دشنام طرازی کی سیاست

لو جی بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور پھر وہی دشنام طرازیاں اور گندی سیاست۔ اب بات پمفلٹ تک ہی محدود نہیں کتاب تک آن پہنچی ہے۔ ریحام خان نے انتخابات سے قبل اپنی کتاب منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما حمزہ عباسی کے مطابق…

جدید ٹیکنالوجی اور مکتوب نگاری کا عمل

سائنس کی فیوض و بر کات کے باعث جہاں دنیا انگلیوں کے پوروں پر سمٹ آئی، وہیں مکتوب نگاری کا عمل نہ صرف متروک ہو کر رہ گیا بلکہ اس صنف کے ذریعے ادب میں تخلیق کا دروازہ بھی عملاً بند ہو کر رہ گیا ہے۔ جانگسل تنہائیوں کا کرب، ہجر و فراق کی…

جنداں توبہ کر

نہ کریا کر۔۔ نہ کریا کر۔۔ بابا کرمو نے جنداں کو مخاطب ہو کر کہا۔ نہ۔۔ کیوں نہ کروں۔ جے کون سا انساپ ہے۔ کسی کو تو دیوے کوٹھیاں بنگلے۔۔۔ اور۔۔لمبی،، لمبی گاڑیاں۔ اور ایہاں جھگی میں پینے کو پانی بھی نہیں۔۔ تو۔۔ کہے وہ بڑا انساپ کرنے والا ہے۔…

انقلاب

ہر طرف دھول ہی دھول۔۔ شور اتنا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔۔۔ خاندان شریفیہ کے چشم و چراغ، غریبوں کے غم خوار،  جمہوریت کے علمبردار،  داعی انقلاب۔ نواز شریف ایک بگھی میں سوار۔۔۔ جمہوریت،  جمہوریت پکارتے ہوئے۔۔ دو رویہ جم غفیر کے درمیان سے…

شہنشاہیت نما جمہوریت

جمہوریت شہنشاہیت کے اصولوں پر چلائی جانے لگے تو نہ صرف ایک خاندان کے گھر کی لونڈی بن جاتی ہے بلکہ اپنی اہمیت اور قدر بھی کھو دیتی ہے۔ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ تاریخ کے اوراق میں زندہ تو رہتے ہیں لیکن جگمگاتے ستارے کی مانند نہیں…

ملکی مفادات اور حکمت عملی 

تذویراتی، سفارتی اور خارجہ حکمت عملی مفادات کا نام ہے۔ اس میں کبھی یکسانیت نہیں رہتی۔ وقت اور حالات کے بدلاؤ میں اس میں بھی تبدیلیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔ سی آئی اے، پینٹا گون اور وائٹ ہاؤس کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ…

جاکیواڑہ کا رونالڈو

کالو نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا، "اڑے! ام نے آج تک تم سے کچھ نہیں مانگا۔ واللہ! آج ام لوک کا پائنل میچ ہے۔ بڑا، بڑا مچھندر امارے کھلاپ کھیلے گا۔ مولا! بس آج جیت کے سوا کچھ نہیں مانگتا تم سے۔" کالو نے اس دعا کے بعد اپنے ہاتھوں کی دونوں…

پانامہ کا ہنگامہ اور سیاسی رویے

پانامہ کا ہنگامہ ہیجان انگیز ثابت ہوا۔ ملک میں سرگرم ہر سیاسی جماعت نے پانامہ کا راز کھلتے ہی سیاسی فضا کو مکدر کرنے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ شکوہ جواب شکوہ کا سلسلہ دراز ہوا تو کہیں ڈھکے چھپے اور کہیں صاف لفظوں میں ملکی اداروں کو…

مختصر کہانی: شکیل اور اجی بھائی

اے سکیل بانکڑے کو کیلی مار۔ سالا! اس پہ بیٹھو تو چوں چوں کرتا ہے۔ ایک کیلی مار اس کو جما کر، اس کی چوں چوں تو بند ہووے۔ سالا! کچھ تو کام کر۔ اجی بھائی! یہ اب کسی کام کا نہیں۔ شکیل نے اجی بھائی سے کہا دیکھ سکیل تو میرا منسی ہے کیا؟ مسیر…

جمہوریت بیگم

جمہوریت بیگم پیروں میں گھنگھرو باندھ کر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ اصغری بائی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اصغری بائی نے جمہوریت کی طرف ہاتھ بڑھا کر بلائیں لیتے ہوئے کہا، "چندے آفتاب، چندے ماہ تاب، میں صدقے، میں واری۔ اللہ نظرِ بد سے بچائے۔۔۔…