ایک قطرہ خون بہائے بِنا جیتی جانیوالی جنگ

472

بیس رمضان المبارک جمعہ کا مبارک دن تھا جب ابو سفیان ایک چٹان پر کھڑے ہو کر پکار پکار کر کہہ رہا تھا “اے قریش! محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم آ پہنچے ہیں، کسی میں ان سے مقابلے کی ہمت نہیں ہے، بس جو میرے گھر میں داخل ہو جائے یا اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اور جو مسجدالحرام میں داخل ہو جائے اسے امان ہے۔” پھر آٹھ سال قبل رات کی تا یکی میں اپنے ایک رفیق کے ساتھ ہجرت کرنے والے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم مکہ میں اس شان سے داخل ہوئے کہ دس ہزار جانثاروں کا لشکر آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے پیچھے تھا۔ اس فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہوئے بھی آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کا سرِ اقدس اللہ کے آگے جھکا اور لبوں پر رب العالمین کی حمدوثنا تھی جس نے یہ شاندار دن دکھایا تھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اپنے شہر میں سربراہ مملکت کے طور پر داخل ہوئے تھے۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے کلید بردارِ کعبہ عثمان بن طلحہ کو بلا کر کعبہ کھولنے کا حکم دیا۔ یہ وہی عثمان تھا جس نے آج سے کئی سال پہلے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کو محض چند گھڑیوں کے لئے کعبہ کے اندر عبادت کرنے کے لئے بھی یہ چابی دینے سے انکار کیا تھا جس پر آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا :” ایک دن یہ چابی میرے پاس ہو گی اور میں جسے چاہوں گا، عطا کروں گا۔” اور آج اس قول رسول کی صداقت کو سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ کعبے میں موجود بتوں اور دیواروں پر ان کی منقش تصاویر کو مٹا کر کعبے کو پاک کیا گیا۔ نبی مہربان حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے کعبے میں نماز ادا کی اور پھر صحن حرم کا رخ کیا، جہاں قریش اپنے کالے کرتوتوں کے باعث سہمے کھڑے تھے۔

آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: “تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم سے کیسا سلوک کرنے والا ہوں؟” آوازیں ابھرتی ہیں: “آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کریم ہیں، کریموں کی اولاد ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سے صرف خیر و بھلائی کی امید ہے”۔ جوابا فرماتے ہیں: “میں آج وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ آج میری طرف سے تم پرکوئی سرزنش نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔” یہ عفو و درگزر ان لوگوں کے لئے تھا جنہوں نے 21 سال تک آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اور آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے نام لیواؤں کے خلاف اذیتوں، دکھوں اور مصیبتوں کے وہ تمام طوفان کھڑے کئے جس قدر ان کے بس میں تھے۔ ان کی تلواریں، برچھیا ں اور تیر مسلسل آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اور آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے ساتھیوں پر برستے رہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے خون کے پیاسے آج ندامت سے سرجھکائے کھڑے تھے اور معافی کا پروانہ حاصل کر رہے تھے۔ چشم فلک نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر مکہ جیسا عظیم شہر فتح کر لیا گیا اور تمام تر غلبے کے باوجود عفو عام کا اعلان کر دیا۔

آج یورپ کے مہذب افراد اسلامی جنگ کو متوحش، غیر فطری قرار دے کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے تلوار کے ذریعے اپنے عقیدے کو پھیلانے کی کوشش کی۔ اس باطل خیال کو محض فتح مکہ کا بصیرت افروز واقعہ ضرب کاری لگانے کے لئے کافی ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے اپنے رفقاء کے ساتھ جتنے بھی حج ادا کئے، ان کی تعداد 24 ہے جس میں کل 117مسلمان شہید اور 217 مخالفین ہلاک ہوئے۔

مگر معترضین کے یہاں جو جنگیں ہوئیں ان کا احوال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ماضی میں جھانکے بغیر اگر حال کی بات کی جائے تو نائن الیون کے بعد ہی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ نے لاکھوں انسانوں کو مجروح، معذور، بے گھر اور موت کی اندھی وادی میں دھکیل دیا۔ ابو غریب اور گوانتاناموبے کی الم ناک انتقامی داستانیں رقم ہوئیں۔ اس وقت کشمیر و فلسطین میں انسانیت سوز مظالم جاری ہیں۔ لوگوں کی آزادی و خود مختاری سلب کر لی گئی ہے بلکہ انھیں جینے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ یہ کہنا بجا ہے کہ آج کی دنیا ہر گزرتے دن کے ساتھ امن و آشتی کی راہوں سے دور ہو کر ظلم و ناانصافی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں “مہذب” دنیا بتائے کہ اس کی پالیسیاں غیر فطری و غیر انسانی ہیں اور کون اپنے نظریات بزور قوت نافذ کرنے پر تلا ہوا ہے، یقینا یہ جانچنے کی کسوٹی ہر مہذب، متوازن اور باشعور ذی نفس کیلئے چنداں مشکل نہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صفیہ نسیم معاشرتی اور تاریخی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.