براؤزنگ زمرہ

لوگ کہانی

کچھ نامکمل خواہشیں

ہم روزمرہ زندگی میں بہت سے مصیبت زدہ لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی کچھ وقت نکال کر ان کی پریشانیوں کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں آپ کو دس سالہ زبیر خالد کی کہانی سناتا چلوں جو میکڈونلڈز کے باہر غبارے بیچتا ہے۔ ایک دن گھر واپسی…

مائی عیدو، ماضی کا ایک کردار

اس کی عمر ستر پچھتر سال کے درمیان، جسم دبلا پتلا، قد لامبا، سر پہ سفید بالوں کا گچھا جس میں کہیں کہیں کوئی پرانی لگائی مہندی کا رنگ بھی نظر آ جاتا، سردی ہو یا گرمی ایک ہی پرانی شلوار قمیض پہنے جس میں کہیں کہیں پیوند لگے ہوتے، لمبے سوکھے…

گھڑیوں والی نہر

گھڑیوں والی نہر شہر اور مختلف قصبوں کو ملانے والی سڑک سے ملحقہ نہر ہے جس پر یہ چائے کا ڈھابہ ہے۔ شہر آنے جانے والے لوگ یہاں سے چائے پیتے اور نہر کا نظارہ کرتے ہیں جن میں بندہ سر فہرست ہے۔ چائے کا کپ اٹھائے میں نہر کے کنارے کی طرف جا ہی رہا…

اتوار کے دن کام پر نہیں آٰؤں گا

پہلا حصّہ "سلیم! اتوار کو آنا ہے کام پر لازمی۔" "سہیل بھائی، آپ کو پتا تو ہے میں اتوار کو نہیں آتا" "یار سلیم، بہت ضروری ہے۔ منڈے (Monday) کو گاڑی دینی ہے۔ کچھ بھی کر آجا یار۔" "سہیل بھائی! میں پورا ہفتہ دن رات کام کرلوں گا پر اتوار کو نہیں…

قبرستان سے براہ راست

جسامت میں ایک دبلا پتلا انسان ہوں مگر عمر بڑھنے کے ساتھ تن سازی کا خیال آیا تاکہ دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل سکوں۔ اس مقصد کے لئے ڈیڑھ سال پہلے ایک جم جوائن کیا۔ اب روز شام کو شوق سے جم جاتا اور ورزش کرتا ہوں۔ ایک دن جم جا رہا تھا تو سڑک پر…

قسمت کا کاغذ

اماں، مبھے بھی سکول جانا ہے۔ گیلی مٹی کو گوندھتی ہوئی رجو کے کان میں یہ آواز کسی گھنٹی کی طرح گونجنے لگی۔ اس کے چھہ سالہ بیٹے کی خواہش اس کے ذہن پہ بجلی بن کے گری۔ وہ بولی جیلے پتر (بیٹے کا نام جمیل تھا، مگر غربت مستقبل نہیں نام بھی چھین…

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے، ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے

بردرانِ عزیز، میں معذرت چاہتا ہوں میرے پاس اس سے زیادہ القابات نہیں جس سے میں معززین کو نواز سکوں۔ کل رات جب میں آج کی تقریر کی بابت پریشان تھا اور ملک کے نامور مقررین کی اپنے کمرے میں لگے آئینے کے سامنے نقل اتارنے کی کوشش کررہا تھا تو…

سلطنتِ‌ بیانیہ کا شریف النفس بادشاہ

قصہ گو بیان کرتے ہیں کہ سلطنتِ بیانیہ میں ایک شریف النفس بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ کو اپنی رعایا کے لیے بے پناہ فلاحی کاموں نے مقبول کر رکھا تھا لیکن تھا وہ بادشاہ ہی اس لیے رعایا سے کٹ کر اپنے محل میں رہتا تھا جس کی وجہ سے اپنے خلاف…

یہ محبت فساد کروائے گی

ہم نوجوان جب کسی موضوع پر سوچتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچتے  ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے سوچ کے ساگر میں کود کر بالآخر کوئی ایسی بات نکال لی ہے جو آج تک کسی مفکر، دانشور نے بھی نہ سوچی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی بذاتِ خود ایک عظیم…

تہواروں کی اہمیت اور لوک ورثہ کا تاریخی کردار

زندگی صرف خوشیاں پانے اور بانٹنے کا نام ہے۔ ہمارا آپس میں میل جول نہ صرف ہمارے درمیان پیار و محبت کو بڑھاتا ہے بلکہ یہ مختلف زبانیں سیکھنے، ثقافتوں کو جاننے، سمجھنے اور سوچنے کی استعداد کو پروان چڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔…