..کورونا، اب تو جان چھوڑ نا

400

اقوام متحدہ پاپولیشن ڈویژن کے مطابق 1920ء میں دنیا کی آبادی 2 ارب سے کچھ کم نفوس پر مشتمل تھی جو سو سال میں 290 فیصد اضافہ کے ساتھ 7 ارب 80 کروڑ تک پہنچ گئی، مگر وسائل اور ذرائع پیداوار میں اس تناسب سے اضافہ نہ ہوسکا۔ اس دنیا کا ایک خالق ہے اور اس کے طے کردہ قوانین کبھی نہیں بدلتے، فطرت ہمیشہ اپنے نظام میں توازن برقرار رکھتی ہے، کائنات کی ابتداء سے ابتک پانی کی مقدار، زمین کی پیمائش میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی ، پہلی جنگ عظیم (1914ء تا 1918 ) کے دوران 4 کروڑ انسانوں کی ہلاکت، پھر1918ء ہی میں سپینش فلو نامی عالمی وبا سے 5 کروڑ انسانی جانوں کا نقصان، 1930ء کے گریٹ ڈپریشن کے بعد دوسری جنگ عظیم (1939ء تا1945ء )میں ساڑھے 7 کروڑ انسانوں کی موت، طوفان، زلزلے، بارشیں، جنگیں، قحط، دریائوں کاخشک یا رخ موڑ لینا، سمندر کا خشکی پر چڑھ دوڑنا، ناگہانی اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر انسانوں کاجاں بحق ہو جانا، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور اسکی طرف سے زمین پر انسانوں کی تعداد و خوراک کے نظام میں توازن، بہتری اور بچ جانے والوں کیلئے فلاح کا سبب اور حکمت پر مبنی ہے۔

31 دسمبر 2019ء کو ظاہر ہونے والی بیماری کووڈ 19 اب تک ناقابل علاج، کنڑول اور سمجھ سے بالا تر ہے، سپر پاور سمیت ساتوں ایٹمی طاقتیں، ترقی یافتہ، ترقی پذیر، پسماندہ اور غریب دنیا کے 200 سے زائد ممالک اسکی گرفت اور 2 لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے۔ گورے، کالے، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، یہودی، بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب، اللہ کو ماننے یا نفی کرنے والے ان سب پر بلا تفرقی کورونا پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہے، ابھی تک اس جرثومے کا اصل وطن اور جائے پیدائش کے بارے میں غیر یقینی، گمراہ کن اور کنفیوژن پر مبنی خبریں گردش میں ہیں اور فی الوقت ایسی کسی بھی رپورٹ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ جو کام ممکن ہے اس پر دنیا کے تمام ڈاکٹر و حکومتیں متفق ہیں وہ میل جول میں احتیاط، سوشل ڈسٹنسنگ اور قرنطینہ ہے۔

انسانی جانوں کے علاوہ معشیت پر برے اثرات کا تخمینہ 5 ہزار ارب ڈالر سے زائد نقصان تک پہنچ چکا ہے۔ 26 فروری کو ملک میں کورونا کا پہلا مریض سامنے آنے اور 24 مارچ سے سمارٹ، سوفٹ اورمکمل لاک ڈائون کے باعث معاش اورپبلک ٹرانسپورٹ، ہوائی و بحری سفر، سیاحت، ہوٹل، شادی ہال، سماجی اور تجارتی سرگرمیاں بند ہو گئیں۔ آجر،اجیر، ملازم ، دیہاڑی دار، پھیری والے بیروزگار ہونے پر نفسیاتی دبائو اور الجھنوں کا شکار ہو چکے۔ بجلی و گیس کے بل، گھر و دکان کا کرایہ و دیگر حکومتی ٹیکس اس ماہ نہیں تو بہر حال ادا تو کرنا ہی ہیں۔ دال، روٹی، روزگار اور ادائیگیوں کے علاوہ وطن عزیز کی 70فیصد یعنی چودہ ،پندرہ کروڑ کی آبادی کے دماغوں میں اس وقت اور کچھ نہیں، یہ کورونا سے زیادہ بھوک، غربت و افلاس و بیماری و بیروزگاری سے پریشان، لاچار اور بے بس ہیں یہ صورتحال زیادہ دیر برقراررہی توانکی سانس اکھڑنی اور جان کے لالے پڑسکتے ہیں۔

لوگ روزی، روٹی اور راشن کیلئے لوٹ مار اور دنگا فساد خود کشیاں حتی کہ ایک دوسرے کو گولی مارنے سے گریز نہیں کریں گے جو شہریوں و حکومتوں کیلئے بھی پریشانی کا باعث ہونگی۔ معاشی سرگرمیاں اور دفاتر نہ کھلنے سے حکومتی و صنعتی اداروں کی آمدنی کا گراف نیچے، سرکاری و دیگر ملازمین اور پینشنرز کو ادائیگی میں مشکلات پیش آرہی ہیں لیکن انتشار اور اضطراب سے بچنے کیلئے انہیں پوری تنخواہ اور پنشن کی بروقت ادائیگی کو باقاعدگی سے جاری رکھنا ضروری ہو گا۔ شرح سود 13 اعشاریہ 25 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد پر لانا یا اسے مزید کم کرنا مینوفیکچررز کیلئے تو فائدہ مند ہوسکتا مگر ریٹیلرز، عام کاروباری اور چھوٹے دکانداراس سے زیادہ مستفید نہیں ہو سکتے، دنیا میں تیل کی قیمت ساڑھے 16 ڈالر فی بیرل تک گر جانا اور سٹاک مارکیٹس کا کریش ہونا بھی اقتصادی طورپر تشویش ناک ہے۔

کورونا کے پہلے دو ماہ کے اندرگزشتہ دنوں 22اپریل کو پہلا بڑا معاشی نقصان آسٹریلیا کی دوسری بڑی فضائی کمپنی (ورجن آسٹریلیا) بند ہوئی اور اسکے 16 ہزار ملازمین بیروزگار ہو گئے جس پر سنگاپور انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسروولوڈیمائر بلوٹکچ نے کہا کہ ہمیں اسطرح کی خبریں سننے کیلئے تیار رہنا چاہئے جبکہ انٹر نیشنل ائر ٹریول ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کی تین سو سے زائد فضائی کمپنیاں حکومتی یا بنکوں کی مالی مدد نہ ملنے کی صورت میں آدھی سے زیادہ اگلے دو تین مہینوں میں دیوالیہ اور ان کے اڑھائی کروڑ سے زائد ملازمین بیروزگار ہو سکتے ہیں۔

کارپوریٹ سیکٹر کی طرح انسانی سماج میں بھی ہر غلطی، حادثے، مصیبت، آفت اور ناکامی کی ذمہ داری کسی اور کے سر تھوپنے کا عام رواج ہے، کورونا میں بھی یہ ہی کچھ ہو رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل وائرس کی پیدائش، ایران اور یورپ اسکے پھیلائو، چین اسکی پیدائش، دونوں طرح کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسے عالمی ادارہ صحت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کورونا کے باب میں اسکی کارکردگی اور ناکامی کی تحقیقات مکمل ہونے تک فنڈنگ روکنے کا اعلان کردیا لیکن ڈبلیو ایچ او کے ساتھ یہ ہر ملک کی انفرادی ذمہ داری تھی کہ جب چینی شہر ووہان میں اس بیماری نے تباہی پھیلائی تو وہ اپنے شہریوں کی جانی و مالی نقصان سے بچائو کا انتظام کرتیں، اٹلی ،جرمنی ،امریکہ، سپین، فرانس سمیت کسی بھی ملک کی حکومت اپنے آپ کو اس سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی۔

عمران خان حکومت نے لاک ڈاون بتدریج ختم کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن وائرس سے بچائو کیلئے سماجی فاصلے سمیت احتیاط اسی طرح ضروری ہے جیسے لاک ڈاون کے دوران کی جا رہی تھی۔ یہاں ایک بات انتہائی خطرناک ہے کہ ہمارے عوام اس بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ وہ اپنی کم عقلی، معاشی و دیگر مجبوریوں کے سبب اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں، ڈاکٹرز مسلسل احتیاطی تدابیر پر عمل کیلئے کہہ رہے ہیں جس پر مکمل عملدرآمد ہی ہمارے ملک اور آئندہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ضروری ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ممتاز بیگ سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں کا مدبرانہ تجزیہ کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.