بےلگام اسرائیل اور خاموش امت مسلمہ

390

کچھ عرصہ قبل اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سیاسی اتحادی بنی گانتر نے کابینہ کی تشکیل کے معاہدے کا اعلان کیا جس میں کہا گیا کہ رواں جولائی سے غرب اردن کے بعض علاقوں کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا جائے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس خطرناک عمل سے مزید فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے اور ہمارے قبلہ اول مسجد اقصی کو گرانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

یہ کوئی اچانک نہیں ہوا بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے سوچے سمجھے منصوبے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس اعلان کے بعد اقوامِ متحدہ میں شعبہ انسانی حقوق کے عہدے دار مائیکل نے اس اقدام کو قانونی، سیاسی اور اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ برطانیہ کی کنزریٹو سمیت 120 سے زائد سابقہ اور موجودہ ممبرانِ پارلیمینٹ نے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد امت مسلمہ کی طرف سے کوئی خاص رد عمل نہیں آیا۔

سال 1945 میں برطانیہ نے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جسے اسرائیل کا نام دیا گیا۔ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلمانی کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔ اُن کے اس دعوے کا مقصد یہودیوں کی ایک ریاست قائم کرنا تھا تا کہ عرب ممالک کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

رواں جنوری میں امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطی کا امن منصوبہ پیش کیا جسے ’’ ڈیل آف سنچری ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس گھنائونے منصوبے میں کہا گیا کہ مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا۔ شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا۔ چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آباد کاری پر پابندی عائد ہو گی اور جو یہودی بستیاں اب تک تعمیر ہو چکی ہیں وہ اسرائیل کی ملکیت تصور ہوں گی۔ جو فلسطینی اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے۔ چار سال کا مقصد فلسطینیوں کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔

پوری امت مسلمہ میں ڈیل آف سنچری کے اس بھیانک منصوبے کی حکومتی سطح پر صرف ترکی اور ایران نے مخالفت کی تھی۔ ترک صدر نے مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس منصوبے کی مخالفت نہ کی گئی تو کل مسلمان خانہ کعبہ بھی گنوا بیٹھیں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ ڈیل آف سنچری ایک ڈرائونا خواب ہے لیکن اسے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔ لبنانی وزیر خارجہ نے اسے خطرناک اور المناک منصوبہ قرار دیا تھا۔ 45 اسلامی ممالک میں سے صرف 2 ممالک کی طرف سے رد عمل آنا نہایت افسوسناک اور تشویشناک تھا۔ اگر مسلم ممالک کی طرف سے سخت رد عمل آتا تو اب شاید اسرائیلی وزیراعظم اس گھنائونے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان نہ کرتا۔

کچھ دن پہلے عرب لیگ کے اجلاس میں اگرچہ اس کی مذمت کی گئی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسی عرب لیگ میں موجود کچھ عرب حکمران اسرائیل سے کھلم کھلا تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ یہ عرب حکمران ٹرمپ یاترا میں مصروف ہیں جو مسلمانوں کا کھلا دشمن اور ڈیل آف سنچری کا ماسٹر مائنڈ ہے۔
یہاں دو چیزیں بالکل واضح ہو چکی ہیں۔ ایک تو ہٹلر کے ہاتھوں فتنہ پرست یہودیوں کا قتلِ عام درست ثابت ہوتا ہے جس کا مقصد آنے والی دنیا کو یہ واضح کرنا تھا کہ یہودیوں کی اصلیت کیا ہے۔ دوسری بات جو کھل کر سامنے آ چکی ہے وہ مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلاف ہے جس کی پیشین گوئی شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے بہت پہلے کر دی تھی کہ:س

منفعت ایک ہے اس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی ، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

حدیثِ مبارکہ ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یعنی جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ مظلوم فلسطینی نہ صرف یہودیوں کے مظالم کا شکار ہیں بلکہ ڈیل آف سنچری کے ذریعے قبلہ اول کی مسماری کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور امت مسلمہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی کیونکہ امت مسلمہ فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ بقول اقبالؒ:س

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

خدارا اس مسئلے کو سنجیدہ لیا جائے۔ اتحادو یگانگت کا مظاہرہ کیا جائے اور ترک صدر طیب اردگان کے اس بیان کو سنجیدگی سے لیا جائے جوانھوں نے ڈیل آف سنچری کے متعلق دیا تھا کہ اگر آج مسلمان خاموش رہے تو کل نعوذ باللہ خانہ کعبہ بھی گنوا بیٹھیں گے۔ یہ مسلمانوں کے لیے بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ اگر مسلمان متحد ہو جائیں تو اسرائیل کا ناپاک وجود صفحہء ہستی سے مٹ جائے اور پورے مشرق وسطی سمیت مغربی ایشیا میں امن و سکون آجائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کاندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.