نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا

صبح اٹھتے ہی رؤف احمد نے بالوں کو خضاب لگا کر کچھ دیر سکھانے کیلئے چھوڑا اور ساتھ محمد رفیع کا گانا گنگنانا شروع کردیا۔ نہانے کے بعد اچھی خوشبو لگا کر اور سفید شلوار قمیض زیب تن کرکے سامان سے بھرا بیگ اٹھایا۔ کمرے سے نکل کر باہر سڑک پر…