!!بات کچھ اور تھی۔۔۔

782

(مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے آجر اور اجیر کے رشتے کو مضبوط کرتا ایک افسانہ)

٭٭٭٭٭

نام تو دراصل ان کا ‘’استفسار مقصود لکھنوی’’ تھا مگر کیونکہ لوگوں کو سمجھنے اور بولنے میں پریشانی کا سامنا رہتا تھا، اس لیے دفتر میں سب انہیں بچپن  کے نام، ننھے میاں کہہ کر پکارتے تھے۔ لڑکپن سے جوانی تک کبوتربازی، اور یاری دوستی میں ایسے مصروف رہے کہ پڑھ لکھ کر کچھ بننے، سنورنے کا وقت ہی نہ نکال پائے، باپ دادا کی جائیداد پر اتنا ناز تھا کہ شادی اور بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی مزاج جوں کے توں ہی رہے۔

دن بیتتے گئے، مال و اسباب ختم ہوتا گیا اور پھر وہی ہوا جس کا انہیں بالکل بھی ڈر نہیں تھا، عمر کے آخری حصے میں پہنچے تو بٹیا کی شادی اور گھر، گر ہستی کی ذمے داریوں نے تلاشِ معاش پر مجبور کر ہی دیا۔ قسمت کی دیوی مہربان تھی کہ جلد ہی نوکری’’ اکبر رضا صاحب‘‘ کے آفس میں مل گئی۔

مگر ننھے میاں اس نوکری سے بالکل بھی خوش نہیں تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اکبر رضا ایک نہایت بااصول، سنجیدہ مزاج اور قاعدے، قرینے والے انسان تھے جب کہ اُن کی شخصیت ان تمام صفات کے بالکل متضاد تھی، اسی بنا پر آئے دن انہیں بڑے صاحب کی خفگی اور ناراضگی کا سامنا رہتا تھا، بدلے میں ننھے میاں کا دل ان کی طرف سے احترام، خلوص اور اپنائیت کے جذبے سے خالی ہو چکا تھا، گو کہ وہ کوئی بد تہذیبی یا بدتمیزی تو نہیں کرتے تھے پر اندر ہی اندر کڑھتے ضرور رہتے تھے۔

ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ ‘’ننھے میاں، بڑے صاحب نے چائے کا کہا ہے، ذرا خیال سے جائیے گا، بہت غصے میں ہیں‘‘، منصور نے آ کر اطلاع دی تھی۔

اپنی ہی سوچوں میں گم انہیں یہ احساس بھی نہ رہا کہ چائے میں چینی کے بجائے نمک ڈال کر لے گئے ہیں۔

رضا صاحب پہلے ہی گھونٹ پر آگ بگولہ ہو گئے تھے، ننھے میاں۔۔۔ یہ اتنی کڑوی چائے کس خوشی میں لیے چلے آرہے ہیں آپ؟

جی۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔ کام بہت زیادہ تھا ناں، اس لیے ایسا ہو گیا، انہیں کچھ اور نہ سوجھا تو جھٹ یہ کہہ دیا۔

کام!! کیا کام کرتے ہیں آپ۔۔۔ ذرا پتہ تو چلے، اب سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

صبح نو بجے ہم آتے ہیں، سب کے لیے چائے بناتے ہیں اور پھر کچھ آفس کا چھوٹا، موٹا کام

اچھا!۔۔۔ کتنا ٹائم لگ جاتا ہے اس میں؟”

یہی کوئی ایک، ڈیڑھ گھنٹا”

اور اس کے بعد؟”

پھر سب کو دوپہر کا کھانا دیتے ہیں اور پھر شام کی چائے” ننھے میاں نہایت انہماک سے اپنی روزمرہ کی کارکردگی پیش کر رہے تھے۔

اور اس میں کتنا وقت صرف ہوتا ہے آپ کا؟”

دو، ڈھائی گھنٹے تو لگ جاتے ہوں گے۔

ہوں !!۔۔۔ تو اس طرح سے تو آپ کے کام کے گھنٹے بنتے ہیں چار، باقی کے چار گھنٹے آپ کیا کرتے ہیں؟

یہ کیساحساب کتاب تھا، ننھے میاں بری طرح سٹپٹا گئے تھے۔

جی۔۔۔یہ۔۔۔وہ۔۔۔یہ، ان سے کوئی جواب نہ بن پا رہا تھا۔

بس بہت ہوا!!۔۔۔ عمر ہو گئی ہے ننھے میاں آپ کی۔۔۔ بس یہ مہینہ اور۔۔۔ اس کے بعد گھر پر آرام کیجیے گا۔ آفس آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔اب جائیے۔ دوسری چائے بنا کر لائیے۔

اکبر صاحب کا فیصلہ تھا یا کسی نے پاؤں تلے سے زمین ہی کھینچ لی تھی۔

کیا ہو گا اب؟ کہاں جائیں گے؟ کون دے گا اس عمر میں دوسری نوکری؟، ہر گزرتا دن ان کے دل کو سہما رہا تھا۔

پہلی، دوسری، تیسری۔۔۔ نئے ماہ کی تاریخیں جلدی، جلدی گزر رہی تھیں، لیکن کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا، نہ تحریری اور نہ ہی زبانی، برطرفی کے کوئی احکامات انہیں موصول نہیں ہوئے تھے۔

چلو، اچھا ہی ہوا جو بھول گئے۔۔۔جان چھوٹی، وہ دل ہی دل میں سوچ کر خوش ہو گئے تھے۔

پر بھول تو شاید ننھے میاں رہے تھے کہ اکبر رضا کبھی کچھ نہیں بھولتے تھے۔ بات کچھ اور تھی!!

٭٭٭                                                                
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میں عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو رہا ہوں، یکم مئی، مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے آفس میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جائے گا۔ اور مہمانوں کا ایک وفد ہمارے آفس کا دورہ بھی کرے گا، امید ہے میری غیر موجودگی میں تمام کام بہ احسن و خوبی انجام پائیں گے، اکبر صاحب تمام اسٹاف سے مخاطب تھے ۔

اور ہاں۔۔ ننھے میاں، آپ ذرا چائے وغیرہ کے انتظامات اچھی طرح دیکھ لیجیے گا، کسی قسم کی کوئی کمی نہ رہے۔ جی بہت بہتر‘‘ ننھے میاں ہمیشہ کی طرح اُس دن بھی کسی الجھن کا شکار تھے۔

میٹنگ ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔

ارے ننھے میاں۔۔۔ اتنے گم صم کیوں بیٹھے ہیں؟، منصور کا گزر کچن کے پاس سے ہوا تو انہیں اداس بیٹھا دیکھ کر پوچھ لیا۔

بس کیا بتائیں منصور میاں۔۔۔ بڑی مشکل آن پڑی ہے۔

سب خیریت تو ہے؟۔۔۔ کوئی سیریس بات ہے کیا؟ ‘‘

منصور متفکر لہجہ لیے کچن میں آ گیا تھا، آتے، آتے تھوڑا سا دروازہ بھی بھڑ دیا تھا۔

بٹیا کا رشتہ آیا ہے‘‘، انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔

 لڑکا ہمیں پسند ہے، لوگ بھی معقول ہیں۔۔۔ بس شادی جلدی کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں، الفاظ مایوسی کی حدوں کو چھو رہے تھے۔

کبھی، کبھی ہم سوچتے ہیں، ایسی مجبور زندگی سے تو مر جانا بہتر ہے، وہ بہت دلبرداشتہ نظر آرہے تھے۔

ایسی نا امیدی کی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ؟، منصور نے کچھ ہمت بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ ویسے کتنی رقم درکار ہے؟

یہی کوئی دو لاکھ تک چاہیے ہوں گے، ان کے چہرے پر اداسی مزید پھیل گئی تھی۔

آپ کو تو پتہ ہے ننھے میاں، میری پوزیشن ایسی نہیں کہ کچھ مدد کر سکوں۔۔۔ آپ رضا صاحب سے بات کیوں نہیں کرتے؟، منصور نے مشورہ دیا تھا۔

توبہ کرو میاں!۔۔۔ وہ تو ایک، ایک روپیہ اتنی چھان، پھٹک کے بعد خرچ کرتے ہیں، ہمیں دو لاکھ کیا خاک دیں گے، ان کی چہرے کے تاثرات بگڑ سے گئے تھے۔

منصور میاں۔۔۔ ذرا دیکھیے تو۔۔۔ ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے۔۔۔ جیسے دروازے کی اوٹ میں کوئی کھڑا ہے، وہ جو بہت دیر سے اس طرف دیکھ رہے تھے، گویا ہوئے۔

 ہُوں۔۔۔اچھا۔۔۔

اس نے جلدی، جلدی چائے کے آخری گھونٹ لیے اور جا کے دیکھا

کوئی نہیں ننھے میاں، آپ کا وہم ہے، منصور نے دروازہ پورا کھول دیا تھا۔

٭٭٭

ہال نما کمرے میں سوٹ، بوٹ پہنے وہ صاحب نہ جانے انگریزی میں کیا کہہ رہے تھے۔ ننھے میاں کی سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا۔ موقع ملا تو منصور کے پاس جا کھڑے ہوئے۔

منصور میاں، یہ کیا کہہ رہے ہیں؟

’ ’موصوف مزدوروں کے حقوق اور ان سے حسُنِ سلوک کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں‘‘منصور کے لہجے میں بیزاری نمایاں تھی۔

کیا بھلے انسان ہیں بھئی، جو مزدوروں کے بارے میں ایسے جذبات رکھتے ہیں۔۔۔ اور ایک وہ ہیں، دور کہیں ذہن میں ان کے بڑے صاحب کی شبیہہ ابھری تھی۔

کانفرنس کے اختتام پر چائے کا دور شروع ہوا۔ بیٹھے، کھڑے، چلتے پھرتے۔۔۔ لوگوں کی موجودگی نے آفس میں خوب رونق لگا رکھی تھی۔ ایسے میں نہ جانے کون ننھے میاں سے ٹکرایا تھا کہ ہاتھ میں تھما چائے کا کپ انہی سوٹ، بوٹ والے صاحب کے کپڑوں پر جا گرا تھا۔

 یہ کیا بدتمیزی ہے؟۔۔۔ جاہل انسان تمہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ چائے کیسے پیش کی جاتی ہے؟ یہ وہ ہی تھے جو کچھ دیر پہلے حقوق اور حسُنِ سلوک کی باتیں کر رہے تھے

میں۔۔معاف۔۔کیجیے، ننھے میاں کی آواز حلق ہی میں کہیں اٹک گئی تھی۔

پتہ نہیں ایسے لوگوں کو اس عمر میں نوکری پر رکھ کون لیتا ہے، وہ صاحب برسے جا رہے تھے۔
بھری محفل میں بےعزتی کے اس احساس نے ننھے میاں کی آنکھوں کو بھگو دیا تھا۔

٭٭٭

ایسے لوگوں کو اس عمر میں نوکری پر رکھ کون لیتا ہے، لفظوں کی چوٹ اُس رات ننھے میاں کو سونے نہیں دے رہی تھی، کروٹ بدل کر آنکھیں بندکر لیں کہ شاید نیند آ جائے۔

 بڑے صاحب نے اس عمر میں ہمیں نوکری پر کیوں رکھا ہوا ہے۔۔؟ یک دم آنے والے خیال سے آنکھ کھُل گئی تھی۔

یقیناَ ہمارے شجرہ نصب سے مرعوب ہوئے ہوں گے!!، جواب انہوں نے اپنے ہی تئیں حاصل کر لیا تھا۔

ننھے میاں کو نوکری ملی تھی، اکبر رضا متاثر بھی ہوئے تھے۔ لیکن ان کے خاندانی حسب و نصب سے نہیں، بات کچھ اور تھی!!س

اگلی صبح، وہ یہ فیصلہ کرکے آفس آئے تھے کہ اپنا استعفی چپُ چاپ منصور کو تھما کر خاموشی سے آفس سے چلے جائیں گے۔ اس کے پاس پہنچے۔ استعفیٰ دینا ہی چاہتے تھے کہ اچانک موبائل پر آنے والے میسج نے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔

منصور میاں۔۔۔ ذرا دیکھیے تو یہ کیا لکھا ہے؟، اپنا انتہائی خستہ حال موبائل اس کی طرف بڑھایا تھا۔

منصور نے قدرے حیرت سے مسیج پڑھا تھا۔

،ارے ننھے میاں۔۔ یہ تو بینک کی طرف سے ہے۔۔۔ آپ کے اکاؤنٹ میں دو لاکھ کا ڈپازٹ ہوا ہے، کیا۔۔۔ دو لاکھ۔۔ انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

لیکن کیسے۔۔؟ ایسا۔۔۔ ایسا کر کون سکتا ہے۔۔؟، حیرانگی دیدنی تھی۔

بینک فون کر کے وقار سے کیوں نہیں پوچھ لیتے۔۔۔، منصور نے جیسے مشکل ہی آسان کر دی تھی۔

ہیلو۔۔ وقار میاں۔۔ ہم ننھے بات کر رہے ہیں۔۔ ذرا دیکھ کے بتائیے گا۔ ہمارے اکاؤنٹ میں دو لاکھ کن کی طرف سے جمع کروائے گئے ہیں۔

ایک منٹ ۔ ۔۔ ٹھہریئے۔۔۔، دوسری طرف سے آواز آئی تھی۔

ننھے میاں۔۔ ڈپازٹ محمد اکبر رضا کی طرف سے ہوا ہے۔

کیا!!۔۔ بڑے صاحب ۔۔۔!!، ان پر تو جیسے حیرتوں کے پہاڑ ہی ٹوٹ پڑے تھے۔

لیکن انہیں کیسے پتا؟۔۔۔ارے ہاں!!۔۔اُس دن۔۔دروازے کی اوٹ میں۔۔۔!!، بات جوں جوں ان کی سمجھ آتی جا رہی تھی،احساسِ ندامت بڑھتا جا رہا تھا

٭٭٭

اکبر رضا عمرہ ادا کر کے واپس آ چکے تھے، اُس دن بس تھوڑی ہی دیر میں آفس بھی پہنچنے والے تھے، سب لوگ استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے، ننھے میاں کے پاس بھی ان کے لیے کچھ تھا، وہ ایک ہار تھا۔۔ پھولوں کا ہار!! جس سےاٹھنے والی خوشبو احترام، خلوص اور اپنائیت کے جذبے سے سرشار تھی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.