کشکول

...سنئے انکل خدا کے لیے۔۔۔ ہماری بات تو سُن لیجیے۔۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ کچھ کھانے کو مل جائے گا۔۔۔ اللہ کے نام پر کچھ پیسے دے دیں۔۔۔ اللہ آپ کو حیاتی دے، آپ کے بچے جیئں۔۔۔ .تین چار دن ہوگئے۔۔۔ کچھ بھی کھانے کو نہیں ملا۔۔۔!!!س اگر آج بھی…

انسانیت کی تلاش میں بے زباں جانور

(پہیوں تلے کچُلی جانے والی بے زبان مخلوق کے نام) *** انسان نہیں تو کیا ہوا دل دھڑکتا میرا بھی ہے مانا، کہ جی نہیں سکتا میں تمہاری طرح پر اس زندگی پر حق ، میرا بھی ہے ! . سنو۔ ۔ ۔ ٹھہرو زرا رُک جاﺅ کچھ باتیں تم سے کرنی ہیں باتیں ہیں احساس کی…

وہ جو بنِ کھلے مُر جھا گئے

(کلام اُن بچوں کے نام جنہیں زیادتی کا  نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے مارردیا گیا) تتلیوں کے رنگ سی جگنوؤں کے پنکھ سی وہ معصوم تھی ۔ ۔ ۔ بہت چھوٹی کچھ پانچ، چھ برس کی بسے خواب تھے آنکھوں میں لہجے میں، سانسوں میں جھلکتے عزم تھے، ارادے بھی…

ڈھونڈ کر پیاسوں کو، پلانے لگا ہوں پانی

ڈھونڈ کر پیاسوں کو، پلانے لگا ہوں پانی سمجھی ہے جب سے میں نے، کربلا . ٹھکرایا گیا ہوں زمانے کا، پائی ہے میں نے بے دری اے کاش چڑھ جائے ان ویرانوں میں، کچھ رنگ مجھ پر حیدری . فنا ہوئیں سب مشکلیں، آفتوں کی ہر بلا ٹلی نام لے کر اللہ کا، جو…

چلو اس عید، چُرا لیں آنسو کسی کی آنکھوں سے!

چلو اس عید۔ ۔ ۔ !چُرا لیں آنسو کسی کی آنکھوں سے ،عیدالضٰحی آئی ہے کیسی دھوم دھام سے مناتے ہیں مسلمان اسے بڑی شان سے ،کہیں بنتی ہے کلیجی تو کہیں سرِی پائے ،مزے، مزے کے پکوان یہ عید دستر خوان پر لائے ہلکے، پھلکے رنگوں کی ،پوشاک ہے پہنی جاتی…

’’آﺅ خوشیاں بانٹیں‘‘

غذائی قلّت سے منسوب پہلی پاکستانی نظم کیا کبھی اُن معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے رنگ ہیں ۔۔۔ نہ ہی ہنسی نہ آنکھوں میں چمک ہے، نہ دلوں میں بسی کو ئی خوشی جسم خالی ہیں اُنکے "قوّتوں ” سے ناتوانیوں کے طوفاں میں ہے ناﺅ زندگی کی پھنسی اور تمہیں…

پنچھی نامہ

گزرے دنوں ۔۔۔ وہ جو پرندے گئے جاں سے! *** زندگی حَسین تھی خوبصورت رنگین تھی میں اُڑتا تھا تازہ ہوائوں میں ، لیتا تھا سانسیں ، کھُلی فضائوں میں اُڑتا پھرتا تھا میں خوب چہچہاتا ، پروں کو پھیلاتا کبھی اُوپر چلا جاتا کبھی نیچے آجاتا کبھی دائیں…

ٹوٹتے، بکھرتے رشتوں کی کہانی!

زیادہ پرانی نہیں، یہ گزشتہ جمعرات ہی کی بات ہے کہ جب دروازے پر ہونے والی کھٹ کھٹ سے آنکھ کھل گئی تھی ، دن کے ڈیڑھ یا دو بجے ہوں گے اور۔۔۔ لیکن ایک منٹ، ذرا ٹھہر جا ئیے۔۔۔!! بھئی دن کے اُس پہر میں ’سو‘ کیوں رہا تھا، اسکی وضاحت یہاں بیان…

چلو پھر سے مُسکرا دیں!

عید آئی ہے کیسی دھوم دھام سے مناتے ہیں مسلمان،س اسے بڑی شان سے * کہیں بنتی ہیں سوّیاں تو کہیں شیر خورما سجتا ہے دستر خوان پر،س بریانی اور قورمہ * نت نئے رنگوں کی پوشاک ہے پہنی جاتی رنگِ حنا ہاتھوں کی،س زینت بھی ہے بڑھاتی * ہنسنا، ہنسانا،…

!!بات کچھ اور تھی۔۔۔

(مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے آجر اور اجیر کے رشتے کو مضبوط کرتا ایک افسانہ) ٭٭٭٭٭ نام تو دراصل ان کا ‘’استفسار مقصود لکھنوی’’ تھا مگر کیونکہ لوگوں کو سمجھنے اور بولنے میں پریشانی کا سامنا رہتا تھا، اس لیے دفتر میں سب انہیں بچپن  کے…