تھی ان پر مایوسی اور تنہائی چھائی ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں بھوک رقصاں ہے۔

کورونا وائرس نے ووہان کی گوشت منڈی میں سب سے پہلے ایک دکاندار کو متاثر کیا، اور پھر آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا سفر کیا۔ اب تک 200 سے زیادہ ممالک کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کیلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ وبائی مرض ایک تاریخی حادثہ ہے، ایسا حادثہ جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سنگین حقیقت ثابت ہوا۔ اس سے انسانی زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں لیکن سب سے زیادہ صحت اور معاشی ڈھانچہ اس کے وار سے زخمی ہے۔ ہمارے پاس وائرس کے علاج یا ویکسین کی ٹائم لائن کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہم یہ طے کرسکتے ہیں کہ دنیا کی معیشت اس سے کتنی تباہ ہوگی اور کب ٹھیک ہوجائے گی۔ کورونا نے انسان کے تیار کردہ نظاموں کی ناپائیداری، ہمارے علم اور جدید ٹیکنالوجی کے دعووں کو بے نقاب کردیا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے طرز زندگی اور وبائی امراض کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن امریکی ڈاکٹر فاؤ چی کہتے ہیں کہ صرف امریکا میں ایک سے دو لاکھ افراد موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس وائرس سے امریکا میں تقریباً آٹھ سے دس لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ’’ہم ایک لاکھ اموات پر قابو پا گئے تو یہ ہماری کامیابی ہوگی۔‘‘ ایسے ہی کچھ خدشات دوسرے ممالک کے سربراہان کے بھی ہیں۔

کورونا کو محدود کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے پاک رہنے کیلیے سماجی دوری اور جراثیم کُش ادویہ، اسپرے کا استعمال ہے۔ اس مقصد کیلئے لاک ڈاؤن بہترین حل ہے، لاک ڈاؤن سے وائرس تو پھیلنے سے رک جائے گا لیکن اس کا طویل مدتی اثر معاشی بدحالی ہے جو ابھی باقی ہے۔ کورونا کے مریض ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن دنیا کی معیشتوں کو واپس آنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا۔

جب یہ وبائی مرض پھیلنا شروع ہوئی تو تمام شعبوں کو مالی لحاظ سے بری طرح متاثر کیا۔ رپورٹس کے مطابق چینی معیشت 40 فیصد سکڑ کر رہ گئی ہے۔ چین پیداوار، نمو اور خدمات میں 40 فیصد سے زیادہ سکڑ گیا ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام بڑی کاروباری کمپنیوں کے چین میں دفاتر اور پیداواری یونٹ موجود ہیں لیکن سبھی بند پڑے ہیں۔

چین کو ’’دنیا کی فیکٹری‘‘ کہا جاتا ہے۔ کورونا نے اس فیکٹری میں بریک لگا دی ہے۔ چینی پیداوار، درآمدات اور برآمدات نے عالمی جی ڈی پی کو آگے بڑھایا۔ لاک ڈاؤن، کھپت اور صنعتی سرگرمیوں میں تبدیلی کے نتیجے میں دنیا متاثر ہوئی ہے۔ صرف چین میں مجموعی طور پر تقریباً 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ برطانیہ کے پورے سالانہ جی ڈی پی کے برابر ہے۔ پروڈکشن لائنز، پروڈکٹ لانچ، ایکسپورٹ آرڈرز سب تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔ چین کی حکومت کو بڑی کمپنیوں کو بچانے کیلیے لیکویڈیٹی انجکشن لگانے پڑ رہے ہیں۔ کچھ تاجر پارٹیاں تو دیوالیہ پن کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ معاشی لحاظ سے چین کا ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ ملازمت کے نقصانات کو بچانا اور مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ بلند سطح پر چلانا ہے۔

امریکا نے اپنے اور معیشت کو بچانے کیلیے 2 ٹریلین ڈالرز کا پیکیج دیا ہے، اس کے باوجود وہاں ایک کروڑ افراد اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔ برطانیہ، یورپ، بھارت اپنی معاشی سرگرمیاں چلانے کیلیے ہاتھ پیر ماررہے ہیں۔ بلوم برگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق کورونا وبا آئندہ دو سال میں عالمی معیشت کے 5 ہزار ارب ڈالر کھا جائے گی۔ 2 سال کا خسارہ جاپان کی سالانہ پیداوار سے زیادہ ہوگا۔ دنیا 1930 کے بعد گہری کساد بازاری کے دور میں ہے۔ 2022 تک دنیا کی معیشت معمول پر آنے کے قابل ہوگی۔

اقوام متحدہ کے مطابق کورونا کی وجہ سے 900 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے۔ کورونا وائرس کے آتے ہی تمام ممالک نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔ فضائی سروسز اور دنیا بھر کی سیاحت کی صنعت نے فروخت اور محصولات میں 80 فیصد سے زیادہ کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دنیا کی 70 فیصد فضائی کمپنیاں مستقبل قریب میں بحال ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ ممالک دوسرے ممالک سے سفری پابندیاں نافذ کررہے ہیں۔ پہلی بار امریکا نے یورپ سے فضائی رابطے منقطع کیے ہیں۔ لاک ڈاؤن اور حکومتی پابندیوں کی وجہ اسٹاک مارکیٹیں زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا کے نتیجے میں عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

دنیا اس وقت دو دھاری تلوار پر چل رہی ہے۔ اسے زندگیاں بھی بچانی ہیں اور معیشت بھی۔ اسی تناظر میں بے روزگاری، معاشی حالات، دیہاڑی دار طبقہ، کاروباری مسائل کے پیشِ نظر پاکستان نے بھی لاک ڈاون میں مشروط نرمی دی ہے۔ افسوس کہ ہمارے بازاروں، بنکوں، دکانوں پر وہی ہجوم اکٹھے ہونے شروع ہو گئے ہیں، حالانکہ اب حکومت کی بجائے لوگوں پر دہری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر لاک ڈٓاون خود نافذ کرنا ہے، ماسک، گلوز اور سوشل ڈسٹنسنگ والی شرائط پر خود بھی عمل کرنا ہے اور اپنے اردگرد لوگوں کو بھی شعور دینا ہے ورنہ ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ ہمیں اپنے وطن ، اپنی زندگی، صحت کی خود حفاظت کرنی ہے، بہت ضروری کام سے باہر نکلیں، سماجی فیصلہ برقرار رکھیں۔ خریداری سے نہیں، اپنی زندگی، صحت سے پیار کیجیے۔ اگرآج احتیاط نہ برتی، تو شاہد دنیا کی بہار یں کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔ جیسے ممکن ہو بچا لو اجڑنے سے یہ شہر، ورنہ یہ رنگ، نہ چہرے، نہ مکاں دیکھ پاؤ گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.