یونیورسل سیڑھی

546

مولانا رومی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ” کل تک میں ہوشیار تھا کہ دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن آج میں سمجھدار ہوں کہ خود کو تبدیل کر رہا ہوں “، یہی حال ہمارے موجودہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کا ہے کہ کل تک تو وہ پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور ہمیشہ اپنی سیاست کا دائرہ کار بھی اسی کے ارد گرد رکھا.

موصوف ہمیشہ بار بار کہتے تھے کہ کسی کو ملازمت میں مدت توسیع نہیں دینی چاہے لیکن جب اقتدار میں پہنچے تو خود وہی کام کیا جس کی مخالفت کرتے رہے اور وہی گھسا پیٹا جواز پیش کیا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات میں ہے اس لئے قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ سابقہ حکمران بھی سو فیصد یہی جواز پیش کرتے تھے.

تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہو سکتا ہے جس طرح البرٹ آئینسٹایئن نے کہا تھا کہ ” بیوقوف اور سمجھدار میں یہی فرق ہے کہ سمجھدار کو اپنی حدود کا پتا ہوتا ہے”، پاکستان میں یہ بھی بڑی تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے معارض وجود میں آنے سے لیکر آج تک میرے عزیز ہم وطنوں کا بہت بڑا کردا رہا ہے کیوں کہ ان کے پاس ایک یونیورسل سیڑھی ہے جو کہ کسی بھی نظریے ، جماعت یا سیاسی لیڈر کے مطابق ایڈجسٹ ہو جاتی ہے اور اگر کسی کو بھی اقتدار تک پہنچنا ہے تو اسے اسی سیڑھی سے چڑتے ہوئے اقتدار کے اعوان تک رسائی حاصل ہوتی ہے.

مختلف ادوار میں کئی لوگوں نے اس سیڑھی کو استعمال یہ سوچ کر کیا کہ اگر ایک بار وہ منزل تک پہنچ گئے تو وہ ضرور ا سیڑھی کا متبادل تیار کر لے گے لیکن بد قسمتی سے مرحوم ذولفقار علی بھٹو سے لیکر خواہ وہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو ہو، نواز شریف ہو یا آصف علی زردار ہو کوئی بھی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا اس میں بعض لوگوں کے اپنے کرتوت بھی شامل تھے جنہوں نےاس سیڑھی کے متبادل پل تو بنانا چاہا لیکن اس میں ناقص میٹریل کا استعمال کیا جسکی وجہ سے کبھی کو کامیاب نہ ہو سکا اور اس ناکام کوشش میں کبھی کسی کو جلاوظنی کاٹنی پڑی تو کسی کو سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔

اگر ہم(ر) جنرل عاصم سلیم باجوہ کا انتخاب دیکھے تو بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کو پتا ہے کہ ان کی حدود کیا ہیں اس میں بھی کوئی شق نہیں کہ خان صاحب بذات خود ایماندار انسان ہیں اور ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس بھی بہت سا ناقص میٹریل ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا خان صاحب اس میٹریل کو برو کار لاتے ہوئے ایک ایسا مظبوط پل تیار کر پائے گے کہ انہیں دوبارہ اس یونیورسل سیڑھی کی ضرورت نہ پڑے جس کے امکانات تو کوئی خاطر خواہ نظر نہیں آتے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خان صاحب نے سوچا ہو کہ اگر اب واپسی کا کوئی اور رستہ نہیں ہے تو لہذا کیوں نہ آگے جانے کا ہی سوچا جائے ۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں.

رانا ساجد سہیل بر طانیہ میں مقیم ہے اور بین الاقوامی سیاست اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں لکھاری بھی ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ بطور رپورٹر صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.