براؤزنگ زمرہ

قصہ ماضی

سولہ دسمبر۔ اکہتر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکتوبر 1954میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی اور اس اقدام کو دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے سند ھ چیف کورٹ میں للکارہ تھا۔ اس دوران جب چیف جسٹس کانسٹنٹائین کی عدالت میں مولوی…

تحریک پاکستان اورمیو قوم

ایک ہزارقبل مسیح سے بھی پہلے سے ہندوستان پربڑی شان وشوکت سے ہزاروں سال حکمرانی کرنے والی میو قوم کی تاریخ ہندوستان اور دنیا کے عظیم حکمرانوں کی داستان ہے۔راجہ بکرما جیت جس سے سن بکرمی مشہور ہواتنوار(تومر) نسل میو تھا۔ہندوستان کاعظیم راجہ…

ہندوستان، پاکستان کے بعد کیوں آزاد ہوا؟

برطانوی پارلیمنٹ نے بر صغیر کی آزادی اور انتقال اقتدار کی تاریخ 30جون 1948مقرر کی تھی اور اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو آخری وا ئسرائے بنا کر ہندوستان بھیجا تھا جنہوں نے مارچ 1947میں اپنے عہدہ کا حلف…

میو قوم اور انقلاب 1857ء

1857ء میں میرٹھ سے انگریزوں کے خلاف آزادی کی لہر اٹھی تو دلی کے جنوب میں واقع اور ہریانہ کے ساتھ مشرقی راجستھان کے الور اور بھرت پور اضلاع میں پھیلے ہوئے میوات کے عوام نے اس جنگ میں اس جوش خروش سے حصہ لیا کہ انگریزوں کو ہر طرف میو دکھائی…

شہداء ماڈل ٹاؤن کے زخم تازہ ہیں

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے سانحات برپا ہوئے ہیں جن پر انسانیت تڑپ اٹھی۔ جن میں سانحہ پشاورجس میں سیکنڑوں معصوم بچوں کودہشت گری کا نشانہ بنایا گیا، کراچی میں بلدیہ فیکٹر ی میں مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اسی طرح 17 جون 2014 کو حکومتی دہشت…

جیتی ہوئی بازی

پلاسی کی جنگ کے بعد سراج الدولہ کو گرفتار کرکے کلائیو کے اشارے پر میرن نے نہایت درد ناک طریقے سے قیمہ قیمہ کرا دیا۔ اس کی لاش کو تمام شہر میں ہاتھی پر رکھ کر پھرایا گیا۔ جس کے ہمراہ ہزاروں انسانوں کی آہ و زاری نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔…

جدید ٹیکنالوجی اور مکتوب نگاری کا عمل

سائنس کی فیوض و بر کات کے باعث جہاں دنیا انگلیوں کے پوروں پر سمٹ آئی، وہیں مکتوب نگاری کا عمل نہ صرف متروک ہو کر رہ گیا بلکہ اس صنف کے ذریعے ادب میں تخلیق کا دروازہ بھی عملاً بند ہو کر رہ گیا ہے۔ جانگسل تنہائیوں کا کرب، ہجر و فراق کی…

آزادی کے لئے جہاد کا بیڑہ اٹھانے والا راجہ 

یہ 1959کے اختتام کی بات ہے، جب میں دلی میں ایک اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ ایک ملاقات میں بنے بھائی، سجاد ظہیر نے پوچھا کہ تم پرانے مارکسسٹ انقلابی، راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ سے نہیں ملے، جنہوں نے دو سال قبل عام انتخابات میں جن…

جانے والے تو بہت یاد آئے گا

؎ کاش دیکھوکبھی ٹوٹے ہوئے آئینوں کو دل شکستہ ہوتو پھراپنا پرایا کیا ہے قائداعظم یونیورسٹی میں واقع طبیعیات کے جس مرکز کا نام سنہ 2016 میں پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی منظوری دی گئی تھی اب اس کا…

12 مئی کے بعد کا کراچی

بارہ مئی 2007ء ہفتے کا دن چیف جسٹس افتخار چودھری کی کراچی آمد پر ان کا استقبال کرنے کا دن تھا۔ جب ایک منصف کو انصاف کیلئے عوامی عدلت کا سہارا لینا پڑا۔ سارے ملک کے وکیل چیف جسٹس کے ساتھ قدم سے قدم ملائے کھڑے تھے۔ یہ وہ دن تھا جب انہیں کراچی…