پان کا بیان

667

پان سنسکرت زبان کے لفظ ‘پرنا’ سے آیا ہے جس کے معنی ہیں ‘پتا’۔ اس کا ذکر ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن میں موجود ہے، رامائن کے مطابق ہندوؤں کے بھگوان رام ایودھیا کھنڈ میں فرصت کے لمحات میں بھوک پر کنٹرول کرنے کے لئے پان چبایا کرتے تھے۔ دوسری جگہ درج ہے کہ جب ہنومان لنکا پہنچے تو سیتا نے انھیں خوش ہو کر ستائش کے طور پر پان دیا۔ ہندو روایات کے مطابق پان دیوی دیوتاؤں کا مسکن ہے۔ اساطیر کے مطابق پان کے ڈنٹھل میں دیوتا پاما رہتا ہے اس لیے پان بناتے ہوئے ڈنٹھل توڑ دیا جاتا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ و مورخین کے مطابق پان کھانے کی تاریخ 5 ہزار سال پرانی ہے، ان کا کہنا ہے کہ مابعد پتھر کے زمانے ‘نیو سٹون ایج’ میں آسٹرینیائی لوگوں کا قبل از تاریخ دور میں انڈو پیسفک میں پھیلاؤ ہوا تو پان بحرالکاہل کے جزیروں اوشنیا کے قریب 3000 سے 3500 سال قبل پہنچا، ساؤتھ انڈیا اور سری لنکا میں 3500 سال پہلے، ساؤتھ ایشیا کی سرزمین پر 2500 سے 3000 سال پہلے، شمالی ہندوستان میں 1500 سال پہلے اور ہندوستان سے مڈغاسکر تقریبا 600 سال پہلے پہنچا- مغرب تک اس کا پھیلاؤ فارس سے بحیرہ روم کے ذریعے ہوا۔ بعض مورِخین کا کہنا ہے کہ پان چبانے کی تاریخ کم از کم 13 ہزار سال پرانی ہے، یہ دعوی نیوگنی کے ‘کک سویمپ سائٹ’ کے دریافت ہوئے کھنڈرات میں انسانی باقیات کے ساتھ چھالیہ کی دریافت سے کیا گیا لیکن کچھ ماہر آثاریات اسے حتمی ثبوت نہیں مانتے۔

پان کھانے کا قدیم غیر مبہم ثبوت جو اب تک ملا ہے وہ فلپائن کے جزیرہ پالاوان آئی لینڈ کے ڈیونگ غار کی قبروں سے انسانی دانتوں پر لگے پان کے دھبے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ پان کھانے کے عادی تھے۔ یہ قبریں تقریبا 4,630 سال پرانی ہیں۔ قبروں میں دیگر چیزوں کے ساتھ سیپیاں بھی ملی ہیں جو چونا رکھنے کے کام آتی تھیں ان میں بہت سوں میں چونا موجود تھا۔

آثار قدیمہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آسٹرینیائی خانہ بدوشوں کے ذریعے پان 3000 سے 3500 سال پہلے میکرونیشیا پہنچ چکا تھا اور مساؤ میں ملنے والے آثار قدیمہ سے پتا چلا ہے کہ لیپیٹا تہذیب میں پہلے سے 3600 سال پہلے موجود تھا- ماہرین کا ماننا ہے کہ پان کا پھیلاؤ جزائر سلیمان پر آکے رک گیا اور پولینیشیا تک نہیں پہنچ سکا وجہ یہ تھی کہ پان کی جگہ پہاں پر قہوے نے لے لی تھی۔

پان کی لت سے چین بھی محفوظ نہیں رہ سکا، آسٹرینیائی خانہ بدوشوں کے ذریعے پان 2500 سے 3000 سال قبل ویت نام کی مخصوص تہذیب سے ہوتا ہوا ڈونگسن تہذیب میں چین پہنچا۔ جین شاہی دور کے اسکالر و ماہر نباتات سی جی ہان اپنی کتاب نانفانگ کاومو ژوانگ میں لکھتے ہیں کہ چامپا تہذیب میں پان کی بہت زیادہ اہمیت تھی، مہمانوں کو پان پیش کرنا ان کی عزت اور تکریم کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

الغرض پان ایشیائی تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ اس سے انکار ناممکن ہے۔ ہندو مذہبی روایات میں بھی پان کا بہت دخل ہے۔ اورچھا کے رام مندر میں پان بطور تبرک دیا جاتا ہے تو جنوبی ہندوستان کے ایک مندر میں بھگوان کی مورتی کے ماتھے پر لگا مکھن پان کے پتے میں ہی لپیٹ کر زائرین کو ملتا ہے۔

کچھ دلچسپ عقائد بھی پان سے جڑے ہیں۔ بہار میں دلہا دلہن کے ایک ہونے کی علامت کے طور پر وہ اپنے خون کا قطرہ پان پر ٹپکا کر ایک دوسرے کو دیتے ہیں گویا جب ایک دوسرے کا خون آپس میں مل گیا تو بس ایک ہو گئے۔ البیرونی اپنی کتاب ’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔‘ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ چینی سیاح آئی چنگ نے پان کو ہاضم قرار دیا۔

عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیئے۔ کہتے ہیں کہ ’پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔‘ لکھنؤ میں شادی کے وقت لڑکی کے پاندان کا خرچ اور پاندان اٹھانے والی خادمہ کا خرچ بھی جہیز کا حصہ ہوتا تھا۔

پان پیش کرنے کے طریقے بھی جداگانہ ہیں۔ مہاراشٹر میں اسے تکونی شکل میں لپیٹا جاتا ہے، لکھنؤ میں گلوری بنا کر خاصدان میں لگایا جاتا ہے تو کلکتہ میں بیڑہ بنتا ہے۔ مغلیہ سلطنت کا ہر بادشاہ پان کے لطف کا قائل تھا اور بادشاہ کے پان کا بیڑہ اٹھاتے ہی ہر ضیافت اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔

فارسی کا ایک محاورہ ہے، جس میں پان کو ’’برگ سبز‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے ’’برگ سبز است تحفہ درویش‘‘ یعنی سبز پتّا (پان) فقیر کا ہدیہ ہے۔

لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے
قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاہد سلیمان تاریخ و سماج کے موضوعات پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.