کوے اور سیاسی کارکنان

688

معلوم نہیں کوے دیکھ کر ہمیں یہ ارفع خیال سوجھا یا بعض سیاسی کارکنان کو دیکھ کر کوے یاد آئے کہ دونوں میں زندگی کی ساری اقدار اس قدر مشترک ہیں کہ جی چاہتا ہے دونوں کا ایک ہی نام رکھ دیں۔ کوؤں کو سیاستدان کہا تو شاید وہ برا مان جائیں مگر سیاستدان کو کوا کہنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہو گا کیونکہ سیاستدانوں کو پتہ نہیں اور کن کن جانوروں کے ناموں سے پکارا جا چکا ہے۔ وہ کوا کہلانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔ کس کس قدرِ مشترک کا موازنہ کریں ان دونوں عجوبہ روزگار مخلوقات میں؟

پہلی قدر مشترک جو آپ نے بھی خوب مشاہدہ کی ہو گی کہ جب کبھی کسی کوے کو کوئی گزند پہنچتی ہے تو بہت سارے کوے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور وہ ہلڑ بازی کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس نے کچھ بھی نہ کیا ہو وہ بھی اپنی غلطی ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہاں سے دم دبا کے بھاگنے میں عافیت خیال کرتا ہے۔ جیسے سیاستدان اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر کووں کی خاموش اکثریت ہر جگہ موجود ہوتی ہے، ہر جگہ اپنی پارٹی بنا کر کام چلا لیتے ہیں۔

کووں کو اگر کسی چیز سے چڑ ہے تو وہ ان کے گھونسلے کے قریب سے گزرنا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے سیاستدان اپنے بنگلے اور بنک اکاونٹ کے قریب نیب کو بھی نہیں آنے دیتے۔ یہ الگ بات کہ انتظامیہ اپنے زور پر وہاں سیاسی مداخلت کرے۔ کوے اور سیاستدان کا کام اپنی آمدنی کے ذرائع سب سے خفیہ رکھنا اور ہمیشہ ان میں اضافہ کرنا ہے۔ دونوں اصناف کو اپنا کنبہ اور ذاتی مفاد نہایت عزیز ہوتے ہیں۔ ہاں جہاں بڑے عہدے کی پیشکش ہو وہاں یہ سیاستدانوں سے اچھے نکلتے ہیں کہ اپنے بھائی کی قربانی نہیں دیتے جب کہ سیاستدان بڑے عہدے کی خاطر اپنے بیمار بھائی کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور انتظامیہ سے ساز باز کر لیتے ہیں، سرداری حاصل کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جسے اخلاقیات کی زبان میں غداری کہا جاتا ہے اور اگر پھر بھی نہ ملے تو سمجھوتہ کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے، جان جائے پر کرسی اور دمڑی نہ جائے۔ اس ایک لحاظ سے تو کوے سیاست دان سے بہت ہی اچھے ہیں کہ کرسی اور حکومت کے حصول کی خاطر بیرونی طاقتوں کے پاس نہ اپنے بچے گروی رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں۔

دوسروں کے درختوں پر اپنا حق جمانا اور جتانا کووں کا پرانا شیوہ ہے۔ کسی بھی خالی مکان، دکان اور پلاٹ پر جس طرح سیاستدان قبضہ کرتے ہیں بعینہ کوے بھی خالی درختوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔ یہ کسی درندے یا پرندے سے نہیں ڈرتے صرف بندوق سے ڈرتے ہیں۔ اور وہ بھی اتنا کہ بس بندوق کی نالی ان کی طرف کر دیں تو یہ جا وہ جا، پُھر سے اڑ جاتے ہیں۔ ان کی یہ قدر بھی سیاستدانوں میں موجود ہے۔

کھانے میں بھی یہ دونوں بے مثال ہیں کیونکہ ان کا اپنا تو کچھ بھی نہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنا کھانا ہوتا ہے، وہ اس مقولے پر عمل کرتے ہیں کہ کمائے گی دنیا اور کھائیں گے ہم۔ وہ سب کچھ ان کا ہی تو ہے جو دوسروں کا ہے۔ یہ اپنے پاپی پیٹ کے لئے معصوم بچوں سے بھی چھین کر کھانے سے دریغ نہیں کرتے۔ معصوم عوام ہی دراصل ان کے لئے کھانے کا بندوبستی کرتی ہے۔ سیاستدان کی طرح یہ بھی صبح سویرے گھر سے نکل جاتے ہیں اور پھر سارا دن حلال حرام کی تمیز کئے بغیر کھابے اُڑاتے رہتے ہیں۔ کسی بچے سے روٹی چھین رہے ہیں تو کسی مزدور کے سر پر لدی ٹوکری سے کچھ چرا رہے ہیں۔ کبھی کسی بوڑھی ضعیف خاتون کا حق چھین رہے ہیں تو کبھی جوان کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرح سب کچھ خود کر رہے ہوتے ہیں اور شور مچا کر خود کو مظلوم بھی ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی پکڑے جائیں تو پھر ایک دم بیمار پڑنے بلکہ بے ہوش ہونے کا بہانہ بھی کر سکتے ہیں کہ پکڑنے والا رحم کھا کر انہیں چھوڑ ہی دیتا ہے اور یہ اڑ کر شاخ پہ بیٹھ کے اس کا منہ چڑانے لگتے ہیں۔ (مضمون میں سیاستدان سے مراد کوئی مخصوص سیاستدان نہیں، صرف وہ مفاد پرست ٹولہ ہے جس نے سیاست کے نام پر ہمیشہ اپنے مفاد کو پاکستان کے مفاد پر ترجیح دی)۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.