“ایمان دار مولانا اور وزیراعظم”

984

پاکستان اس وقت دیگر ممالک کی طرح کورونا کی شکل میں ایک ان دیکھے دشمن سے جنگ لڑ رہا ہے، ریاست کے تمام ستون اس ہنگامی صورتحال میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں، ہم بحثیت قوم مجموعی طور پر اپنی بساط کے مطابق اس وباء پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، عالمی سطح پر اس وبا کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سپر پاور کا زعم لئے مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی مارکیٹ بھی کریش کر گئی۔ گو کہ پاکستان کی معیشت اسکا عشر عشیر بھی نہیں، اس تناظر میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے مختلف طریقوں سے قوم کا اعتماد بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ یہاں بسنے والے عام طبقے کی مدد کیلئے بھی سرگرم ہیں۔ وزیراعظم کے احساس پروگرام کیلئے ہر شعبہ ہائے زندگی نے اپنا حصہ پیش کیا ہے جس میں ہماری جامعات، خیراتی ادارے، تاجر برادری، سرکاری و نجی کاروباری طبقہ وغیرہ شامل ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان کی جانب سے فنڈز ریزنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں وہ بنفس نفیس اور مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا کے سینئر اینکرز بھی شریک تھے۔س

اس سلسلہ کے اختتام پر ملک کے معروف مولانا صاحب کو دعا کے لئے مدعو کیا گیا جنہوں نے وزیراعظم کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بار تمام حدیں پار کیں اور وزیراعظم کی شان میں قصیدہ اور میڈیا سمیت عوام کا نوحہ پیش کیا کہ بائیس کروڑ عوام میں کوئی ایمان دار، سچا، حیاء والا نہیں اگر کوئی ہے تو صرف عمران خان، مولانا طارق جمیل کا یہ انداز تخاطب کوئی نیا نہیں، وہ سن 86ء سے اسی طریق پر عمل پیرا ہیں۔ شاہوں سے رسم و تعلق ان کا پرانا شیوہ ہے، ایک بار اسی طرح سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں انہوں نے شب برات کی دعا کرائی تھی۔ استاد محترم نے بتایا کہ مولانا نے یہی الفاظ تقریبا 25 سال قبل جب نوازشریف نے بطور وزیراعلی پنجاب پہلی کابینہ کا اجلاس طلب کیا تو صوبائی وزرا ء سے بھی کہے تھے۔

مولانا صاحب، اگر رعایا مجموعی طور پر بےحیاء، بے ایمان و جھوٹی ہے تو اس کا حکمران کیسے سچا اور ایماندار ہوسکتا ہے۔ جبک وہ قرآن کا فیصلہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ مولانا کا یہ انداز تخاطب سادہ لوح عوام کو ڈی ٹریک کرنے کیلئے بہت آسان ہے۔ تبلیغی سرگرمیوں سے ہٹ کر ٹاک شوز پر اکثر فنکاروں کے درمیان صلح کراتے، دلجوئی کرتے اور انہیں قریب کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر آپ مولانا سے ملاقات کیلئے بےتاب ہیں تو آپکا فنکار، کھلاڑی، بڑا سیاستدان یا بزنس مین ہونا لازمی ہے۔ عام پبلک سے وہ میل جول کم ہی کرتے ہیں۔

مولانا صاحب کو علم ہونا چاہئے کہ انبیاء کے وارث اور معتبر مسندوں پر براجمان علماء کو ایسی گفتگو زیب نہیں دیتی، آپکی نجات دہندہ باتیں درست ہیں مگر آپ نے چند سیکنڈز میں پوری قوم کو مجرم اور حاکم وقت کو بری الزمہ قرار دیا۔ اس طرح حاکم وقت کے دربار میں تو اپنی ساکھ برقرار رکھی ہے مگر جب فیصلے کی گھڑی آئے گی تو شاید آپ پھنس جائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عامر اسماعیل قلم کے ذریعے سماجی شعور کی آگہی دینے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.